تازہ ترین

کون کٹھ پتلی ہے ایوانِ تماشہ کس کا؟

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے ایودھیا معاملے میں متنازعہ فیصلہ سنا کر جو لکیر کھینچی تھی وہ اب بڑی ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بتانے کی چنداں ضرورت تو نہیں، لیکن آموختہ کوئی بری چیز بھی نہیں ہے، ا س لیے یہ یاد دلا دیتے ہیں کہ فیصلہ سنائے جانے سے قبل کس طرح ایک ماحول بنایا گیا تھا اور پورے ملک میں یہ پرچار کیا گیا تھا کہ عدالت جو بھی فیصلہ سنائے گی اسے عوام تسلیم کریں گے۔ مسلم رہنماؤں اور سرکردہ شخصیات سے بار بار یہ بیان دلوایا جا رہا تھا کہ اگر ہمارے خلاف بھی فیصلہ آیا تب بھی ہم مانیں گے۔ اس طرح اس وقت ملک میں ایک ایسی فضا بنا دی گئی تھی جیسے ملک کے دو بڑے فرقوں نے ماضی کی اپنی تمام تلخیوں کو پس پشت ڈال کر اور رام مندر کے نام پر چلائی جانے والی تحریک کے نتیجے میں ہونے والی خوں ریزی کو بھلا کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جب عدالت عظمیٰ نے فیصلہ سنانا شروع کیا تو ساری باتیں باب

ماہ ِ رمضان اورکورونالاک ڈائون! | خالق کائنات ہم سے اتنے روٹھے کیوں ہیں؟

کرونا وائرس !اک ایسی وباء جو چین کے شہر وہان سے دندناتی انسان جانوں کو ختم کرتے ہوئے پوری دنیا میں ملک الموت کی طرح ابھی بھی منڈلا رہی ہے،پہلے پہل تو اِس خونخوار وبا ء نے دنیا بھرمیں اِس طرح کا خوف بپا کر دیا کہ انسان گھروںمیںقیدی ہو کر رہ گیا۔رب ِ کائنات کے جلال کے سامنے اچھے بھلے،چست تندرست انسان معذور ہو کر رہے گئے، خدائی دعوے کرنے والے ممالک اک نظر ناآنے والے وائرس کے سامنے بے بس ہوگئے، تمام تر ٹیکنالوجی بیکار ثابت ہوئی۔ ایسے میںبیشتر ممالک نے وبا سے بچنے کیلئے لاک ڈائون کا اہتمام کیا، جو جہاںتھا وہیں کا ہو کر رہ گیا۔ اِسی طرزعمل کو اپناتے ہوئے ملک ِ ہندوستان میںارباب ِ حل و عقد نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ اک دم سے لاک ڈائوں کا اعلان کر دیا۔لاک ڈائون کے اِ س اچانک اعلان سے کتنی مصیبتیں جھیلنی پڑیں یہ سب ہمارے سامنے اک کھلی کتاب ہے۔گزشتہ برس کے لاک ڈائون اور رواں برس کے لاک ڈاؤن میں

ابوبکرمحمدبن زکریارازی | عظیم سائنس داں،مشہورِ عالم طبیب اور نفسیاتی معالج

رازی عظیم سائنسداں ہی نہیں ، کثیرالمطالعہ مفکر اور فلسفی بھی تھے۔ انہوں نے یونان کی تمام کتابوں کا مطالعہ کیا تھا۔ نیز وہ اپنے پیشرئوںکی کتابوں سے بھی آگاہ تھے۔وہ حریت ضمیر اور آزادی فکر کے قائل تھے۔ متاخرین کو متقدمین پر فوقیت دیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ متاخرین کے پاس متقدمین کا علم بھی ہوتا ہے۔ وہ افلاطون کو ارسطوپر فوقیت دیتے تھے اور اپنے آپ کو افلاطون اور ارسطو دونوں سے برتر سمجھتے تھے ۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ فلسفہ میں سقراط اور طب میں بقراط کے ہم پایہ ہیں۔  رازی کسی بات کو صرف اس لئے صحیح نہیں سمجھتے تھے کہ اسے اگلے کہہ گئے ہیں یا کوئی یونانی فلسفی اسی کا قائل رہا ہے۔ وہ کسی چیز کو اسی وقت صحیح مانتے تھے جب تجربے اور مشاہدے سے اس کی تصدیق ہوتی تھی۔ انہوں نے ارسطو پر تنقید کی اور ان کے بعض نظریات مسترد کردئے۔ جالینوس پر اعتراضات کئے اور ان کی غلطیوں کی نشاندہی کی۔ ماہر

روزہ اور حصولِ تقویٰ… چند احکام و مسائل

نزولِ قرآن کیلئے ماہِ رمضان کا انتخاب ماہِ رمضان کو ایک فضیلت یہ بھی حاصل ہے کہ اس مہینے میں قرآن کا نزول ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے(شَھْرُرَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰںُ ھُدًی لِّلْنَاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَان)’’رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن اُتارا گیا جو لوگوں کے لئے سراسر ہدایت ہے‘اورجس میںہدایت کی اور (حق وباطل میں ) فرق کرنے کی واضح دلیلیں ہیں۔ ایک اور جگہ پر یوں ارشاد ہوا ہے’’اِنِّااَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ‘‘’’بے شک ہم نے اس(قرآن)کو قدر والی رات میں اُتارا‘‘۔ اِن آیات کے معنی اور مفہوم میں اکثر علماء نے سکوت اختیار کیاہے۔امام ابنِ کثیر ؒنے البتہ ابنِ عباس ؓ کے حوالے سے رقم کیا ہے کہ رمضان کے مہینے میں قرآن آسمان سے بیت العزت کی طرف نازل ہوا اور پھر وہاں