امریکی فوجی انخلاء سے فکر مند کون اور کیوں ؟

 آپ اپنے حرب و ضرب ، فوجی سازو سامان ، انتہائی خطر ناک ٹیکنالوجی، کیمیکل اور اٹامک ویپن کے ساتھ کسی بھی ملک کی زمین کو تہس نہس کرسکتے ہیں ، گلستانوں اور سر سبز و شاداب سر زمینوں کو ریگستانوں میں تبدیل کرسکتے ہیں ، سبزہ ذاروں اور کہساروں کو ہیرو شیما اور ناگاسا کی شہروں کی طرح جہنم زار بناسکتے ہیں لیکن اگر اس قوم کے افراد میں خوئے غلامی نہیں ،اور جذبہ جہاد کو عبادت سمجھ کر مسلسل کشمکش اور انتھک جدوجہد میں یقین کامل رکھتے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت بہت زیادہ یا طویل عرصے تک انہیںنہ تو مغلوب اور نہ ہی شکست سے دوچار کرسکتی ہے اور یہ اصو ل یکساں طورپرسبھی اقوام کے لئے انہی نتائج کا حامل رہا ہے جب اس عمل پیہم، اور جہاد زندگی کامظاہرہ کسی بھی قوم سے ہوا ہے تو وقت کی سپر پاورس اس عزم کے سامنے ریت کی دیواریں ہی ثابت ہوئیں ہیں۔ ماضی بعید کی بات نہیں کریں گے لیکن ویت نام کی مثال ابھی دھند میں

کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے

بقول عبد اللہ خاورؔ:’’مختصر الفاظ میں کتاب کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ اس کے مطالعے سے آپ کا یہ احساس قوی ہو کہ آپ ایک اچھے دوست کی صحبت میں اپنا وقت گزاررہے ۔حقیقت یہ ہے کہ کتاب ہماری ذہنی طاقت کا سر چشمہ اور تہذیبی و ثقافتی ورثے کی بنیاد ہے۔یہ نفس انسان کوفضیلت کے درجے تک پہنچادیتی ہے۔زندگی کو سنوارتی ہے،فکر کی تربیت کرتی ہے ور ذہن کو بلا بخشتی ہے ‘‘(کتابیں ہم نشیس میری ۔۔از مرزا بشیر شاکرؔ)۔اقوم متحدہ کی تعلیمی اور ثقافتی تنظیم 1955 سے ہر سال 23 اپریل کو عالمی یوم کتب اور یوم حقیق مصنفین کا اہتمام کرتی ہے جس کے تعلق سے دنیابھر میں تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔اکثر اس طرح کی تقریبات محض رسم نبھانے یا کچھ مخصوص لوگوںکو خوش کرنے کے لیے اور کتب بینی کا مسلہ وہی کا وہی رہ جاتا ہے۔جہاں تک ہندوستان میں کتابوں کی اشاعت کا اعداد وشمار کا تعلق ہے۔ہندوستان میں 22زبانوں میں 9 ہ

علامہ اقبال کے پیامی اشعار

شاعر اخوت و محبت شاعر حق و حقیقت شاعر مذہب و انسانیت شاعر عقل و ادراک شاعر قلب و روح علامہ اقبال نے اپنی شعری کائنات میں ایسے اشعاریاد گار چھوڑے ہیں جو ہمارے لئے کسی مشعل راہ سے کم نہیں ہیں۔انہوں نے عشق حق کے بحر بیکراں میں غوطہ زن ہوکر ایسے نادر و نایاب موتی تخلیق کیے ہیں جن کی چمک رہتی دنیا تک قائم ودائم رہے گی۔پیام حق ،پیام رسالت،پیام قران و سنت ،پیام عظمت انسان و انسانیت،پیام خودی و خود شناسی،پیام عشق و عمل ،پیام عقل وہنر،پیام مرد مومن ،پیام قدرت وفطرت ،پیام امن و آشتی ،پیام اتحاد ملت ،پیام محبت و اخوت غرض ان کاکلام اول تا آخر سراپا پیام ہی پیام ہے۔وہ امت ملسمہ کو اپنے دلسوز اشعار کے ذریعے خوابِ غفلت سے بیدار کرانا چاہتے ہیں۔ ان کا ایک ایک شعر آفاقی پیغام سے لبریز ہے۔وہ کبھی ہمیں اپنے من ڈوب کر سراغ زندگی پانے کی تجویز دیتے ہیں،کبھی ستاروں سے آگے کی دنیا کی پرواز کرنے کے لئے حو

ہندوپاک جنگ بندی معاہدہ

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی معاہدہ پر سختی سے عمل کرنے کے قدم کے بعد جہاں اسکولوں میں بچوں کی تعداد میں اضافہ ہواہے۔ وہی عوامی حلقوں میں خوشی پائی جارہی ہے۔ایسا لگتاہے کہ اب سرحد پر بسنے والے لوگ اپنے فصل بغیر کسی خوف اور اندیشہ کے کاٹ اور بو سکیں گے۔اس سے قبل بھی کئی ایسے معاہدے عمل میں لائے گئے جن کی بڑی مشہوری تو تھی لیکن ان پر عمل آوری بلکل بھی نہیں ہو سکی۔ تاہم اب امید قوی ہے کہ جب مرکزی حکومت کی قیادت مضبوط ہاتھوں میں ہے۔مستحکم حکم پر مستحکم عمل ہوا تو دونوں ممالک ہندوستان اور پاکستان کی سرحدوں پر بسنے والی عوام راحت کی سانس لے سکیں گیے۔ جموں کشمیر میں متعدد سماجی تنظیمیں ہمیشہ سے ہی ریاست میں امن وامان اور سرحدوں پر موت کے سلسلہ پر مکمل روک لگانے کی وکالت کررتی رہی ہیں۔چونکہ ان کا مانناہے کہ سرحدوں کی عوام بھی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے۔ اور ان کا بھی

تازہ ترین