بنتِ حوا کے ارمانوں کا یوں خون نہ کریں

یوں تو نکاح کرنا سنت مؤکدہ ہے مگر ہمارے اعمال وافعال اور نظریات سے اب شادیاں بارگراں بن چکی ہیں اور جوان لڑکے و لڑکیاں اب شادی جیسے پاک رشتے سے منہ موڑ رہے ہیں۔ اس کے وجوہات رسومات بد کے علاوہ شادی بیاہ کے پروگراموں میں مغربی تہذیب وتمدن کی تقلید ہے ۔ہم اب شادیاں اسلامی حدود کے اندر انجام نہیں دیتے ہیں اور ہم اسلامی سادگی کے سارے اصولوں کو پھلانگتے ہوئے دوسری تہذیبوں اور تمدنوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب شادیوں پر ہزاروں روپے کے بجائے لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں جس کا اثر سیدھے غریب ،مفلوک الحال، یتیموں اور بیواؤں پر پڑتا ہے جن کی بیٹیاں اب مہندی رچنے کے انتظار میں یا تو بوڑھی ہوچکی ہیں یا کئی بیٹیوں نے رسومات بد سے تنگ آکر خود کو تختہ دار پر لٹکایا ہے۔ جن لوگوں کے پاس ذریعہ معاش نہیں ہے، ان کا رسموں رواجوں نے جینا حرام کردیا ہے اور جب تک نہ آج کی شادیوں میں لاکھوں روپ

تحفۂ علمدارِکشمیر | کلام شیخ نور الدین نورانی کشمیریؒ کا منظوم فارسی ترجمہ

وادیٔ کشمیر کے معروف قلم کار‘ادیب اور اقبال شناس پروفیسر بشیر احمدنحوی صاحب اپنے ایک قلم برداشتہ مضمون بعنوان’’فارسی شیرین زبان‘‘ میںیوں رقم طراز ہیں کہ :’’اس بات پر ماہرین لسانیات میں سے اکثریت کا اتفاق ہے کہ دنیا میں جو زبانیں بولی جاتی ہیں‘ ان میں لسانی حلاوت‘ رنگ و آہنگ کی شیرنی اور فنی محاسن کے اعتبار سے زبان فارسی سہل الفہم ‘ سلیس سادہ او رملائم زبان ہے ‘مغلق الفاظ‘ پیچیدہ تراکیب‘ ثقیل محاورات سے آزاد فارسی اس دیس میںجنم لے چکی ہے ۔جسے ایران کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اپنے ابتدائی ایام سے ہی فارسی علم و آگہی‘ فصاحت و بلاغت‘نکتہ آفرینی اور سب سے بڑھ کر اخلاق آدمیت کا ترجما ن بھی او ربڑھ چڑھ کر علم بردار بھی رہی ہے‘‘۔(بحوالۂ سرحدِ ادراک)  ایران کے علاوہ یہ شیرین زبان وس

ایشیا پیسفک؛ اپ 10ٹیکنالوجی کمپنیاں

ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہر کمپنی کو، چاہے وہ مقامی ہو یا ملٹی نیشنل، اسے کہیں نہ کہیں اور کبھی نہ کبھی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی ضرور ت پڑہی جاتی ہے۔ ٹیکنالوجی کو فروغ دینے والی کمپنیوں کے نہ صرف حجم میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ان میں سرمایہ کاری بھی بڑھ رہی ہے، جس کی بنیادی وجہ ان کی تیز تر ترقی ہے۔ اس ضمن میں ایشیا پیسفک کا خطہ بھی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مالا مال ہے۔ ڈیلائیٹ(Deloitte Touche Tohmatsu Limited) نامی گلوبل مینجمنٹ کنسلٹنگ فرم دنیا کی چار بڑی اکائونٹنگ آرگنائزیشنز میں سے ایک ہے جبکہ ریونیو اور پیشہ ورانہ افراد کی تعداد کے لحاظ سے یہ دنیا میں سب سے بڑا پروفیشنل سروس نیٹ ورک ہے۔ ڈیلائیٹ کی ’’2018 Technology Fast 500 Asia Pacific‘‘رپورٹ کے مطابق اس خطیمیں چین کی ’Ke.com‘ تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سر فہرست ہے۔ بیجنگ میں موجود

