پشمینہ صنعت کا دانستہ قتل

 شاہ ہمدان حضرت میرسید علی ہمدانی ؒنے اسلام کا آفاقی پیغام جہاں وادی میں لایا وہیںکئی صنعتو ں کو لیکر بھی وہ وارد کشمیر ہوئے۔ان ہی صنعتوں میں پشمینہ سازی بھی شامل ہے جس کو وادی میں کافی فروغ حاصل ہوا اور لوگوں کیلئے معاش کا ایک ذریعہ بن گئی۔کئی صدیوں سے کشمیر میں تیار کئے گئے پشمینہ شال اور ان پر جادوئی و طلسماتی سوزن کاری اقوام عالم میںنہ صرف مشہور ہے بلکہ اپنا ایک منفرد مقام بھی رکھتی ہے۔ کشمیر میں بنائے گئے پشمینہ شال مغل بادشاہوں کے درباروں کی جہاں زینت بنے وہیں انگریزوں نے بھی اس کو بہت پسند کیا جس کی وجہ سے یہ شال یورپ تک مشہور ہوئے۔بدنام زمانہ معاہدہ امرتسر میں بھی مہاراجہ گلاب سنگھ کو معاہدے کی رو سے اور چیزوں کے علاوہ پشمینہ شال ہر سال برطانوی حکومت کو پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی جس سے پتہ چلتا ہے کہ انگریزوں کو بھی پشمینہ شالوں کی افادیت بھا گئی تھی۔ پشمینہ شال کیل

کنبہ خوشحال نہ تو سماج کا بگڑنا طے

 پوری دنیا میں15مئی ہر سال ’عالمی یوم خاندان ‘ کے طور منایا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے1993میں باقاعدہ آغاز کے بعد یہ دن ہر سال ایک نئے موضوع کے تحت منایا جا رہا ہے۔ اس دن کی اہمیت و افادیت سے شاید ہی کوئی شخص انکار کر سکتا ہے۔چونکہ پریوار ایک مستحکم سماج کی بنیاد ہے اور اس بنیاد کو مضبوط بنا کر ایک پرسکون سماج کا ماحول تیار کرناقدرے آسان ہو جاتا ہے۔ 2020کی آمد کے ساتھ ہی پوری دنیا کرونا کی مہاماری کے دھویں میں اپنے وجود کو برقرا رکھنے کی کشمکش میں لگی رہی۔ اس بحران کے چلتے ’عالمی یوم خاندان‘ کی اہمیت اور ضرورت ہر ذی حس فرد کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ ایک طرف بندشوں کی وجہ سے پریوار کا ایک جْٹ ہوکر وقت بسر کرنا اور دوسری جانب اپنی پریوار کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں دشواریوں کا سامنا ایک نفسیاتی بیماری سے کچھ کم نہیں۔اس ذہنی

قلمکاروں اور قارئین کے لئے ضروری اطلاع

تبدیلی قانون ِ فطرت ہے اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ناگزیر ہے۔اسی بات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کشمیر عظمیٰ اپنے ادارتی صفحات میں جدت لاکر ان کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے ۔اس سلسلے میں یکم جون سے کشمیر عظمیٰ کا ایک ادارتی صفحہ ہفتہ کے ساتوں دن ایک مخصوص موضوع کیلئے مختص رکھاجائے گا۔مخصوص شعبوں پر دسترس رکھنے والے قلمکار حضرات سے التماس ہے کہ وہ درج ذیل عنوانات کے تحت اپنی تحاریر ارسال کریں۔ ۱ طب ،تحقیق و سائینس   ۲ تعلیم و ثقافت ۳  معاشرت وتجارت   ۴ گوشہ خواتین   ۵ دینیات   ۶ گوشہ اطفال    ۷ ادب نامہ اس کے علاوہ کشمیر عظمیٰ اپنے ادارتی صفحات اور خبروں کے شعبے کا معیار بہتر بنانے کا وعدہ بند ہے ۔ اس ضمن میں قارئین کرام خبروں اورمضامین کے حوالے سے اپنی رائے ’’تاثرات‘‘عنوان کے تحت ظا

