تازہ ترین

کشمیر کا سیاسی مکافاتِ عمل

کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نے عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی پر پی ایس لگانے کو ایک معمہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے آج جموں و کشمیر بھارت کا حصہ ہے (فاروق اور عمر کو اب رہائی مل چکی ہے لیکن محبوبہ ابھی تک مقید ہیں ) ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان ہی لیڈروں کی وجہ سے جموں و کشمیر میں بھارت کی بنیادیں مظبوط رہی ہیں، اس کے باوجود ان پر پی ایس اے سمجھ سے بالاتر ہے۔اس مضمون میں اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی جو نہ صرف پرینکا گاندھی کے لئے معمہ ہے بلکہ دوسرے بڑے اپوزیشن لیڈروں کو بھی پریشان کر رہا ہے جن میں سیتا رام یچوری،، غلام نبی آزاد ،، ممتا بنر جی کے علاوہ سینکڑوں چھوٹے بڑے لیڈر ہیں۔ اس سوال کا جواب ایک اور ہی زاوئے سے تلاش کریں گے جو اگر چہ سیاسی نہیں لیکن یہ زاویہ زندگی کی اتنی ہی بڑی حقیقت ہے جتنی کہ خود زندگی۔ہمیں تھوڑا سا پیچھے جا

ہر کوئی جرنلسٹ بننے کی کوشش نہ کرے

اس بات سے قطعی انکار کی گنجائش کی نہیں ہے کہ سوشل میڈیا کے آنے سے روایتی میڈیا کی فعالیت متاثر ہوتی ہے اور اب تقریباً ہر وہ فرد خود صحافی یا لکھاری بن گیا ہے جو سوشل میڈیا اکائونٹ رکھتا ہو۔تازہ ترین خبریں بریک کرنے کی ایک ایسی دوڑ لگی ہے کہ سوشل میڈیا کا ہر شاہسوار صحافی بن کر اس کوشش میں لگا ہوتا ہے کہ وہ سب سے پہلے اس کے اکائونٹ سے خبر بریک ہو ۔ ایک ایسا رجحان چل پڑا ہے جہاں بیشتر لوگ فیس بُک، ٹویٹر، وٹس ایپ یا کسی اور سماجی رابطہ ویب گاہ پر صحافی بن کر لوگوں تک خبریں پہنچانے میں ایک دوسرے سے سبقت لینے میں لگے رہتے ہیں اور جموں وکشمیر میں یہ رجحان دیگر جگہوں سے قدرے زیادہ ہی ہیں۔ ہر چیزشیئر ہوتی رہتی ہے۔نہ صحافت کے پیمانوں کا کوئی پاس و لحاظ رکھا جاتا ہے اور نہ ہی شیئر کئے جانے والے چیزوں کی صداقت جاننے میں کسی کو دلچسپی ہوتی ہے ۔بس ایک ہوڈ سی لگی ہے کہ سب سے پہلے کون ؟۔اب تو عالم ی

سخاوت عظیم عمل،بخالت ناپسندیدہ فعل

اعمالِ صالحہ میںسے سخاوت ایک عجیب اور انتہائی عظیم شئے ہے۔ فقط سخاوت کی بنا پر ایک معمولی شخص علماء، فضلاء، امراء، شیوخ ومعتبر پہ بھاری پڑ سکتا ہے اور بازی لے جا سکتا ہے۔ سخی ہونا فضلِ اِلٰہی ہے اور اس فضل کا کوئی جوڑ نہیں۔ایثار سخاوت کی معراج ہے۔سخاوت تو یہ ہے کہ جس چیز کی انسان کو بقدر ضرورت احتیاج نہ ہو، اُسے اﷲ کی راہ میں کسی کو دیدے۔ جبکہ ایثار یہ ہے کہ اپنی ضرورت کی چیز کسی دوسرے شخص کو دیدے، جبکہ وہ شخص خود اسکا سخت محتاج ہو۔ نبی کریم ٖﷺ نے فرمایا’’ دو خلق ایسے ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ دوست رکھتا ہے۔ ایک سخاوت اور دوسری نیک خوئی۔ اور دو خلق ایسے ہیں جن کو وہ ناپسند کرتا ہے۔ ایک بخل اور دوسری بد خوئی‘‘۔آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ ’’ سخاوت بہشت کا ایک درخت ہے، جسکی شاخیں دنیا میں لٹک رہی ہیں۔جو مرد سخی ہے وہ ان ڈالیوںمیں سے ایک ڈالی کو پکڑے گا اور اس ک

سوشل میڈیا سے نسل ِ نو کی بگڑتی عادات

ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے پیدا ہوئی کئی آسانیوں کیساتھ ساتھ کئی تبدیلیاں اس طرح سے رونما ہورہی ہیں کہ سماج کا لگ بھگ ہر ایک فرد اس کا شکار ہوچکا ہے جبکہ ان تبدیلیوں کے بھی دو پہلو ہیں ۔مثبت پہلو تو اس ترقی یافتہ دور میں انتہائی اہم ہیں لیکن ٹیکنا لوجی کے منفی پہلو اور ان کے اثرات کے شکار ہونے کے باوجوداس مصروف ترین دور میں درستگی کی جانب دھیان ہی نہیں دیا جارہا ہے ۔موبائل ڈکشنری اور آن لائن ترجمہ کی سہولیت سے قبل انگریزی سے اردو ودیگر زبانوں میں ترجمہ کیلئے لغت(ڈکشنری)کا استعمال کیا جاتا تھا اور لگ بھگ ہر ایک طالب علم اور ماہر تعلیم کے پاس اپنی ڈکشنریاں ہوتی تھی جبکہ مشکل الفاظ کو سمجھنے کیلئے ان لغات کا استعمال کیا جاتا تھا ۔اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ دیکھے گئے ’معنی ‘کیساتھ ساتھ مشکل الفاظ کا ’سپیلنگ ‘بھی یاد رکھا جاتا تھا ۔اس پورے عمل کے

لاک ڈائون اور نادار لوگ

آج پوری دنیا کے ساتھ ساتھ اہلیاں کشمیر بھی ایک بے قابو جراثیم یعنی کرونا وائرس کی زد میں ہیںاوراحتیاطی تدابیر کے تحت اس وائرس سے بچنے اور اس کے پھیلائو پر قابو پانے کے لئے بدستور لاک ڈائون میں ہیں۔ جموں وکشمیر میں لوگوں کی اکثریت غریب محنت کشوںپر مشتمل ہے جن میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں ،جو جتنادن میں کماتے ہیںاور اُسی پر گزر بسر کرتے ہیں۔اب یہاں مسئلہ یہ ہے کہ کرونا وائرس کا مقابلہ کرتے ہوئے دنیا کی بڑی معیشتیں تباہ ہوچکی ہیں اور بڑے بڑے سرمایہ دار لوگ گھٹنوںپرآچکے ہیں تو ایسے میں بیچارے غریب محنت کش لوگوں کی حالت کیا ہوگی؟ ۔دیکھا جائے تو کرونا نامی یہ وبائی بیماری ہمارے لیے ایک بڑی آزمائش بھی ہے ،نہ صرف خود اور دوسروں کو اس بیماری سے محفوظ رکھ کر اس بیماری سے لڑنا ہے بلکہ ان مشکل حالات میںجب کہ دنیا کی ساری رنگینیاں ، کاروبار ی تگ و دو ،دوڑ دھوپ اور زندگی کی ساری چہل پہل ٹھپ پڑی ہ

تازہ ترین