کشمیر’سرنو انضمام‘ کے ادھورے ایجنڈاکا شکار تو نہیں ہوگا! | آبادیاتی اکثریت کو سیاسی اقلیت میں تبدیل نہ کریں،ایک اور تقسیم ہی کریں

ٹھیک ایک سال پہلے بی جے پی نے وہ سب کچھ کیا جس کے بارے میں کشمیر میں کسی نے کبھی وہم وگماں تک نہیں تھا کہ کوئی ایسا کرپائے گا۔ آئینی نزاکت جائے بھاڑ میں ، حقیقت یہ ہے کہ یہ کیا گیا ہے۔ تب ایسا اپروچ تھا اور جب سے ہی مسلسل یہی رویہ رہا ہے۔  بی جے پی کے پیش رو جن سنگھ نے 1951 میں جموں میں "ایک ودھان ، ایک پردھان ، ایک نشان" ایجی ٹیشن شروع کی تھی اور اس کے بعد پچھلے 70 برسوں سے یکتا عقیدت کے ساتھ اس کا پیچھا کرنے کے بعدبی جے پی نے آخر کار اس کو5اگست2019کو ہندوستانی حکومت کی پالیسی بنا دیا۔ ایک سال بعدیہ نظریہ کے لحاظ سے متنوع سیاسی جماعتوں ، عدلیہ کے خود مختار اداروں اور ریگولیٹرز ، ذیلی قومی حکومتوں اور بلاشبہ قومی میڈیا اور ملک کی سول سوسائٹی کیلئے کشمیر کے بارے میں قومی پالیسی بن گئی ہے۔ چھوٹی موٹی پریشانیوں جیسے منسوخی کاطریقہ کار، 4G کی بحالی ، مرکزی دھارے میں شا

سرکارکی نظرمیں5اگست اہم کیوں؟

فضائے تیرہ کو نور عمل سے دور کرو پھر آگے آگ کے دریاؤں کو عبور کرو لیجیے صاحب رام مندر کی بنیادرکھ دی گئی ۔ہمارے پردھان سیوک نے5اگست کو اجودھیامیں وارد ہوکررام للا کے درشن کیے اور بھومی پوجن کے مذہبی فریضہ کی’پردھانی‘بھی خودہی کی۔ اسی دن مودی نے قوم کو خطاب کیا اور کہا کہ’ انڈونیشیا، ملیشیا تھائی لینڈ، کمبوڈیا،میں ہی نہیں بلکہ رام کی پوجا کئی مسلم ملکوں میں بھی ہوتی ہے۔رام نام ہے انصاف کا،ظلم سے جہاد کا،دنیا برائی مٹانے یا کم کرنے کا۔‘ وزیر اعظم نے اپنی تقریرکے ذریعہ یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ اب ہمارے ملک میں پوری طرح سے ’رام راج‘ لاگو ہو جائے گا۔ گودی میڈیا جوبرسوں سے دن رات ’جھوٹے پرچار‘کے ذریعہ حکومت کی ’شبیہ سازی‘میںمصروف ہے،وہ’ستیہ میو جیتے‘ کی جانب کس انداز میں پلٹتاہے اورحقیقت بیانی کے ذریعہ

جنگلی حیات کیلئے آبِ حیات

جموں وکشمیر میں جنگلات کے دائرے میں اضافہ کے لئے اِنتظامی کونسل کی حالیہ میٹنگ میں محکمہ جنگلات کی مربوط ’’گرین جے کے مہم 2020‘‘  کی تجویز کو منظوری دی گئی۔اس مہم کا مقصد جنگلات کو وسعت دینا ہے اور اس کے تحت سال2020-21 کے دوران خستہ حال جنگلی علاقہ کے 15,000ہیکٹر اراضی پر 100لاکھ پودے لگائے جائیں گے۔پچھلے مہینے سرکار کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ مذکورہ مہم میں پنچایتی راج ادارے ، متعلقہ محکمے ، تعلیمی ادارے ، فوج ، نیم فوجی دستے ، پولیس اور سول سوسائٹی کی شرکت طلب کی جائے گی جس کے لئے محکمہ جنگلات ضرورت کے مطابق پودے فراہم کرے گا۔ اگر حکومت کا ’’گرین جے کے‘ ‘منصوبہ کامیاب رہا اور اس سے مطلوبہ اہداف حاصل ہوگئے تو جموں کشمیر کے جنگلات میں وسعت پیدا ہونا یقینی ہے جو ہر صورت میںیہاں کے ماحولیات کیلئے ایک بہتر صورتحال ہوگی

مایوسی۔۔۔!

