! وادیٔ گلوان سے کشمیر تک | تماشائے اہلِ سِتم دیکھتے ہیں

جب جنوب ایشیا کی دو بڑی طاقتیں لداخ کی گلوان وادی میں ایک دوسرے کے ساتھ ہتھیاروں کے بغیر نبرد آزما تھیں، ٹھیک اُسی وقت پاکستان کی درخواست پر ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رابطہ گروپ کے ورچیول اجلاس میں کشمیری عوام کی’’ جدوجہد‘‘ کی ایک بار پھر روایتی حمایت کا اعلان کیا گیا۔او آئی سی کا یہ روایتی اعلان اس بات کا غماز ہے کہ خطے میں موجود کشمیر مسئلہ اہمیت کا حامل ہے  اور دنیا کے کئی ممالک کی خارجہ پالیسیاں اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔اور تو اور چینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک چھوٹے سے ویڈیو میں بھی وہاں کے خارجہ سیکریٹری کو جموں کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔  تین ایٹمی طاقتوں کے درمیان واقع جموں کشمیر کا خطہ کئی طرح کے پیچیدہ مسائل سے دوچار ہے اور ہر مسئلے کی بنیاد سیاست میں پیوست ہے۔یہاںہر طرف انسانی خون بہہ رہا ہے، چاہے وہ ج

سیاسی شراکت داری۔ نظام کو دوام بخشنے کا واحد ذریعہ

لفظ ’’سیاست‘‘ اردو میں ’’ساس ‘‘ سے مشتق ہے۔ انگریزی میں اِسے   کہتے ہیں جو کہ یونانی لفظ  سے اخذ کیا گیا ہے۔ دونوں کا مطلب شہر، ریاست، خطہ اراضی، ملک وغیرہ ہے۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب کسی خطہ اراضی کے نظام کو چلانا ہے۔ اول روز سے ہی یہ لفظ اہل علم کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔لیکن اِس علم میں باقی علوم کی طرح کوئی ایک مخصوص نظریہ نہیں پایا جاتا ہے۔ کیوں کہ کسی بھی خطہ اراضی کے نظام کو چلانے میں مختلف طریقہ کار ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس علم کے معرض وجود میں آنے کے بعد اس کا سب سے زیادہ زُور اِس بات پر رہا ہے کہ کسی خطہ اراضی کے نظام کو چلانے میں کس طرح کے طریقہ ہائے کار اختیار کیے جائیں ۔ اُن طریقہ کاروں میں بھی جس ایک چیز پر سب سے زیادہ دھیان دیا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ جس خطہ اراضی کی آبادی کو کسی نظام کے تلے منضبط کرنا ہو ، اُس میں آ

آہ! فداؔ راجوروی | ’شہر دل‘ کا مسافر’ پتھرو ں کو آئینہ‘ بناکرابدی سفرپر روانہ

راجوری ہی نہیں،جموںوکشمیر کے مشہور شاعرو ادیب جناب عبد الرشید فدا صاحب ۲۴ جون ۲۰۲۰ء کو بوقت فجر اپنے آخری سفر پر روانہ ہوگئے۔ ان کی اچانک رحلت سے راجوری سمیت پورے جموںوکشمیر کی علمی وادبی فضا سوگوار ہوگئی۔ ان کے ساتھی ، دوست، احباب، شاگرد ، اہل خانہ سبھی اشکبار ہوگئے۔ وہ راجوری کی ادبی محفلوں کے لیے لازم وملزوم تھے۔ وہ ایک اچھے شاعر، اچھے قلمکارو ادیب ، مخلص استاد،صوم وصلوۃ کے بے انتہا پابند، نہایت حساس ذہن ودماغ اور فکر واحساس کے مالک تھے۔ ان کی اچانک رحلت سے راجوری کی علمی وادبی ادبی فضا میں خلا سا پیدا ہونا بالکل فطری ہے۔ میری جب سے ان کے ساتھ شناسائی ہوئی اس وقت سے لے کر ان کی وفات تک ان کے ساتھ میرا تعلق اور میری عقیدت کا رشتہ قائم رہا۔ اس لیے ا ن کی رحلت سے مجھے ذاتی طور سے صدمہ پہنچا۔ یہ غالبا ۲۰۰۷ء کی بات ہے۔ مجھے کسی صاحب نے ایک مختصر سا کتابچہ عنایت کیا۔ نام تھا’&rs

