تازہ ترین

یہ غازی یہ ترے پُر اسرار بندے

رات انتہائی بھیانک تھی ہر سو قبرستان جیسی خاموشی چھائی ہوئی تھی ’’مخلوق خدا ‘‘نرم و نازک بستر پر محو استراحت تھی اور ’’کتے ‘‘ننگے آسمان تلے پہرہ داری کا مقدس انجام دے رہے تھے۔ برف خراماں خراماں زمین کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھی۔ میرے دل و دماغ پر خیالات کے قافلے گزر رہے تھے۔ لمحوں میں ماضی ،حال اور مستقبل کا سفر طے کر رہا تھا۔ آنکھوں سے نیند مفقود ہوچکی تھی۔ ایسے میں’’قلم ‘‘ ہاتھ میں اٹھا لیا اور’’کاغذ‘‘ کے سینے پر لفظوں کی چھاپ ڈالنے میں محو ہوگیا ۔   نوک قلم سے بے ساختہ کلام ربانی کی یہ آیت صفحہ قرطاس پر منقش ہوگئی کہ:  ’’الذین ان مکنٰھم فی الارض اقامو ا الصلوٰۃو اٰتو الز کوٰۃ وامروا بالمعروف ونھو عن المنکرـ‘‘  ترجمہ:  یہ وہ لو

بن بیاہی لڑکیوں کے مسائل… ذمہ دارکون؟

ہمارا شہر اس وقت بن بیاہی لڑکیوں کے مسائل سے دوچار ہے، بالخصوص غریب طبقہ سے لے کر اوسط درجہ کے لوگ اس مسئلہ میں گھرے ہوئے ہیں۔شہر اور اس کے اطراف کے علاقوں کا جائزہ لے کر دیکھا جائے تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ کوئی گھر ایسا نہیں ہے جن میں لڑکیاں بن بیاہی بیٹھی نہ ہوں، ان میں کتنی ہی لڑکیاں ایسی ہیں جو اپنی شادی کے انتظار میں بڑی عمر تک پہنچ چکی، جن کے سروں میں چاندی کا ظہور ہوچکا، دولت مند حضرات کے کچھ مسائل ہیں تو اوسط درجے کے لوگوں کے الگ مسائل ہیں اور غریب طبقہ جو روز کی روزی روز کے اساس پر زندگی بسر کررہا ہے ان کے مسائل بھی بہت زیادہ ہیں۔ گزشتہ ۳۵۔۴۰ سال قبل بھی یہ مسائل تھے لیکن آسانی سے حل ہوجایا کرتے تھے جبکہ معاشی لحاظ سے اس شہر میں بسنے والے عام لوگ بہت کمزور تھے، لیکن مالدار لوگ اپنے دل میں عزیز و اقارب اور غرباء و مساکین کا بہت زیادہ پاس و خیال رکھتے تھے۔ اس طرح بن بیاہی