ہر انسان کی زندگی میں کم از کم ایسے تین مرحلے آتے ہیں جب وہ شدید مایوسی کا شکار ہوتا ہے ۔ایک جب زندگی اسے مسلسل ناکامی سے دوچار کرتی ہے اور وہ تھک ہار کر جدوجہد ترک کردیتا ہے ۔دوسرا جب وہ زندگی میں کامیابی کو چھونے لگتا مگر اچانک اپنے سے زیادہ ذہین اورکامیاب لوگوں کو دیکھ کر اُن سے حسد کرنے لگتا ہے اور دلبرداشتہ ہوکر بیٹھ جاتا ہے۔اور تیسرا تب جب وہ محبت میں ناکام ہوتا ہے۔دنیا میں ناکام لوگ تلاش کرنا مشکل کام نہیں ،ایک ڈھونڈو تو ہزار مل جاتے ہیں ۔مایوسی ان میں ایسے کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے کہ بعض اوقات اس مایوسی کے اثرات کے مربع فٹ تک محسوس کئے جاسکتے ہیں ۔تاہم اس شخص (ناکام شخص)کو ہی کلی طور پر مورد الزام ٹھہرانا ٹھیک نہیں کیونکہ یہ دنیا اس قدر سفاک ہے کہ یہاں کوئی بھی شریف آدمی زیادہ عرصے تک محض اپنی شرافت کے بل بوتے پر زندہ نہیں رہ سکتا ہے۔ضروری ہے کہ شرافت کے ساتھ ساتھ اس کے پاس کو

ڈوگرہ حکمران اور اُردوزبان وادب

کشمیرمیں چودھویں صدی تک سنسکرت نے نہ صرف علمی وادبی خدمات سرانجام دینے میں نمایاں کرداراداکیابلکہ دربارمیں بھی اس کا خاصہ دبدبہ رہا۔اس کے بعدآہستہ آہستہ اس زبان کازوال شروع ہوااور فارسی نے اس کی جگہ لے کردرباری زبان کی حیثیت اختیار کرلی۔ تقریباً چھ سوسال تک یہاں اس زبان کاغلبہ رہا۔۱۶؍مارچ ۱۸۴۶ء میں عہدنامہ امرتسرکی روسے مہاراجہ گلاب سنگھ نے جموں وکشمیرمیں ڈوگرہ حکومت کی بنیاد رکھی ۔ڈوگرہ حکومت کے ابتدائی چندبرسوں میں اگرچہ سرکاری زبان فارسی ہی رہی ،لیکن آہستہ آہستہ اردوکاچلن بھی عام ہوتاجارہاتھا۔تعلیمی اداروں اور عوامی حلقوں میں اردومقبول ہورہی تھی ۔اس سلسلے میں ڈاکٹر برج پریمیؔ لکھتے ہیں:’’ڈوگرہ سلطنت کے بانی مہاراجہ گلاسنگھ کے عہدمیں ریاست کی درباری زبان فارسی تھی، لیکن خطہ جموں کے بیشترعلاقوں میں ڈوگری زبانوں کابول بالا تھا جو لسانی اعتبارسے پنجابی اوراردو کے قریب ہے

