تازہ ترین

’جُھوٹا پریس‘ اور ’جعلی خبر‘

نازی ہٹلر کے زمانے میں جرمنی کے اندر آزاد صحافت کیخلاف پروپگنڈا کے طور پرLugenpresse  (لیگون پریس) کی اصطلاح استعمال کی جاتی تھی۔ اس کا مطلب’جھوٹا پریس‘ ہے اوراس کا استعمال ہٹلر کے زیر اثر ڈھندورچی ہر اُس ادارے اور اُس صحافی کیخلاف کرتے تھے جو اُنہیں لگتا تھا کہ اُن کی سوچ کیخلاف ہے۔اس اصطلاح کا استعمال کیتھولک حلقوں کی طرف سے بھی خوب کیا گیا جب اُنہوں نے 1948کے انقلاب کے دوران آزاد صحافت کو نشانہ بنایا۔جب یہ بات طے ہوگئی کہ نازیوں کی طرف سے اس اصطلاح کا استعمال پروپگنڈا کے طور کیا جارہا ہے تو جرمنی کے دانشوروں نے اس کا پوسٹ مارٹم پہلی جنگ عظیم کے دوران شروع کیا۔بعد ازاں نازیوں نے اس اصطلاح کو پہلے یہودیوں ،پھر کیمونسٹوں اور آخر پر غیر مقامی میڈیا کیخلاف بھی استعمال کیا۔باالفاظ دیگر’جھوٹے پریس‘ کی اصطلاح کا استعمال تاریخی طور پر پروپگنڈا کے طور کیا جاتا

برق گرتی ہے تو بیچارے غریبوں پر

انسان جب دنیا میں جنم لیتا ہے اسی وقت سے اس کو ذہنی کشمکش اور مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔دنیا نے کیسے کیسے ہولناک فسادات دیکھے ، کیسے انقلابات دیکھے ، کیسی کیسی بیماریوں اور مہلک وباؤں سے دوچار ہونا پڑا اور کیسے کیسے حیران کن انکشافات اور کارنامے انجام دیئے۔ ان سب چیزوں سے سابقہ پڑتے وقت بہت ساری آزمائشوں، اذیتوں، جہد مسلسل ، فکری کشمکش، سے لازمی طور پر گزرنا پڑتا ہے تاکہ اس مخصوص ہدف کو جلد از جلد حاصل کیا جاسکے۔ دنیا کہاں سے کہاں تک پہنچ چکی لیکن ایک چیز ایسی بھی ہے جو سب سے زیادہ اہمیت کا تقاضا کرتی ہے لیکن ہے بہت نایاب۔ اگر ہوتی تو آج دنیا تباہی کے دہانے پر کھڑا نہ ہوتی۔ وہ ہے انسانیت یا خدمت خلق۔ انسانیت نام کی چیز تو موجود ہے لیکن بہت ہی نایاب۔دنیا بھر میں انسانیت کا جنازہ اٹھ چکا ہے اور اس پر خطر ماحول میں بھی تمام ممالک میں خدمت خلق کے بجائے آپسی انتشار اور منافرت اور سات

شب قدر خیرو عافیت کی رات

شب قدر ایک فضیلت والی اور افضل ترین شب ہے۔ اس رات اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفیٰؐ پر اپنی آخری اور مکمل ترین کتاب قرآن مجید نازل کی۔ اس شب میں شب بیداری کرنا مستحب ہے۔ اگر بندہ چاہے تو اپنے سبھی سابقہ گناہوں کو اپنے رب سے بخشوا سکتا ہے۔ یہ رات سراپا سلامتی ہی سلامتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ یہ رات ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے اور اس رات ملائکہ و روح القدس یعنی جبریل امین ؑ بہ اِذنِ خداوند تعالیٰ عرش عظیم سے زمین پر نازل ہو رہے ہیں ۔ اس رات میں جو اعمال اللہ تعالیٰ کے بندے انجام دیں تو ان کے حق میں ایک ہزار مہینے کے ثواب لکھے جائیں گے ۔یعنی اگر ہم اس رات میں تلاوت قرآن کریں، مستحب نمازیں ادا کریں، خدا کی راہ میں کچھ صدقہ دیدیں تو واقعًا ہمارے لئے سعادت نصیب ہوگی اور ہم سعادتمند زندگی گزار سکیں گے۔اس رات کے اعمال میں اپنے زندہ و مردہ برادران ایمانی کی