گھریلو تشدد،بانجھ پن ،دیر سے شادیاں،نیم بیوائیں او ر یتامیٰ

 جس طرح سے ایک پیڑ پودے پر آس پاس کے ماحول کا خاصا اثر ہوتا ہے اُسی طرح سے خاندان کے اوپر بھی آس پاس کے سماجی، سیاسی اور مذہبی رجحانات کا اثر ہوتا ہے۔ اب اگر کشمیر کے خاندانی مسائل کی بات کرنی ہو، تو یہاں کے حالات و واقعات کو ملحوظ نظر رکھنا ضروری ہے۔ ویسے مسائل کا ہونا کوئی معیوب بات نہیں ہے، البتہ اگر مسائل حد سے زیادہ گذر جائیں اور سماج کو بحیثیت مجموئی اپنی لپیٹ میں لے لیں تو یہ حل و غور طلب مسئلہ بن جاتا ہے۔ کشمیر میں بھی اندرون و بیرون خاندان میں کئی سارے مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں۔  ذیل میں ہم محققین کی نظر سے چند ابھرتے خاندانی مسائل کا تذکرہ کرتے ہیں۔  ٭گھریلو تشدد(Domestic Violance) گھریلو تشدد اُس ایک زیادتی کا نام ہے جو بہوئوں پر اُن کے نئے گھر میں شوہر ، ساس یا باقی لوگوں کی طرف سے مختلف انداز سے کی جاتی ہے۔ اس میں جسمانی، ذہنی اور مالی ایذا رسانی شا

مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے!

 دنیا میں جب جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کھلے عام ہوتی رہی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک حد کے بعد اپنے نافرمان بندوں پر عذاب اُترتا رہا ہے فرعون ،نمرود،قارون اور شداد جیسے ظالم وسرکش اور خدا ئی دعویٰ کرنے والوں کا کیا حشر ہوا ،قصص الانبیااور اسلامی تاریخ کے اوراق میں اُن کا عبرتناک انجام درج ہے۔ اسی طرح قوم عاد وثمود اور قوم لوط پر کس طرح عذاب اُترا وہ تمام لرزہ خیز واقعات عقل والوں کے لیے ہدایت کا سامان ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ضابطے میں یہ بات شامل نہیں ہے کہ وہ اپنے احکامات پر ذبردستی عمل کروانے کے لئے آسمان سے فرشتوں کی کوئی فوج زمین پر اُتارے۔ایمان بالغیب ہی دراصل ایمان کی اصل ہے۔دنیا ایک امتحان گاہ ہے یا دارالعمل کہ جہاں انسان وقتی طور پر آزاد ہے۔البتہ فرشتے اُس کے اچھے اور برے اعمال کی ویڈیوتیار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا انسان پہ خصوصی رحم وکرم یہ ہے کہ اُس نے ہرد

رمضان روحانی لمحات سے لبریز مہینہ

رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں قرآن مجید کا نزول ہوا ہے۔ قرآن مجید نے تمام مسلمانوں کے لئے اس مہینے میں روزے رکھنے کا حکم دیا ہے اور اسے اسلام کا ستون قرار دیا ہے۔ لہٰذا مسلمان عبادت کے طور پر روزہ رکھتے ہیں اور صدقات دے کر محتاجوں، غریبوں، اور یتیموں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ رمضان المبارک ،کو صبر سیکھنے، بری عادات اور افکار کو توڑنے اور کچھ اور تریقے جو اسلام میں ممنوع ہے، ان سے کنارہ کش ہونے کا آسان اور صیح طریقہ ہے۔ رمضان المبارک کے دوران پوری دنیا کی مختلف ثقافتوں کی مختلف روایات ہیں۔چاہے وہ خاص پکوانے بنانے کی ہو ، یا اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ افطار کرنے کی تاہم ، عالمگیر افراتفری کے اس موجودہ غیر یقینی صورتحال کے بیچ اس سال رمضان المبارک یقینی طور پر مختلف نظر آرہا ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے کوڈ 19 کے پھیلائوکو روکنے کے پیش نظر مساجدوں او

تازہ ترین