کیا اُردو کا بدل اب سنسکرت سے ہو گا؟

 اُتراکھنڈ کی بھاجپا سرکار نے2010 میں ہی صوبہ میںہندی کے بعدسنسکرت کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کا اعلان کیا تھا۔ پہلے یہ علاقہ یو پی کا حصہ تھا، جس کی دوسری سرکاری زبان اردو تھی۔ بھاجپا سرکار نے ریلوے انتظامیہ سے کہاکہ اُن کے حکم کے مطابق کسی بھی صوبہ کے ریلوے سٹیشنوں پر انگریزی اور ہندی کے بعد وہاں کی دوسری زبان میں بورڈ لکھے جائیںگے۔اس لئے ریلوے حکام نے سٹیشنوں کے بورڈوں پر سے اُردو ہٹا کر سنسکرت لکھوانی شروع کر دی۔ سٹیشنوں یا بس اڈّوں کے بورڈ مسافروں کی سہولت کے لئے ہوتے ہیں۔ اکثر الگ الگ زبانوں میںبورڈ اس لئے ہوتے ہیں تاکہ اُن مسافروں کو جو کسی دوسری مخصوص زبان سے واقف نہیں ہوتے ،کو اپنی زبان میں ضروری جانکاری حاصل ہوجائے۔ ہمیں اب یہ بھی پتہ چل رہا ہے کہ ایسے کتنے لوگ ہوںگے جو ہندی اور انگریزی سے ناواقف ہوں گے اور صرف سنسکرت ہی پڑھ سکتے ہیں۔ آخر اُتراکھنڈ میں کن لوگوں ک

بے روزگاری ایک مصیبت

 کام اگر زندہ لوگوں کی علامت ہے تو بے کار لوگ یقیناً مُردہ ہیں۔ہزاروں بُرائیاں بے کاری کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں اور اس کی گود میں اَن گنت جراثیم پرورش پاتے ہیں۔دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں لوگ فریب خوردگی کا شکار ہیں اور وہ ہیں صحت اور خالی وقت۔کتنے ہی صحت مند جسم اور مہیا وقت رکھنے والے لوگ اس زندگی کو ایسے گذارتے ہیں کہ ان کے سامنے کوئی امید ہے نہ کوئی کام اور نہ ہی کوئی ایسا مقصد ،جس کی تکمیل کے لئے اپنی عمر کھپائیں۔زمین و آسمان کے درمیان جو کچھ ہے سب کو حق کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے اور اس دنیا میں یہ انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حق کو پہچانے اور اس کے ساتھ اپنی زندگی گزارے،ورنہ اگر وہ معمولی خواہشات کے دائرے میں پڑا رہے گا اور ہر چیز سے غافل رہے گا تو اس نے پھر اپنے حال و مستقبل کے لئے بدترین انجام چُن لیا ہے کیونکہ نفس کبھی سکون سے نہیں رہ سکتا۔اگر انسان منظم طریقے سے بھل

دفعہ370کی منسوخی کاایک سال | دلّی نے پایا کم ،کھویا بہت زیادہ

5گست 2019کونریندر مودی حکومت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور ریاست کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے دو مرکزی زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کیا۔ اس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ پچھلے سال کا مطلب کیا ہے اور یہ خطہ اب کیسا دکھتا ہے۔  اکتوبر انقلاب سے عین قبل لینن نے ٹراٹسکی سے پوچھا "اگر ہم کامیاب نہیں ہوئے تو کیا ہوگا؟" ٹراٹسکی نے جواب دیا "اور اگر ہم کامیاب ہوگئے تو کیا ہوگا؟" جہاں حکومت میںشامل ہر شخص نے لینن کا سوال ضرور پوچھا ہوگا لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکمران جماعت میں کسی نے بھی 5 اگست 2019 کی آئینی بغاوت سے پہلے ٹراٹسکی کے سوال کا جواب نہیں دیا تھا۔ 365روز گزر جانے کے بعد وادی کشمیر 300 دن سے زیادہ کے لئے بند رہی ۔ ایک سیاسی لاک جام کے تحت جنوری کے آخر تک اور پھر مارچ کے بعد وبائی لاک ڈاؤن،جو ابھی بھی جاری ہے۔اطلاعات کی رسائی پر قدغن اس قدر سخت تھی کہ مق

