منشیات۔اُبھرتی جوانیاںتباہی کے دہانے پر!

رات کے اندھیرے میںصبح کی بات تاریکی کوناگوارگزرتی ہے۔ باضمیر نفوس اندھیرے سے ہمیشہ ملول رہے ہیں اورانہوںنے سینکڑوں اندھیرے دریافت کئے ہیں،جن سے اُمتِ مسلمہ صدیوںسے نبردآزما ہے۔ لیکن افسوس کہ اکثریت فقط زوال کارونا روتی ہیں۔ کام کیسے اورکہاںسے شروع کریں، لب خاموش،عقل زنگ آلود! مولاناحسین احمدمدنیؒ سے کچھ رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ایک بارمولانا ؒ ٹرین سے سفر کررہے تھے۔ سامنے والی نشست پرایک بڑے شائستہ اور’نستعلیق‘ سوٹ بوٹ والے صاحب تشریف فرماتھے۔ ابتدائی گفتگو ہوئی اورسُوٹ بوٹ والے ’انگریز نما‘ صاحب کومولوی صاحب بڑے دقیانوسی اورقوم کی پسماندگی کی دلیل نظرآئے۔چنانچہ بات چیت زیادہ آگے نہ بڑھ سکی، کافی دیرسکوت چھایا رہا،صرف ٹرین کی رفتار کااحساس ہلنے جھلنے سے ہوتارہا۔ کچھ دیربعد سُوٹ والے صاحب کوبیت الخلاء کی حاجت ہوئی ۔ حاجت بشری کے لئے بیت الخلاء کادروازہ کھولت

یوم ِمزدورتقاریب۔محض ایک رسم اور تماشہ!

ہر سال یکم مئی کو یوم مزدور منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر گھڑ یالی آنسو بہائے جاتے ہیں، شامیانے لگائے جاتے ہیں، مائک اور اسپیکر نصب کئے جاتے ہیں، کسی مشہور شخصیت کی آمد ہوتی ہے، پھر ان کا خطاب ہوتا ہے، تالیاں بجائی جاتی ہیںاور یوں محسوس ہوتا ہے کہ بس آج سے مزدوروں کے حالات بدل جائیں گے۔ سارے مزدور خود کفیل ہو جائیں گے اور غربت کا خاتمہ ہو جائے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس موقع پر بھی کسی اصلی مزدور کو پروگرام کے اِرد گرد بھٹکنے نہیں دیا جاتا، اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یومِ مزدور کے نام سے تقاریب کا انعقاد کرنے کرانے والوں کے سینے میں مزدوروں کا کتنا درد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سفید پوش شخصیات کو معلوم ہوتا ہے کہ آج یوم مزدور ہے۔ آج ہمیں کہیں جانا ہے، روائتی انداز میں مگرمچھ کے آنسو بہانا ہے، اپنے نام کا نعرہ لگوانا ہے، فوٹوگرافی کرانا ہے اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے ذریعے شہرت حا

بے نظیر ادیب ۔نذیر جوہر

رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی 5 مئی کو یہ جاں فرسا خبر آئی کہ جوہرِ ادب نذیر جوہر صاحب کا انتقال ہوگیا ہے۔اس خبر نے ادبی حلقوں کو ہی رنجیدہ نہ کیا بلکہ عام آدمی بھی کبیدہ خاطر ہوا۔ انہیں مرحوم لکھنا قلم کے لیے بھی اذیت ناک ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قلم سیاہی کے بدلے خون اور آنسو بکھیر رہا ہے۔دنیا کی اٹل حقیقت موت ہے اور ہر فرد کو اس کا ذائقہ چھکنا ہے۔بعض دفعہ موت بے رحم بن کر ہم سے نذیر جوہر صاحب جیسے مخلص انسان ، بہترین ادیب ،شاعر ، افسانہ نگار چھین لیتی ہے اور ہمارے اختیار میں ہاتھ ملنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔حقیقت یہ ہے کہ جوہر صاحب ہم سے دور ہوچکے ہیں اور صداقت یہ کہ وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ نذیر جوہر کا پورا نام نذیر احمد لون تھا۔والد کا نام حاجی محمد مظفر لون ،9 مارچ 1955ء میں سوگام لولاب کپوارہ میں پیدا ہوئے ت

