تازہ ترین

اے مہِ نوہم کو تجھ سے الفت ِدیرینہ ہے

ماہِ صیام و قیام کی سالانہ تزکیاتی مشق اپنے اختتام کو پہنچ گئی اوراختتامی لمحات پر ہر نگاہ اْفق آ?سمان پر ٹکٹکی باندھے ہلال ِعید کی منتظر رہی ،ہر آ?نکھ میںا شتیاق اور ہر دید سے کرب و اضطراب و کرب چھلکتا رہا۔ ذرا یاد کیجئے وہ ایام جب ہمارے اقبال مندی کا زمانہ چل رہاتھا ،جب ہلال عید بہ صد احتشام ہمارے عروج و سربلندی کا ولو لہ انگیز پیام جاں فزا ء اپنے ہمراہ لے آ?تا تھا ، جب اس کی نمود ہمارے عزو وقار میں اضافہ در اضافہ کا موجب بنتا تھاکہ دنیا اس بلندی?ٔبخت پر ہمیں رشک کے ساتھ داد و تحسین دے رہی تھی۔ آ?ج حال یہ ہے کہ یہ مہ نو خود ہماری حالت زار و زبوں پر نوحہ کناں ہے۔ البتہ اس کا استقبال رونے دھونے تک محدود نہیں بلکہ یہ آ?ج بھی ہمارے حال کو ہمارے تاب ناک ماضی سے جوڑنے کے لئے ،ہمیں اپنے اسلاف کے درخشاں سیرت و کردار سے آ?گاہ کرنے کے لئے ،دنیا میں ہماری حکمرانی کے دنوں کی یاد تازہ کرنے

عید غرباء کے ساتھ! ، غم کا پہرہ ہے لگاپیہم جنہیں

زندگی خوشی اور غم کا حسین امتزاج ہے۔ بعض لوگوں کی زندگی میں خوشیوں کا تناسب زیادہ ہوتا ہے جب کہ کچھ لوگ اپنی زندگی کا زیادہ حصہ رنج وغم ہی اٹھائے پھرتے ہیں۔ یہ بندے کے لئے قدرت کی طرف سے امتحان یا مسرت و حسرت کی حکیمانہ تقسیم ہے جسے کوئی انسان چیلنج نہیں کرسکتا۔البتہ بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں جب کوئی مخصوص خوشی اجتماعی، قومی یا ملّی سطح پر منائی جائے جیسے عید الفطر اور عید الاضحی، تو اس میں سب کی شمولیت سب کا ساتھ اہم چیز ہے۔ اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو خوشی منانے کے لئے سال میں دو دن عطا فرمائے: عید الفطر وعید الاضحیٰ جن کو منانے کے لئے اپنے اصول و ضوابط اسی کے مقرر کردہ ہیہیں۔ آج خیر سے عید الفطر کی خوشیاں ہمارے در پر دستک دے رہی ہے اور ستاون مسلم ممالک میں پھیلی ملت اسلامیہ اور دنیا بھر کے غیر مسلم ممالک میں بسنے والے مسلمان اسے جوش وخروش سے خوشی مناتے ہیں۔اسلام جہاں اس عید کو خوشی

عید صیام۔۔۔حقوق العباد کی یاد دہانی

       شب و روز اور ماہ و سال کی آ مد کا سلسلہ ایک فطری اور اٹل نظام کے تحت بدستور جاری ہے اور دنیا کے قائیم رہنے تک جاری و ساری رہے گا۔ اس فطری نظام میں کسی تبدیلی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ کے اسی نظام کے تحت رمضان ا لمبارک کا رحمت و مغفرت، آزادی یعنی جہنم کی آگ سے بچنے کا،کثرت سے تلاوت قران پاک اور دعائوں کی قبولیت کا مہینہ ہم سے رخصت ہونے جا رہا ہے اور ہلال عید کا طلوع انشا اللہ ہوا ہی چاہتا ہے۔ اللہ سبحان و تعالیٰ سے دعا ہے کہ طلوع ہونے والا ہلال عید عالم اسلام کے لئے بلعموم اور ریاست جموں کشمیر کی آبادی کے لئے بلخصوص امن آشتی، سلامتی ، خوشحالی اور استحکام کا باعث بنے اٰمین۔ عید الفطر امت مسلمہ کے لئے انتہائی با برکت اور خوشیوں کا موقعہ ہے۔ اس دن اللہ تبار ک تعالیٰ کی جانب سے بے شمار رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور اللہ اپنے بندوں کو بہتر انعام اور