رسہ کشی اور مقابلہ آرائی کی لہر | کرونا ئی کثافت سے زیادہ زہریلی

اقوام عالم خاص طور مسلم ممالک میں شیطانی قوتوں کے سازشی ہتھکنڈے ایک ایسے وقت میں زور و شور کے ساتھ پروان چڑھائے جارہے ہیں،جب ساری دنیا کورونا کی وبامیں مبتلا ہے اور کئی قومیں جنگ کی تباہ کاریوں، پُر اسرا ر آگ کے حملوں،شدید بارشوں، سیلاب،اورنسلی تعصب کے چکر ویو میںپھنسی ہوئی ہیںاور معاشی بدحالی ،بے کاری،بے روز گاری ،خانہ بدوشی اور بھکمری کی حالت میں دَر بہ دَر بھٹک رہی ہیں۔ظاہر ہے کہ جہاں کرونائی قہر نے ہر خاص وعام کے ذہن سے موجودہ سائنسی و ٹیکنالوجیکل ترقی پرانحصارو اعتبار زائل کردیا ہے وہیں اس تیز رفتار دور کےترقی و خوشحالی کے تمام تر دعوے داروں کے منہ پر بھی کالک پوت دی ہے۔شائد کالک کے داغ دھبوں کو مٹانے کے لئے ترقی و خوشحالی کے یہ دعویداراب دنیا میں نئی کثافت کو فروغ دینے کے لئے نئے ہتھکنڈے اور بہانے تراش رہے ہوں، تاکہ منصوبہ بندنیا نظام پرانے نظام کی جگہ لے لیں اور نئی خرابیاںپران

خودساختہ وہم و مجبوری کا نفسیاتی عارضہ

 تعارف: ’’ اس پر فٹ بال کا جنون ہر وقت طاری رہتا ہے‘‘۔ ’’ اس کو جوتوں کا حد سے زیادہ شوق ہے‘‘۔ ’’وہ لازماً جھوٹ بولتا رہتا ہے‘‘۔ ہم یہ الفاظ ان لوگوں کیلئے استعمال کرتے ہیں جو کچھ عادات یا حرکات باربار کرتے رہتے ہیں، حالانکہ دوسروں کو ان کے اس روئے کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔عام طور سے یہ عادت مسئلہ نہیں بنتی اور کچھ کاموں میں یہ مددگار بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ مگر’کسی کام کو بار بار کرنے کا یا کسی سوچ کو بار بار دماغ میں لانے کا تقاضہ زندگی پر تکلیف دہ حد تک حاوی بھی ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کے ذہن میں تکلیف دہ خیالات بار بار آتے ہیں، حالانکہ آپ کوشش کرتے ہیں کہ یہ خیالات آپ کے دماغ میں نہ آئیں،یاآپ کے دل میں بار بار تقاضا ہوتا ہے کہ آپ کسی چیز کو بار بار چھوئیں، چیزوں کو بار بار گنتے رہیں، یا کسی ک

ہارڈ ڈسک پارٹیشننگ | انفارمیشن ٹیکنالوجی

’’ہارڈ ڈسک‘‘ کا تعارف چلئے آج ہم ہارڈ ڈسک میں پارٹیشن بنانے کی معلومات پیش کررہے ہیں ۔ ’’ہارڈ ڈسک‘‘ کسی بھی کمپیوٹر کا اہم ترین حصہ ہوتی ہے بلکہ اِس کے بغیر کمپیوٹر نامکمل ہوتا ہے۔ ’’ہارڈ ڈسک‘‘ ایک ایسی چیز ہے جس میں ’’کمپیوٹر آپریٹنگ سسٹم‘‘ ، ایپلی کیشن سافٹ وئیر، ڈاکیومینٹس، اسپریڈ شیٹس، ویڈیوفائلزاور تصاویر وغیرہ بلکہ ہر طرح کا ’’ڈیٹا‘‘ محفوظ کیا جاتا ہے۔ آسان طریقے سے یوں سمجھ لیں کہ ’’ہارڈسک‘‘ ہمارے کمپیوٹر کا ’’گودام‘‘ یا ’’اسٹور روم‘‘ ہوتی ہے۔ اِسی لئے ہمارے لئے ’’ہارڈ ڈسک‘‘ بہت ہی ضروری اور اہم چیز ہے کیونکہ ہماری ہر طرح کی معلومات اِسی میں محفوظ رہتی ہے۔ چون