علم کی آن لائن شمع ! | روشنی کہاں تک پہنچ پائے گی ؟

کورونا وائرس کی وبا نے دنیا کو نئے انداز سے دیکھنے اور تصور کرنے پر مجبور کردیا ہے۔جہاں دنیا کے ہر شعبے میں حسبِ ضرورت کئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں وہیں تعلیمی شعبے میں بھی بہت کچھ بدل رہا ہے۔ اس بدلائو میں آن لائن کلاس سرِفہرست ہیں۔ یوں تو آن لائن کلاسوں کا رواج دنیا کے بیشتر ممالک میں پہلے سے ہی موجود تھا لیکن ہمارے یہاں کے طلبہ کے لیے درس و تدریس کا یہ ایک بالکل نیا طریقہ ہے جس کے لیے نہ ہمارے اساتذہ تیار تھے اور نہ ہی طالب علم، بلکہ ہمارا تو انفرااسٹرکچر بھی اس قابل نہیں ہے کہ ہم اس جدید طریقۂ تعلیم کو قبول کرسکیں، نہ ہی ہم جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہیں اور نہ تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت ہر گھر میں موجود ہے۔  شائد شہری علاقوں میں کسی حد تک اس نئے تعلیمی طریقہ کار پر عمل کیا جاسکتا ہے لیکن دیہی علاقوں میں کیا ہوگا؟ جہاں 3 جی اور 4 جی کی سہولت ہی میسّر نہیںہے، تو کیا و

جھیل ڈل گھٹن کا شکار | قدرت کا نایاب اثاثہ آلودگی میں غرق

اس کرئہ ارض پر ہوا کے بعد سب سے زیادہ اہم اور ضروری شئے پانی ہے۔پانی ایک عظیم نعمت ہے جو اللہ نے ہمیں مفت عطا کی ہے۔پانی ہماری تمام ضروریات کی تکمیل کے لئے لازمی ہے۔ہماری غذا،صحت ،حفظان صحت،صفائی وپاکیزی ،توانائی وغیرہ تمام کی تمام پانی کی مرہون منت ہیں۔پانی کا مناسب انتظام وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔پانی کے بغیر نہ تو سماج کا وجود ممکن ہے اور نہ معیشت وثقافت کا۔انسانی ضروریات کے لئے پانی کی فراہمی ایک بین الاقومی مسئلہ ہے لیکن پانی سے متعلق مسائل اور ان کا حل اکثر مقامی حیثیت کا حامل ہے۔ہمارا قدرتی ماحول ہمیں صاف ستھرا ،پینے کے قابل پانی مہیا کرتا ہے۔جہاں تک ہماری وادی  قدرتی خوبصورتی اور مسرت بخش آب و ہرا کی وجہ سے پورے برصغیر میں جنت کی بہن کہلاتی ہے۔ بقول کلہن :’’ یہاں سورج کی دھوپ نرم ہے ۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جسے کشیپ نے اپنی شان کے لئے تخلیق کیا۔مدارس کی اونچی اون

ماس پر موشن یا آن لائن امتحان | یا الٰہی یہ ماجراآخر کیا ہے؟

سماج کی بہبودی اور خوشحالی کو فروغ دینے کیلئے ، حکومتیں بنتی ہیں۔ استحصالی طبقوں کو کچل دینا، بے روزگاری کی لعنت کو دور کرکے روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور کرپشن کا خاتمہ کرکے ایمانداری اور دیانتداری کی فضا ہموار کرنا  سریرسلطنت پر براجماںحکمرانوں کا فرض منصبی ہے لیکن شومئی قسمت پچھلے ساٹھ ستربرسوںکا مشاہدہ اس بات کی غمازی کرتاہے کہ جموں و کشمیر میں ایسی کو ئی فضا قائم ہوتی نہیں دکھی۔5اگست کے تاریخی فیصلے کے بعد کہا جا رہا تھا کہ اب جموں کشمیر کے تمام مسائل حل ہونا شروع ہوں گے مگر ایسے بھی کوئی آثار نہیں مل پارہے۔ دورِ حاضر میں جموں و کشمیر میں بے روز گاری کے ساتھ ساتھ محکمہ تعلیم کی غیر سنجیدگی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے ۔  وادی کشمیر میں گذشتہ ایک سال کے دوران جو شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے وہ تعلیم کا شعبہ ہے۔5اگست 2019 کے بعد پیدا ہوئے نامساعد حالات اوراس سال مارچ

تازہ ترین