تازہ ترین

اظہار رائے کی آزادی | نکتۂ نظر بیان کریں ، کسی کی تذلیل نہیں

 اظہارِ رائے کی آزادی انسان کا بنیادی اور اخلاقی حق ہے جس سے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یہ حق شعورکو پروان چڑھا کر بہت ساری گتھیوں کو سلجھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔اظہار رائے کی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ ہرانسان تقریروتحریر میں آزاد ہے اورکسی بھی فکر، نظریہ، سوچ، عمل اورنظام کے بارے میں اپنا ایک خاص نکتہ نظر قائم کرسکتا ہے اورکسی بھی فکر، سوچ، نظریہ یا عمل کی حمایت کرکے اس کی ترویج کرسکتا ہے یا پھر تنقید کرنے سے اس کی اصلاح یا اس سے یکسر منحرف ہوجانے کا بھی حق رکھتا ہے۔  اظہار رائے کی آزادی میں تنقید کا حق بجا ہے لیکن یہ خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ جہاں تنقید کی حد ختم ہوتی ہے، وہاں سے ہی تذلیل کی سرحد شروع ہو جاتی ہے اورکسی کی تذلیل کرنا ہر معاشرے میں برا عمل ہے۔اختلافِ رائے کو قبول کرنے کی بنیاد یہ تسلیم کرنے میں ہے کہ لوگوں کا زاویہ نظر مختلف ہوتا ہے اورا

وہی دُعااثر کرتی ہے جو دل کی تڑپ سے پیدا ہوتی ہے | دعا ہی سبیل ِ واحد

اس سلسلے میں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو دنیا والوں کے سلام اور ان کی دعائے رحمت پہنچا دیتا ہے کیونکہ یہ چیزیں ان کے لیے فرحت کے موجب ہیں،اور اسی طرح وہ مجرموں کو دنیا والوں کی لعنت اور پھٹکار اور زجر و توبیخ سے مطلع فرما دیتا ہے جیسے جنگ بدر میں مارے جانے والے کفار کو ایک حدیث کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توبیخ سنوا دی گئی،کیونکہ یہ ان کے لیے اذیت کی موجب ہے۔لیکن کوئی ایسی بات جو صالحین کے لیے رنج کی موجب،یا مجرمین کے لیے فرحت کی موجب ہو ،وہ ان تک نہیں پہنچائی جاتی۔اس تشریح سے سماع موتیٰ کے مسئلے کی حقیقت بخوبی واضح ہوجاتی ہے۔(تفہیم القرآن) جو خود انسان کی طرح محتاج اور عاجز ہوں اور کسی بھی کام کا اختیار نہ رکھتے ہوں، انہیں پُکارنا کہاں کی عقلمندی ہے؟نادانی میں جو لوگ اس سنگین گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں دیکھو اللہ تعالیٰ انہیں کس طرح چیلنج

وہی دُعااثر کرتی ہے جو دل کی تڑپ سے پیدا ہوتی ہے | دعا ہی سبیل ِ واحد

اس سلسلے میں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو دنیا والوں کے سلام اور ان کی دعائے رحمت پہنچا دیتا ہے کیونکہ یہ چیزیں ان کے لیے فرحت کے موجب ہیں،اور اسی طرح وہ مجرموں کو دنیا والوں کی لعنت اور پھٹکار اور زجر و توبیخ سے مطلع فرما دیتا ہے جیسے جنگ بدر میں مارے جانے والے کفار کو ایک حدیث کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توبیخ سنوا دی گئی،کیونکہ یہ ان کے لیے اذیت کی موجب ہے۔لیکن کوئی ایسی بات جو صالحین کے لیے رنج کی موجب،یا مجرمین کے لیے فرحت کی موجب ہو ،وہ ان تک نہیں پہنچائی جاتی۔اس تشریح سے سماع موتیٰ کے مسئلے کی حقیقت بخوبی واضح ہوجاتی ہے۔(تفہیم القرآن) جو خود انسان کی طرح محتاج اور عاجز ہوں اور کسی بھی کام کا اختیار نہ رکھتے ہوں، انہیں پُکارنا کہاں کی عقلمندی ہے؟نادانی میں جو لوگ اس سنگین گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں دیکھو اللہ تعالیٰ انہیں کس طرح چیلنج