گوشہ اطفال|8 اگست 2020

بوجھو تو جانیں…!!! 1۔منہ سے تو وہ کچھ بھی نہ بولی اک اک بات مگر ہے کھولی ہے وہ علم کا اک خزانہ رکھے پاس اسے ہر دانا  2۔غور کرو اور دیکھو بھالو چاہے پی لو چاہے کھالو  3۔گرچہ وضو کرتا نہیں دیتا ہے اذانیں کیا نام ہے اس شوخ کا بتلائو تو جانیں  4۔کالے بن کی کا لی ماسی ہے وہ سب کے خون کی پیاسی  5۔گوداموں میں مال چھپائے پہرا دے ، کچھ نہ بتائے پتھر دل سے پڑ گیا پالابوجھ سکھی کیا ہے یہ نرالا  جوابات:1۔کتاب 2۔غصہ 3۔مرغا 4۔جوں 5۔تالا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خالی جگہ پُر کریں...!  1۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کان سے نکلتا ہے لیکن کھایا بھی جا سکتا ہے۔ 2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی آواز پوری دنیا میں چوبیس گھنٹے سنی جا تی ہے۔ 3۔موسم اچھا تھا اور باغ میں بچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے تھے۔ 4۔ سب سے پہلے ایٹمی بجلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلامی ملک نے

خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ایک سال

خارجی محاذ پر سکون نہ داخلی محاذ پر قرار! جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ایک سال مکمل ہونے پر ایک رائے کہنہ مشق صحافی انورادھابھسین کی ہے کہ کشمیر ایک آتش فشاں بن چکا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے ۔ ایک رائے سابق وزیر خزانہ اور سیاسی دانشور حسیب درابو کی ہے کہ دفعہ 370کا آئین ہند سے خاتمہ ہوچکا ہے لیکن وہ آئین سے نکل کر دلوں میںداخل ہوگیا ہے اور اب ایک نظریہ بن چکا ہے ۔ سابق وزیر اور پی ڈی پی لیڈر نعیم اختر کا کہنا ہے کہ کشمیربھارت میں ضم نہیں ہوا بلکہ گزشتہ سال پانچ اگست کے بعد بھارت کشمیر میں ضم ہوا ہے ۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اب پورے بھارت کے حالات کشمیر سے زیادہ ابتر ہیں ۔ان آرائوں کے درمیان بی جے پی نے دفعہ 370کے خاتمے کی یاد میں پندرہ روزہ جشن کا اعلان کیا ۔پٹاخے بھی سر کرلئے اور قومی جھنڈے بھی کئی مقامات پر لہرائے ۔ سا بق نائب وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے سینئر لیڈر

’نئے کشمیر ‘کے نئے لیفٹنٹ گورنر

نئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کے بارے میں اکثر حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ نہایت سلجھے ہوئے سیاستکار، عوام دوست مصلح اور دوراندیشن سماجی کارکن ہیں۔تین بار بھارتی پارلیمان کے لئے منتخب ہونے والے منوج سنہا بھارتی کابینہ میں بھی اہم وزارتوں کا قلمدان سنبھالنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ہمیں گمان ہے کہ وہ کشمیر کے بارے میں معلومات رکھنے کو حب الوطنی کی بنیادی شرط سمجھتے ہیں، اور اُنہیں معلوم ہی ہوگا کہ کشمیر کو صدیوں سے توقیروں کا قبرستان یعنی  Graveyard of Reputations  کہتے ہیں۔اُن کے علم میں ہوگا کہ جب سکھ سلطنت نے انگریزوں کے ساتھ ساز باز کیا تو شیخ اماالدین کو نہایت خراب حالات میں کشمیر کا گورنر بنا کر بھیجا گیا، پھر جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا موضوع ہے۔ جن حالات میں مسٹر سنہا پدھار رہے ہیں، وہ اُن حالات سے مختلف بھی نہیں جن حالات میں اکثر اوقات یہاں سب ٹھیک ٹھاک کرنے کے لئے گورنروں کوبھیجا جاتا

