لداخ ایک نئی سلامتی فکر مندی کا باعث

آج تک بھی کشمیر مستحکم نہیں ہوپایا ہے۔ قومی اور بین الاقوامی میڈیا میں صورتحال کی نزاکت کی اچھی طرح سے دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ کشمیرپر قریبی نگاہ رکھنے والے مبصرین نے اپنی ڈائریاں لکھی ہیں اور وہ لب کھولنے کے منتظر ہیں۔ یہ سابق ریاست جموں و کشمیر کی کہانی کا ایک حصہ ہے ۔ دوسری طرف دوسرے مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ غیر واضح عنوانات کے ساتھ قومی میڈیامیں شہ سرخیوں کی زینت بنا ہوا ہے۔ سینہ ٹھونکنے والا میڈیا ،جسکے پاس نہ ختم ہونے والاذخیرہ الفاظ اور اکسانے والے محاوروں کی بہتات ہے ،آج یا توخاموش یا صرف بڑ بڑا رہا ہے ۔ اس تبدیلی کی وجوہات ٹی وی اینکروں اور اخبار نویسوں کو زیادہ معلوم ہیں۔ وہ نیپالی اور ہندوستانی فوجوں کی تعداد کے مابین مضحکہ خیز موازنہ کی سطح پر پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ یہ مضحکہ خیزی سے کم نہیں ہے اور اُس وقت زیادہ ہی مضحکہ خیز بن جاتا ہے جب بھارت کے ایک اٹوٹ انگ سابق ریا

نئی عالمی طاقت کی حیثیت سے چین کا ظہور

عالم اسلام میں اس بار عید اس حالت میں منائی گئی کہ نماز عید کا کوئی بڑا اجتماع کہیں نہیں ہوا۔کروناوائرس متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی خبروں کے درمیان منائی گئی یہ عید عالم اسلام کی تاریخ کی پہلی ایسی عید تھی اور اللہ کرے کہ یہ آخری ایسی عید ہو۔ یقینایہ ایسی آخری عید ہوسکتی ہے اگر کم از کم مسلمان ہی خالق کائنات کی اس تنبیہ کو سمجھ سکے جو کرونا کی صورت میں عالم انسان کو جھنجھوڑنے کے لئے کی گئی ہے ۔جس انسان نے دنیا کو خونریز فساد کا وسیع ترین اکھاڑہ بنایا ہوا ہے، اس کے لئے تنبیہ ضروری تھی جو ایک بے جان وائرس کو ظاہر کرکے دی گئی اور جس کے نتیجے میں انسانی دنیا تہہ و بالا ہوکر رہ گئی ۔لیکن انسان کو تنبیہ کا پہلو نظر ہی نہیں آتا ہے یا وہ جان بوجھ کر اسے دیکھنا نہیں چاہتا ۔اس کی سوچ یہ ہے کہ وبائیں آتی رہتی ہیں اور یہ بھی ایک وباء ہے جو ایک دن ختم ہوجائے گی۔ وہ اس ویکسین کا بے صبری کے سا

فتحِ قسطنطنیہ۔۔۔ جب اسلاف نے دشمن کا غرور پاش پاش کیا

صحیح بخاری میں ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ میری اُمت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر پر حملہ کرے گا وہ بخش دیا جائے گا۔ مسند امام احمد بن حنبل میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:’ تم ضرور قسطنطنیہ فتح کرلوگے۔ وہ فاتح فوج بھی خوب ہے اور اس کا امیربھی خوب ہے۔ ‘ ارشادنبوی ﷺ میں موعودہ مغفرت کے پیش نظر آٹھ سو سال تک مسلمانوں کی آرزو رہی ہے کہ قسطنطنیہ فتح ہو اور وہ قسطنطنیہ پر حملہ کرنے والی فوج میں شامل ہوکر مغفرت کے حقدار ہوجائیں ۔  قسطنطنیہ محل وقوع اور تاریخی لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل رہاہے۔ یہ باز نطینی سلطنت کا پایہ تخت تھا۔ فان کرامر کے مطابق قسطنطنیہ پر29 حملے ہوئے ہیں۔ مسلم مورخین کے مطابق مسلمانوں نے اس شہر پر نوبار حملے کئے ہیں۔  مسلمانوں نے سب سے پہلا حملہ حضرت معاویہؓ کے دور خلافت میں سفیان بن عوف اور یزیدکی سربراہی میں بحری اور بری راستے سے47ھ ؍ 668 ء میں ک