وہ رات۔۔۔

واہ وہ رات جب حرا کے غار سے مقدس نور کی برسات کا آغاز ہوا۔آمنہ کا لال صبح یہ نسنحہ کیمیا لے کر سوئے قوم آیا تو اس روز باد صبا کے جھونکوں میں رچی بسی خوشبو نے ظلمت کدہ دھر کے ہر گوشہ کو مہکا دیا۔آہستہ آہستہ کتاب مبین کا نزول ہوتا رہا۔سلیم الفطر ت لوگ قرآن کی آغوش رحمت میں آتے ہوئے اس کے پیام نور و نگہت کو عام کرنے کے کام میں جٹ گئے،اس پاداش میں جان کے لال پڑے لیکن سودا ایسی عشق و مستی کا کیا تھاکہ سوئے دار بھی چلے تو نغمہ توحید سے قلزم ہستی میں عجب طلا طم پیدا کیا، مادہ و عیش و نشاط کے دلدادوں کی جبینوں پر بل پڑگئے ،صدیوں پر محیط جن کی چودھر اہٹ قائم تھی ،اُنہیں زمین کھسکتی نظر آئی۔حسب و نسب کے خول میں رہنے والے متکبروں کی نیندیں اُڑ گئی،غربت و پسماندگی کا استحصال کرنے والے عناصر قرآن کا پیام مساوات دیکھ کر سیخ پاہو گئے۔کعبتہ اللہ کی آمد نی سے پیٹ کی آگ بجھانے اور اعلیٰ منصو

قرآن کریم کلامِ الٰہی ہے کلامِ بشر نہیں

قرآن کریم خالق کائنات کی طرف سے امام کائنات کو بطور معجزہ عنایت کیاگیا۔ یہ اس ماحول اور معاشرے کی بات ہے جہاں شعر وادب کاطوطی بولتاتھا۔بڑے بڑے سحابین ونوابغ اپنے اپنے زور بیان سے دلوں پر سحر کرتے تھے۔ ذہنوں کو مسخر کرتے تھے۔یہی ٹی وی تھے، یہی ریڈیو تھے۔ یہی فیس بک واٹس اپ، ٹویٹراوریہی سوشل میڈیاتھے۔یہی تھنک ٹینک، یہی مفکر یہی دانش ور اور یہی سماج کے ٹھیکیدار تھے۔ انہیں کا جادو سر چڑھ کر بولتاتھا۔ جسے چاہتے تھے آسمان کی بلندیوں پر مقیم کردیتے تھے اور جسے چاہتے تھے تحت الثری کے جحیم میں جھونک دیتے تھے۔ ایسے میں رمضان کے ماہ مبارک میں ایک نبی امی فداہ ابی وامی (علیہ افضل الصلوات والتسلیم) کی زبان وحی ترجمان سے ایسی آیتوںکاظہور ہونا شروع ہواجو اس ماحول میں ادبی شہ پاروں کی شان تھے، جان تھے، معراج تھے۔ شعر وادب ہکا بکا تھے،سحابین ونوابع ششدر تھے۔ان کے سر چکرارہے تھے۔ان کے ذہن ودماغ خبط ا

شبِ قدرکی اہمیت وفضیلت

رمضان المبارک کا آخری عشرہ چل رہا ہے۔ماہ مبارک جو بہت ساری خوشیوں اور نعمتوں کے ساتھ جلوہ فگن تھا جلد ہی ہم سے رخصت ہوجائے گا۔ ویسے تو پورارمضان مختلف خصوصیات کا حامل ہے، لیکن اس کا آخری عشرہ کچھ الگ ہی نوعیت رکھتا ہے۔اس عشرے میں کچھ خصوصی عطایا و نعم اللہ نے عطا فرمائے ہیں جن سے آدمی بہت جلد ہی اللہ کا تقرب حاصل کر سکتا ہے۔اسی لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت میں ہے آپ ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں جتنی کوشش عبادت وریاضت میں کرتے تھے، اتنی پہلے دوعشروں میں نہیں کرتے تھے،(مسلم شریف) ۔دوسری روایت میں ہے کہ جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو آپ ﷺ راتوں کا (عبادت سے) احیاء فرماتے تھے، اور گھر والوں کو جگاتے تھے اور اپنی لنگی مضبوط باندھ لیتے تھے۔(بخاری ومسلم) (یعنی عبادت کا خوب اہتمام فرماتے تھے اور ازواج مطہرات سے دور رہتے تھے)۔ اسی عشرہ میں ’’اعتکاف‘‘ کی سنت ادا کی جا