غیر شادی شدہ خواتین کی بڑھتی تعداد

ارض کشمیر جسے ادیبوں اور شاعروں نے اپنی تحریروں میں "جنت"سے موسوم کیا ہے، اہل زمین سے چند توجہات کی متقاضی ہے۔ اس خطے کو تاریخ میں "پیر وار" اور اولیاء اللہ کی آماجگاہ قرار دیا گیا ہے، یہاں پر بڑے بڑے عالم و داناؤں نے تولد پایا اور کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ مثال کے طور پر شیخ العالم حضرت نورالدین نورانی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت ایشان شیخ یعقوب صرفیؒ، سید میر علی ہمدانیؒ، سلطان العارفین حضرت شیخ حمزہ مخدومی رحمہ اللہ، حضرت شیخ سید فریدالدین بغدادی ؒاور بابا غلام شاہ بادشاہؒ وغیرہم کے اسمائے گرامی خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ ان اہل کشف و زہد اولیائے کرام نے اپنے قیل و قال اور عمل و سعی کے ذریعے سے کشمیر کے عوام کی دینی و اخلاقی تربیت و رہنمائی کو اپنا ہمہ وقتی مشرب بنایا اور وادی کے نشیب وفراز، شہر و دیہات تک اسلامی تعلیمات کی اشاعت کا فریضہ بحسن و خوبی انجام دیا۔ ان کی تعلی

لاک ڈائون اور نسا اعزازات

یہ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ ابتدائے آفرینش سے تعلیم فرد اور معاشرے کی کُلہم تعمیر و ترقی اور خوشحالی کیلئے کس قدر ناگزیر رہی ہے ۔ اقوامِ عالم میں جن قوموں نے تعمیر و ترقی میں جھنڈے گاڈ دئے ہیں ، بہر حال تعلیم ہی اس کے لئے سب سے بڑی محرک ثابت ہوئی ہے۔ امریکہ، فرانس ،  برطانیہ ، جرمنی ، جاپان وغیرہ کی تعلیم اور انکا تعلیمی نظام اس قدر دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے کہ زندگی کا کوئی بھی شعبہ اسکی دسترس سے باہر نہیں ہے ۔پھر ترقی پزیر ممالک خصوصاًایشیا میں تو تعلیم کی اہمیت و افادیت کئی گُنا بڑھ گئی ہے ۔ لیکن بر صغیر کے کئی ممالک ابھی صد فی صد شرح  خواندگی حاصل کرنے سے بھی قاصر ہیں  اور جو ممالک کسی قدر آگے بڑھنے کی دوڈ میں شامل ہیں ،منفی اور مثبت قوتیں کہیں سدراہ آتی ہیں تو کہیں یہ قوتیں مہمیز کا کام کرتی ہیں ۔ بقولِ ثابق ڈائیریکٹر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی

تازہ ترین