’’خواتین ادب تاریخ و تنقید‘‘

نسائی ادب پر ڈاکٹر صالحہ صدیقی کی نئی تصنیف ’’خواتین ادب تاریخ و تنقید ‘‘ منظر عام پر آچکی ہے ،اس سے قبل مصنفہ کی تانیثیت پر مبنی اہم کتاب’’اردو ادب میں تانیثیت کی مختلف جہتیں‘‘ اہل علم وفن کے درمیان داد و تحسیں حاصل کر چکی ہے۔اس کتاب کی مقبولیت کے سبب اسے پاکستان کا مشہور معروف ادارہ ’’کتابی دنیا‘‘ پبلشنگ ہاؤس نے بھی شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کتاب کے مطالعہ سے قبل ڈاکٹر صالحہ صدیقی کے بارے میں میں کچھ بتانا چاہونگا کہ میں پچھلے کئی سالوں سے ان کی تحریروں کا مطالعہ کرتا آیا ہوں،انہوں نے ہمیشہ نت نئے موضوعات خصوصا خواتین کی خدمات کے مختلف نکات پر قلم فرسائی کی ہے۔ یہ دور حاضر کی نوجوان قلمکاروں میں نمایاں مقام رکھتی ہیں ۔بہت کم وقت میں اپنی محنت و کاوش سے اردو ادب میں یہ اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہی ہیں ۔آ

ڈاکٹر علیمؔ عثمانی !

بارہ بنکی صوبۂ اتر پر دیش کا چھو ٹا ضلع ہو تے ہو ئے بھی بڑی اہیمت کا حامل رہا ہے یہاں بڑے بڑے صوفی بزرگ دانش ور علمی شعراء ڈاکٹر س، انجینئر س اور و کلانے اپنے فن میں عروج حاصل کیا ہے ۔ضلع بارہ بنکی میں قصبہ کر سی مردم خیز ہو نے کے ساتھ ساتھ بڑا نامور قصبہ رہا ہے ، کون جا نتا تھا کہ د ن۸؍نومبر ۱۹۳۱ء؁ میں حکیم محمد نسیم عثمانی کا لخت جگر اور حضرت شاہ نجات اللہ ؒ کے نواسے کی شکل میں پیدا ہونے والا نونہا ل ایک دن مثل مہر درخشاں بنکر دنیا ئے شعروادب کو اپنی ضیاء فہم ولیاقت سے منور کر دیگا، اس بچے کا نام محمدعبدالعلیم عثمانی رکھا گیا جو اس جہاں کی کئی بہا ریں دیکھنے کے بعد ڈاکٹر علیم عثمانی بن گیا، علیم کے معنی ہی ہو تے ہیںجانکار ،علم والا ،یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ لفظ علیم کا اثر جادو بنکر ایسا چھایا کہ بفضل ربیّ جناب ڈاکٹر علیم عثمانی نے جس طرف بھی اپنے قدم بڑھا ئے فتح وکا مرانی نے بڑھ کر ا

کچھ نہ ہوگا تو آنچل میں چھپا لے گی

مرد و زن دو نوں کے کچھ فرائض اور ذمہ داریاں ہیںاور دونوں کے حقوق بھی ہیں۔ البتہ ہر شخص کا دائرۂ کار الگ الگ ہے۔ گھر کی چار دیواری کی ذمہ داری عورت کے حوالے کی گئی اور باہر کا میدان مرد کے سپرد کیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ جو پہلے چراغِ خانہ تھی، اب شمع محفل بھی ہے۔لیکن ساری رونق جس سے گھر گھر لگتا ہے ،وہ ماں ہے۔چاہے جو مذہب ہو،فرقہ ہووہاں ماں کی عزت و احترام روزِ اوّل کی طرح قائم ہے۔ کسی فرقہ یا خاندان میں ماں کی حکمرانی ہے تو کہیں باپ کی حکمرانی، مگر ماں کی عظمت برقرار۔ جس میں شبنم سے زیادہ ٹھنڈک ہے، جس کے پیر کی گرمی سے زندگی کی مشکلات کی زنجیریں پگھل جاتی ہیں، جس کی پناہ گاہ میںمعصوم بچپن محفوظ رہتاہے۔جو بچے کی پہلی درس گاہ ہے، جو اپنے بچے کی اپنے خون سے آبیاری کرتی ہے۔جس کےپیار،محبت، دُلار،ممتا، آشا میں کوئی غرض شامل نہیں۔ ذرا ننھے بچوں کو غور سے دیکھیے۔ اگر کسی بچے کی ناک بھری ہو

تازہ ترین