کشمیر:اے واک تھُرو ہسٹری!

کشمیر اے واک تھرو ہسٹری (kashmir a walk throuh history)خالد بشیر صاحب کی انگریزی زبان میں لکھی گئی تصنیف ہے۔ خالد بشیر کا تعلق وادی ِکشمیر سے ہے۔ موصوف تحقیق و تصنیف کے ساتھ ساتھ شعر وشاعری کا بھی شغف رکھتے ہیں۔آپ کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروسزکے ممبر بھی رہ چکے ہیں۔ اس کتاب سے پہلے تاریخ کشمیر پر ان کی ایک اور کتاب بھی کشمیر: ایکسپوزنگ دی میتھ بیہاینڈ دی نیریٹیو (kashmir: exposing the myth behind the narrative)قارئین نے خاصی پسند کی ہے۔ مذکورہ کتاب میں انہوں نے کشمیرکی تاریخ کے چند واقعات کو منفرد انداز میں قلم بند کیا ہے۔کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ مصنف نے غیر ریاستی اور غیر مسلم مورخین کے حوالوں سے کشمیر کے چندتاریخی حقائق کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے اورچند ذیلی عنوانات کے تحت مختصر اور جامع انداز میں واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ خاص طور سے ڈوگروں کے مظالم اور نیشنل کانفرنس کے قائدین کی دغا با

خوشیوں ،خواہشات اورتمنائوں کی موت

پوری دنیا فی الوقت منشیات کے خوفناک زہر کے حصار میں ہے۔ نئی نسل اپنے تابناک مستقبل سے لا پرواہ ہوکر تیزی کے ساتھ اس زہر کو مٹھائی سمجھ رہی ہے اور کھائے جارہی ہے۔اس کے استعما ل پر پابندی کے قوانین بظاہر موجود ہیں،اس کے استعمال کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی تہذیب کی۔ انسان نے اس کا استعمال کب شروع کیا اور سب سے پہلے کس نے منشیات کا استعمال کیا اس بارے میںصحیح اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے تاہم اس برائی نے جتنی تیزی سے اپنی جڑیں پھیلائی ہیں اس کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ تمام مذاہب نے اس کے استعمال کو منع کیا ہے۔ منشیات ایک ایسا میٹھا زہر ہے جو انسان کو دنیاو آخرت سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ اس کو استعمال کرنے و الا ہر شخص حقیقت سے فرار حاصل کرتا ہے اور خیالوں میں بھٹکتا ہے۔منشیات کا نشہ پہلے پہل ایک شوق ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ ضرورت بن جاتا ہے۔ نشے کا عادی شخص درد ناک کر

کیرالہ کی چیرامن جامع مسجد

آج سے تقریباً ساڑھے چودہ سو سال قبل جب نبی آخر الزمان حضرت محمدؐ نے عرب کی سرِ زمین پر ، جو ہر لحاظ سے گمراہی، جہالت،تکبر اور دیگر خرافات میں مکمل طور پر ڈوب چکی تھی، وہاں دینِ حق قائم کرکے عرب میں کیا بلکہ پورے عالم میں خوشگوار انقلاب لایا، جس سے لوگوں کی حالت ہی بدل گئی۔چونکہ اہلِ عرب کو حق کی بات سمجھانا نہایت دشوار تھا ، لہٰذا اس میں کافی محنت درکار تھی۔آخر کار ہمارے پیارے نبی ؐ نے ان تھک محنت کرکے عرب کے لوگوں کو راہِ راست پر لایا ،جس کیلئے آپ کو بے شمار تکالیف سینے پڑے۔ اسلام کی اشاعت میں مساجد کی بڑی اہمیت ہے،کیونکہ یہ نہ صرف عبادات کا مرکز ہوتی ہے ،بلکہ یہ مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کا ایسا مرکز و محور ہے، جہاں سے ان کی تمام مذہبی، اخلاقی،اصلاحی ،تعلیمی و تمدنی، ثقافتی وتہذیبی،سیاسی اور اجتماعی امور کی رہنمائی ہوتی ہے۔اْس دور میں مسلمانوں کے تمام معاملات مس

تازہ ترین