سردی کا موسم اور موسم کا تقاضہ | حقوق ُ اللہ اور حقوق ُالعِبادد لازم و ملزوم

آیا موسم سردی کا بازاروں میں گرم کپڑوں کی آمد، مفلر، سوئٹر، کوٹ سے دکانیں سج گئیں۔ ایک طرف جہاں بہت سے لوگ گرم کپڑوں کی خریداری میں مصروف ہیں تو دوسری طرف بہت بڑی تعداد ایسی ہے، جو گرم کپڑوں کی خریداری کرنے سے محروم ہے، روڈ کے کنارے اپنی زندگی کا گزر بسر کررہی ہے اور اپنی غربت اور بے بسی پر آنسو بہا رہی ہے ۔کورونا و ا میکرون جیسی وبا، لاک ڈاؤن اور وقتاً فوقتاً نائٹ کرفیو سے بہت زیادہ لوگ ایسے ہیں جو آج بھی بھکمری کے دہانے پر کھڑے ہیں ،وہ کیسے اپنے آپ کو سردی سے بچائیں گے، اپنے بچوں کیلئے کیسے گرم کپڑے خریدیں گے۔ کیا ان کے بچے سردی میں ٹھٹھر کر اپنی زندگی کا گذارہکریں گے۔ سردی کے موسم نے بہت سارے سوال کھڑے کردیئے ہیں کیونکہ پڑوسی کا خیال، غریبوں کا خیال، کمزوروں کو سہارا، انسانی ہمدردی یہ سب فرمان، خیالات، نظریات اسٹیج سے کتاب تک اور تقریر سے تحریر تک سمٹ گئے ہیں –۔آج نمائش

اَدب کے کارنامے | اِصلاح اورقوت چھوٹی چھوٹی باتوںسے پیدا ہوتی ہے

یہ ایک حقیقت ہے کہ ادب سماج کا آئینہ ہے۔ جو بات انسان براہ راست نہیں کہہ پاتا ہے، ادب اس کا معقول ذریعہ ہے۔ جب سے اس دنیا میں انسان نے شعور کی آنکھ کھولی ہے، تب سے لے کر آج تک انسان نے اپنے ماحول اور اپنے آپ کو لکھنے کی کوشش کی ہے۔ ادب کسی بھی زبان کا ہو، ادب بنیادی طور پر یکساں ہوتا ہے۔انسان نے خواہشات کو، ظلم و جبر کو، تنازعات کو، سماجی برائیوں کو، آنے والے کل کو، گزرے ہوئے زمانے کے حالات، وغیرہ کو الفاظ کے سانچے میں ڈالا۔ ادب ہر زمانے میں ایک اثر دار شعر کی صورت میں نکھر کر آیا ہے۔ اس نے سماج کو بدلنے میں بہت زیادہ رول ادا کیا ہے۔ اگر ہم آج کے زمانے کی بات کرے، تو ادب کی اہمیت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ سماجی سطح پر، سیاسی سطح پر، اقتصادی سطح پر، اخلاقی سطح پر، نیز اس کا ہونا پہلے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوگیا ہے۔        سماجی سطح پر ایسی برائیاں ہمارے سماج میں

روزگار پر آٹومیشن اور روبوٹک ٹیکنالوجی کےاثرات | مصنوعی ذہانت انسانوں کی جگہ لے سکتی ہے؟

صنعتی ترقی کی ایک طویل تاریخ ہے، اور اس کے ساتھ ہر دور میں آٹومیشن میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ آٹومیشن کا آغا ز پہلے صنعتی انقلاب کے ساتھ ہی ہوگیا تھا اور تب سے لے کر اب تک مختلف کاموں کے لیے مشینیں، انسانوں کی جگہ لیتی رہی ہیں۔ سب سے پہلے آٹومیشن زراعت اور حرفت کے شعبوں میں متعارف کروائی گئی تھی، جیسے ہاتھ سے بُنائی، پھر بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ اور حالیہ عشروں میں کئی دفتری کام اب مشینوں کے ذریعے ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ٹیکنالوجی کی ترقی سے جیسے جیسے اضافی آمدنی حاصل ہوتی ہے، وہ آمدنی معیشت میں شامل ہونے سے ، نئی نوکریوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سلسلہ ابھی تک جاری وساری ہے، جس کے نتیجے میں ہنرمند اور تعلیم یافتہ افراد کو روزگار اور آمدنی کے نئے وسائل ہر دور میں میسر آتے رہتے ہیں۔ تاہم، کہا جاتا ہے کہ چوتھا صنعتی انقلاب ماضی کے صنعتی انقلابوں سے قدرے مختلف ثابت ہوسکتا ہے، جہاں اسما

نوجوان اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھائیں | سماجی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیں

کسی بھی قسم کی مثبت سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا نوجوانوں کو کافی فائدہ ہوتا ہے۔ والدین بھی اس حوالے سے بہت زیادہ سوچتے ہیں کہ انھیں اپنے بچوں کے لیے ایسے کیا کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بڑے ہوکر ترقی کریں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جب نوعمر افراد اپنی کمیونٹیز میں بامعنی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں تو وہ ترقی کی منازل طے کرتے ہیں۔جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے ہیں وہ اپنے دوستوں، خاندان، کمیونٹی اور معاشرے کو زیادہ معنی خیز طریقوں سے جذباتی اور عملی مدد فراہم کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور معاونت کرنے والا رویہ دراصل بچپن سے ہی فروغ پاتا ہے۔ نوعمری میں نوجوانوں کے خیالات اور سوچ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں آتی ہیں، ساتھ ہی ان کی جسمانی، علمی اور جذباتی صلاحیتیں یکجا ہوجاتی ہیں، جن کی بدولت وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو حقیقی فوائد پہنچانے میں اپن

تازہ ترین