کورونا کے شر میں خیر کا پہلو

کرونا وائرس اگرچہ ایک مہلک ترین مرض ہے،جس کی وجہ سے پوری دنیا خطرے میں پڑگئی ہے۔بڑی بڑی طاقتیں بھی بے بس نظر آتی ہیں، یہاں تک کہ سائنس اپنے نقطہء عروج پر ہو کر بھی کرونا وائرس کے خلاف لڑنے کیلئے کسی بھی قسم کی دوا تیار کرنے میں اب تک ناکام رہی۔مذکورہ وائرس کی وجہ سے جو خوف پوری دنیا پر طاری ہوچکا ہے، شاید ایسا خوف عالمگیر جنگ سے بھی پیدا نہ ہوتا۔ہر طرف بے چینی اور غیر یقینی صورتحال عیاں ہے۔دنیا بھر کی معشیتیں بْرباد،تجارت ویران، بازار سْنسان اور لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ غرض کرونا وائرس نے زندگی کے ہر شعبے اور ہر طبقے کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے اوراس سے اَن گنت نقصانات ہوچکے ہیں۔ دوسرے زاویے سے اگر دیکھا جائے تو یہ وبائی بیماری سماج میں کئی مثبت تبدیلیوں کا سبب بھی بنی۔ زندگی جینے کا طریقہ بھی کافی حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ مثبت اثرات ماحول

عالمی ایمپائر کا امریکی خواب اور ایرانی مزاحمت

آج سے لگ بھگ 30سال قبل سوویت یونین (موجودہ روس) کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجانے کے بعد امریکہ دنیاکا واحد سپر پاور ملک بن کر ابھرا جس نے اپنی فوجی اور معاشی طاقت کی بنیاد پر نہ صرف پوری دنیا پر اپنے احکامات پر عمل کروایا بلکہ اپنی مخالف حکومتوں بالخصوص مسلم مملکتوں کو ایک ایک کرکے تہس نہس کردیا اور ایک حاکم کواقتدار سے ہٹاکر اس کی جگہ دوسرے کو بٹھادیا۔امریکہ دنیا میں جمہوریت کا فریبی علم لیکر سامنے آیاتھا لیکن اس نے جمہوریت کے قیام سے زیادہ اپنے مفادات کو ترجیح دی اور یہی وجہ رہی کہ اس نے کہیں جمہوریت کا تختہ پلٹ کر آمریت کی حوصلہ افزائی کی توکہیں جمہوریت کے نام پر خانہ جنگی کا بیج بویا۔جہاں ضرورت پڑی وہاں بادشاہت کا بھی دفاع کیا اور جہاں ضرورت پڑی وہاں جمہوری طرز پر بن کر آنیوالی حکومت کا تختہ ہی پلٹ دیا۔ سوویت یونین کا شیرازہ بکھرجانے کے بعد امریکہ کو اس کے مقاصد کے حصول میں کسی قسم کی ک

ضروری ا طلاع

تبدیلی قانونِ فطرت ہے اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ناگزیر ہے۔اسی بات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کشمیر عظمیٰ اپنے ادارتی صفحات میں جدت لاکر ان کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے ۔اس سلسلے میں یکم جون سے کشمیر عظمیٰ کا ایک ادارتی صفحہ ہفتہ کے ساتوں دن ایک مخصوص موضوع کیلئے مختص رکھاجائے گا۔مخصوص شعبوں پر دسترس رکھنے والے قلمکار حضرات سے التماس ہے کہ وہ درج ذیل عنوانات کے تحت اپنی تحاریر ارسال کریں۔ سوموار: طب ،تحقیق و سائینس اس موضوع کے تحت قلمکار حضرات شعبہ صحت و طبی تعلیم پر خامہ فرسائی کرنے کے علاوہ تازہ ترین سائینسی تحقیق اور تیکنالوجی کے معاملات پر تحاریر ارسال کرسکتے ہیں۔ منگلوار: تعلیم و ثقافت  اس وسیع ترین موضوع کے تحت شعبہ تعلیم کے علاوہ ثقافت اور میراث پر تجزیاتی تحاریر ارسال کی جاسکتی ہیں۔ بدھوار: معاشرت وتجارت یہاں سماجی اور معا

تازہ ترین