ابررحمت بن کے چھاجاؤپیام عیدہے

عیدکادن بہت ہی مسعودومبارک اور خدائے تعالیٰ کے مہمان کے دن ہے۔آج کے دن ہم سب خدائے تعالیٰ کے مہمان ہیں، اسی وجہ سے آج کا روزہ حرام قرار دیا گیا ہے کیونکہ جب خدائے تعالیٰ نے ہمیں اپنا مہمان بنا کر کھانے پینے کاحکم دیاہے تو ہم کو اس سے منہ نہیں موڑنا چاہئے۔ عید کے دن روزہ رکھنا گویاخدائے تعالیٰ کی مہمانی کو ردّ کرناہے ۔یہ ہم مسلمانوں کا بہت بڑا تہوارہے۔ہمارے تہوار میں کھیل تماشہ اور ناچ گانا وغیرہ نہیں ہوتا، کسی کو تکلیف دینا، ستانانہیں ہوتا بلکہ خدانے جس کو دیاہے وہ دوسرے ضرورتمندوں کی حاجتیں پوری کرتاہے۔ مالدار جب اپنے پھول سے بچوں کو اجلے اجلے نئے نرالے دلکش کپڑوں میں خوشی خوشی کھیلتے کودتے اچھلتے دیکھتاہے توغریب کے مرجھائے ہوئے چہرے اور اسکے بچوں کی حسرت بھری آنکھیں اس سے دیکھی نہیں جاتی۔مسلمان دولت مند اپنے گھرکے دس قسم کے خوشبوداراور مختلف النوع لذیذکھانوں کو اس وقت تک نہیں چھوتا

یتیموں و بیوائو ں کی دلجوئی کرنا نہ بھولیں

ہم اس وقت عید الفطر مناے رہے ہیں۔ عید عام معنو ں میں کوئی تہوار نہیں بلکہ ایہ اپنے معانی ا ور تصورو اعتبار سے آسمان جیسی وسعت رکھتی ہے ۔تہوار کیا ہوتا ہے ؟مذہب ،موسم یا قوم کی چھتری کے نیچے خوشیا ں اور رنگ رلیاں منانے ،خرمستیا ں کرنے اور جی بھر کر لطف اور مزے کی بہاریں لو ٹنے کا نام تہوار ہے ۔اس کے بر عکس عیدین دین اسلام کے سایہ رحمت میں آنے کا جلی عنوان ہیں ۔یہ رو حانی سکون پانے کے بہانے ہیں ،یہ سماج میں انسانیت کا بول بالا اور اخوت و محبت کا دور دورہ ہونے کا قرینہ ہیں ۔عید الفطر اصل خوشی خط افلاس کے نیچے زندگی گزر بسر کرنے والے تباہ حال اور احساس محرومی کے ڈسے ہوئے لوگو ں کو مساوات کی نرم و گداز آغوش میں لانے کا پیغام ہے ۔انہی چیزوں کی عملی تربیت رمضان المبارک کے دوران روز ہ دارو ں میں را سخ کی جاتی ہے ۔حقیقی عید توو ہی ہے جب مسلم سماج میں نفسیاتی طور پامال اور مالی لحاظ سے پسپا ک

موجودہ حالات میں نماز عید کیسے پڑھیں

  ۱۔حضرت ابوھریرہؓ سے روایت ہے کہ عید کے روز بارش ہوئی تو حضرت نبی کریم ﷺ نے نماز عید مسجد میں پڑھائی ۔ حدیث نمبر 1448 ابن ماجہ ، ابوداوٗد بحوالہ مشکوٰۃ  ۲۔ جناب عبیداللہ ابن ابوبکر جو خادم رسول انس بن مالک کے پوتے ہیں بیاں کرتے ہیں انسؓ اگر کبھی امام کے ساتھ نماز عیدنہ پڑھ سکتے تو وہ اپنے گھر والوں کو جمع کرکے اُن کے ساتھ امام کی نماز کی طرح عید بڑھ لیا کرتے تھے ۔  علامہ ابن منذر ؒ بھی یہی کہتے ہیںجس سے نماز عید فوت ہو جائے وہ امام کی نماز کی طرح دو رکعتیں پڑھ لے ۔بحوالہ کتاب فقہ السنہ دارالسلام  نوٹ نفل چاشت و غیرہ اس کا بدل نہیں تین وجوہات کی بنا پر احتیاط  الف :۔ طاعون ، کوڑ ، موسم  طاعون جس بستی میں پھوٹ پڑے وہاں جانا اور وہاں سے نکلنا منع ہے ۔  ب:۔ جمعہ کے روز موسمی حالات کی وجہ سے جمعہ کی اذان دی گئی مگر نماز گھر میں

عید الفطر انعام الٰہی کا دن

یوم عید،ماہ رمضان کی تکمیل پر اللہ کریم سے انعام پانے کا دن ہے ،اس لئے امت مسلمہ کے نزدیک اس دن کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔عید کا لفظ ’’عود‘‘سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے لوٹ آنا ہے اور چونکہ عید کا دن بھی ہر سال آتا ہے اس لئے اس کو عید کہتے ہیں۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اہل مدینہ سال میں دودن بطور عید مناتے تھے اور ان میں کھیل تماشے کیا کرتے۔رسول اللہؐ نے ان سے دریافت فرمایا ’’یہ دودن،جو تم مناتے ہو،ان کی حقیقت اور حیثیت کیا ہے ؟‘‘تو انہوں نے کہا کہ’’ ہم اسلام سے پہلے یہ تہوار اسی طرح منایا کرتے تھے ‘‘یہ سن کر اللہ کے نبی ؓ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالی نے تمہارے لئے ان دونوں تہواروں کے بدلے میںان سے بہتر دو دن مقرر فرمادئے ہے ،یوم عید الفطر اور یوم عید الاضحی‘‘۔(ابو دائود شریف) شب عید حدیث