تازہ ترین

سرمایہ دارا نہ جمہوریت!

نئے سال کے ٹھیک پانچ دن بعد 6؍ جنوری 2021ء کو اُس وقت امریکی کانگریس کی عمارت ’’کیپٹل ہل‘‘ پرسابق صدرِ امرریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے حامیوں نے دھاوا بول دیا، اس وقت وہاں 2020ء کے صدارتی انتخابات کے نتائج کی توثیق و تصدیق کے لئے دونوں ایوان نمائندگان (قومی اسمبلی)اور سینٹ کا مشترکہ اجلاس ہو رہا تھاجہاں۔ امیریکہ میں انتخابی ووٹوں کی گنتی کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہر ریاست کے مصدقہ نتائج صدر نشین یعنی نائب صدر کو پیش کئے جاتے ہیں جو ایوان سے پو چھتے ہیں کہ کسی کو کوئی اعتراض تو نہیں؟ نمائندگان  کے اعتراض نہ کرنے کی صورت میں نتیجے کی توثیق کر دی جاتی ہے۔ یہ ایک رسمی کارروائی ہی ہوتی ہے لیکن قانون کے تحت اگر کم از کم ایک سینٹر اور ایوان نمائندگان کا ایک رکن تحریری اعتراض جمع کر ادے تو پھر مشترکہ کارروائی معطل کر کے دونوں ایوان اس اعتراض پر بحث کر کے رائے شماری کے ذریعے فیص

بیمارمعاشرہ

خیر امت ہونے کی حیثیت سے ہمیں ہر معاملے میں اچھا اور اعلیٰ ہونا چاہئے تھا لیکن معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان کے عظیم مفکر احمد جاوید صاحب کہتے ہیں کہ ہمارا سب سے بڑا اجتماعی مرض یااْمّْ الامراض یہ ہے کہ ہم گھٹیا لوگ بن کر رہ گئے ہیں ؛ ذوق میں ، فہم میں ، ذہن میں ، اخلاق میں ہر معاملے میں ہم اوسط سے نیچے ہیں۔ یہ ہمارے انحطاط کا سب سے بڑا سبب ہے اور اسی سے ذہنی اور اخلاقی انحطاط پیدا ھوا۔۔۔ ہم بہت چھوٹے لوگ ہیں اور اس چھوٹے پن کو دْور کرنے کی خواہش بھی نہیں رکھتے۔ ہم بہت معمولی لوگ ہیں اور اس معمولی پن سے نکلنے کی ہم کوئی طلب بھی نہیں رکھتے۔معمولی پن پیدا ہو جانا مرض ہے۔معمولی پن پر راضی ہو جانا موت ہے۔معمولی پن کا متبادل لفظ پست بھی ہے۔ پست ہونا ہمارے وجود کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ میدان چاہے علم کا ہو، فہم کا ہو، ذوق کا ہویا اخلاق کا ہو، ہم معمولی اور پست سطح کا وجود پیش کرتے ہیں۔

ڈپٹی نذیر احمد کا نظریہ تعلیم

ڈپٹی نذیر احمدانگریزی علوم کو انگریزی میں ہی پڑھنے کو ضروری سمجھتے تھے۔ان کے بقول انگریزی سے فرار اب نا ممکن ہے کیونکہ اب ہر طرف انگریزی کا دو دورہ ہے لہٰذا ضروری ہے کہ ان علو کو ترجمے کے بجائے انگریزی میں ہی سیکھا جائے۔وہ اپنے بیٹے بشیر احمد کو ایک خط  میں لکھتے ہیں :"اب انگریزی کا یہ حال ہے کہ گنجینہ علوم ہے۔یونانی اور عربی اور سنسکرت اور لیٹن وغیرہ میں جو ذخیرے تھے ،انگریزوں نے سب اپنی زبان میں جمع کرلئے  ہیں"۔نذیر احمد ،موعظہ حسنہ:37) وہ مسلمانوں کو یورپ کی مثال دیتے ہیں کہ آج جو ترقی ہم وہاں دیکھ رہے ہیں ،اس کے پیچھے "علم و ہنر" کا راز ہے۔ لہٰذا ہمیں بھی اس کو سیکھنا چا ہئے۔وہ مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ تعلیم کو نوکری کے حصول کے لئے نہ پڑھیں۔وہ تعلیم کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ادنیٰ اور اعلیٰ۔ادنیٰ تعلیم سے وہ مروجہ تعلیم مراد ہے جس کو اکثر

سِول سروسز مسابقتی امتحانات کی تیاری کیسے کریں؟

یوپی ایس سی سیول سروسز کے ہر پرچے کے لیے ایک باضابطہ نصاب دیا گیا ہے لیکن مینز میں ایک پرچہ ایسا بھی ہے جس کا کوئی مدلل اور واضح نصاب نہیں ہے اور وہ ہے مضمون یعنی Essayکا پرچہ۔یہ پرچہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے لیکن بعض طلبہ اس کو قابلِ توجہ نہیں سمجھتے جو ایک غلط روش ہے۔بات کو مزید آگے بڑھانے سے پہلے آئیں دیکھتے ہیں کہ اس پرچے کے حوالے سے یوپی ایس سی کیا کہتا ہے۔اس پرچے کے بارے میں یوپی ایس سی فقط اتنا کہتا ہے کہ: "Candidates may be required to write essays on multiple topics.They will be expected to keep closely to the subject of the essay to arrange their ideas in orderly fashion,and to write concisley.Credit will be given for effective and exact expression." یہ چند سطور کہہ دینے کے بعد یوپی ایس سی اپنا پلو جھاڑتا ہے اور طلبہ کو ایک مکمل پرچے کا ہدایت نامہ ان ہی چند س

فوڈ ٹیکنالوجی میں کیریئر کے بے پناہ مواقع

شعبہ سائنس سے بارہویں کرنے والے طلبہ نے انجینئرنگ کے لیے جے ای ای یا پھر ریاست مہاراشٹر کا سی ای ٹی کا امتحان دیا ہوگااور یقیناً ان کے ذہن میں شعبہ انجینئرنگ میں کرئیر بنانے کا منصوبہ ہوگا۔ دسویں کے وہ طلبہ جو انجینئرنگ میں جانے کے خواہشمند ہیں وہ بھی دسویں کے بعد ڈپلوما ان انجینئرنگ کورسیس کے ذریعے انجینئرنگ میں اپنا کرئیر بنا سکتے ہیں۔ عموماً ابتدائی مرحلہ میں ہمارے طلبہ انجینئرنگ کی چند اہم اور معروف شاخوں کے بارے ہی میں جانتے ہیں اور زیادہ تر کی کوشش بھی یہی رہتی ہے کہ وہ میکانیکل، الیکٹرونکس، سول، کمپیوٹرس وغیرہ شعبوں میں داخلہ حاصل کرلیںمزید زیادہ تر انجینئرنگ کالیجیس میں انہی شعبوں کی تعلیم و تربیت کا نظم ہوتا ہے۔ لیکن یاد رکھیے کہ انجینئرنگ ایک وسیع شعبہ ہے اور ان روایتی کورسیس سے ہٹ کر ایسے کورسیس کی طرف راغب ہونا ضروری ہے جن کی مانگ بڑھتی جارہی ہے اور آئندہ بھی اس میں اضافہ