وبائی دور میں آن لائن ایجوکیشن

کورونا وائرس ایک ناگہانی بلا کی صورت میںدنیا پر مسلط ہے۔ دنیا کا کوئی ملک اس بلائے ناگہانی کا سامنا کرنا تو کجا، اس سے بچاؤکا متحمل نہیں ہے۔کورونا کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا خطرہ اسکولوں اور تعلیمی اداروں پرمنڈلاتے دیکھ کر انہیں فوراً بند کردیا گیا جس کی وجہ سے روایتی طریقہ تعلیم تقریباً منقطع ہوچکا ہے۔ یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق 114 سے زائد ملکوں میں تمام اسکول اور کالج بند پڑے ہیں۔ پوری دنیا میں ایک عرب طالب علم اس سے متاثر ہیں۔  بچوں کو اس وائرس سے محفوظ رکھنے کیلئے حفاظتی اقدامات کے بطورنجی و سرکاری تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت تک بند کردئے گئے اوراب تعلیمی اداروں کو بند ہوئے تقریباً پانچ ماہ گزر چکے ہیں۔ جو غیر یقینی صورتحال پہلے تھی آج بھی جوں کی توں برقرار ہے۔ہم دنیا کے ایک ایسے حصے میں رہتے ہیں جہاں ہنگامی حالات کوئی نئی بات نہیں بلکہ اب تو ہم ان حالات کے اتنے عادی ضرو

منشیات۔۔۔ اغیار کا پنجہ استبداد

علامہ اقبال ؒ کا ایک مشہور شعر ہے ۔    ؎ ساحرِ الموط نے تجھ کو دیا برگِ حشیش  اور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخِ نبات ”الموط “قدیم زمانے میں عرب ممالک کے اندر ایک قلعہ تھا ،جس کے متعلق لوگوں میں یہ یقین بیٹھا تھا کہ جوبادشاہ اس قلعہ پر حاکم ہوجاتا ہے، اُسے اس قدر طاقت(power) حاصل ہوجاتی ہے کہ دنیا اس کے آگے سرِ تسلیم خم کرلیتی ہے۔اتفاق سے یہ قلعہ ایران کے بادشاہ حسن صباح نے فتح کر لیا اور وہ اس پر حاکم ہوگیا۔دیکھتے ہی دیکھتے اس کی سلطنت وسیع سے وسیع تر ہوتی گئی۔وہ اردگرد کے بیشتر شہروں اور بستیوں پر حکومت کرنے لگا۔اس کی رعایا میں مختلف مذاہب اور قوموں کے لوگ شامل تھے۔وہ اپنی حکومت کو دنیا کی طاقت ور ترین حکومت (   Super Power) بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش میں مصروف تھا۔وہ ہر قوم کو محکوم اور مغلوب بنارہاتھا ۔اُن پر اپنی جابرانہ حکومت اور قوان

اسپین کی جغرافیائی حدود

ملک اسپین ”جزیرہ نما“ ہے اِس کے تین سمتوں میں سمندر ہے ۔ مشرق اور جنوب میں بحیرہ روم ہے جسے ”بحر متوسط ، بحرشام اور بحر مشرق“ بھی کہتے ہیں ۔ جنوب میں آبنائے ”جبل الطارق“ ہے جسے آج کل آبنائے ”جبرالٹر“ کہا جاتا ہے اور اِسے عرب ”بحر زقاق“ بھی کہتے ہیں۔ ”آبنائے جبل الطارق“ ملک اسپین کے جنوبی گوشہ اور براعظم افریقہ کے شمالی گوشہ میں ہے ۔ یہی آبنائے براعظم یورپ کو براعظم افریقہ سے الگ کرتی ہے کیونکہ ملک اسپین براعظم یورپ کا حصہ ہے ۔ ملک اسپین کے جنوب مغرب میں ، مغرب میں اور شمال مغرب میں اور شمال میں ”بحر اوقیانوس“ ہے ۔ جسے عرب ”بحر محیط ، بحر ظلمات ، بحر مظلم اور بحر اعظم“ بھی کہتے ہیں۔ آج کل اِس کا نام ”بحر اٹلانٹک“ بھی ہے۔ ملک اسپین براعظم یورپ کے جنوب مغرب میں واقع ہے اور شما