ماہ صیام کی رونقیں کورونا قہر کے سائے میں

انسانی بحران ، مصائب ومشکلات ‘بدترین حالات اور آزمائش کی گھڑی میں عام طور پر لوگ دین ومذہب کا سہارا لیتے اور اپنے خالق ومالک کی طرف متوجہ ہو کر عبادتوں کے ذریعہ سکون واطمینان حاصل کرنا چاہتے ہیں، مگر کرونا وباء کے پھیلائو کے زمانہ میں اہل اسلام تو اپنے رب کو راضی کرنے کی طرف متوجہ ہوئے توبہ واستغفار میں مشغول ہوئے لیکن اس ملک کے دیگر اہل وطن کم ہی اس وباء سے بچنے کے لئے دین ومذہب کا سہارا لیا، یا اہل یورپ اور یہود ونصاری کم ہی چرچوں اور عبادت خانوں کا رخ کیا، خود دنیا کے مسلم ملکوں نے بھی مساجد کے دروازے بند کردیئے اور با جماعت نماز کی ادائیگی سے روک دیا۔ اور حج وعمرہ جیسی عظیم الشان عبادت پر پابندی لگا دی۔  اس بحث سے قطع نظر کہ کرونا آسمانی بلاہے یا زمینی پیدا وار، یہ قدرتی آفت ووباء ہے یا مصنوعی اور اس میں مارے جانے والے حقیقی معنوں میں اس مرض کا شکار ہو کر مرے ہیں

جذبات کی تربیت

انسان جیسے ہی اس دنیا میں قدم رکھتا ہے تو وہ یہاں کچھ نہ کچھ سیکھنے کی کوشش کرتا ہے اور آئے دن نئی چیزوں اور نئے عوامل کا علم حاصل کرتا ہے۔ چونکہ اللہ سبحان و تعالیٰ نے انسان کو مختلف اعضاء عطا کیے ہیں جن کے وجہ سے وہ محسوس کرنے کی قوت رکھتا ہے۔ یہی اعضاء اْس کو  پہلے پہل نئی چیزوں کا علم عطا کرتے ہیں اور نئے عوامل سیکھنے میں مدد کرتے ہیں۔ بعد میں پھر وہ زندگی کے حاصل کردہ تجربات سے اور سماج میں پہلے ہی رائج کردہ علم سے نئی معلومات حاصل کرتا ہے۔ جب ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے والدین اس کی پرورش کرنے کے دوران چاہتے ہیں کہ اْنکا بچہ صرف اچھی چیزیں سیکھے، اس میں صرف اچھے عادات حامل ہوجائیںاور تو اور اْنکا بچہ صرف وہی سیکھے جو وہ لوگ اسکو سکھانا چاہتے ہوں اور اس کے سوا اور کچھ نہ سیکھے۔ تازہ ترین سائنسی تحقیقات کے مطابق بچے کی پیدائش سے لیکر چھ یا سات سال کی عمر تک بچے کے دماغ کا %

فاتح خیبراور دامادِ رسولﷺ

خانہ کعبہ ایک قدیم ترین عبادت گاہ ہے اس کی بنیاد حضرت آدم علیہ اسلام  نے ڈالی تھی اور اس کی دیواریں حضرت ابراہیم علیہ اسلام اور حضرت اسماعیل علیہ اسلام نے بلند کیں۔ اگر چہ یہ گھر بالکل سادہ ہے نقش و نگار اور زینت و آرائش سے خالی ہے ، مگر اس کا ایک ایک پتھر برکت و سعادت کا سرچشمہ اور عزت و حرمت کا مرکز و محور ہے، اور آج بھی اس کی مرکزیت و اہمیت اسی طرح قائم و دائم ہے۔وہ پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا، ان کی ہدایت کا ذریعہ ہے،مسلمانوں کا قبلہ، خانہ کعبہ ہے. اس بابرکت مکان کی نشاندہی قرآن نے اس طرح کی ہے کہ یہ مکان سرزمین بکہ پر ہے (شہر مکہ کا قدیمی نام بکہ ہے)۔ اس گھر کی عظمت کے لیے یہی کافی ہے کہ خدا نے اس کو اپنے نام سے منسوب کر لیا اور اسی لیے اس مکان کو ‘بیت اللہ’ یعنی ‘اللہ کا گھر’ کہا جاتا ہے۔قرآن میں اس مکان کی عظمت کے بارے میں متعدد آیات موج

رمضان کے خشک میوے اور ان کے فوائد

معالجین کہتے ہیں کہ خشک میوے جسم میں تازہ خون بنانے کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔ خشک میوے اپنے اندر وہ تمام ضروری غذائیت رکھتے ہیں جو جسم میں توانائی اور تازہ خون بنانے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ یہ میوے معدنیات اور حیاتین سے بھرپور ہوتے ہیں اور اسی غذائی اہمیت کے پیش ِ نظر معالجین انہیں ’’قدرتی کیپسول‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اطباء بھی خشک میوہ جات کی غذائی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور اکثر کو مغزیات کا درجہ دیتے ہیں۔ خشک میوہ جات قدرت کی جانب سے ایک انمول تحفہ ہیں جو خوش ذائقہ ہونے کے ساتھ ساتھ بے شمار طبی فوائد کے حامل بھی ہیں۔ خشک میوہ جات مختلف بیماریوں کے خلاف مضبوط ڈھال کے طور پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ڈرائی فروٹس جسم کے درجہ حرارت کو بڑھانے اور موسم سرما کے مضر اثرات سے بچائو میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اعتدال کے ساتھ ان کا استعمال انسانی جسم کو مضبوط

تازہ ترین