تازہ ترین

بچوں کی تعلیم و تربیت اور مصروف رکھنے والی سرگرمیاں

والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تمام ضرورتیں اور خواہشات پوری کریں، جس کے لیے وہ اپنی تمام کوششیں اور انتھک محنت کرتے ہیں۔ والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے زندگی کی دوڑ میں سبقت لے کر معاشرے کا کارآمد فرد بن جائیں، اسی لیے وہ انھیں بہتر سے بہتر تعلیم بھی دلوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود جب بچوں کی کارکردگی پر بیشتر والدین پریشان، مایوس اور غصے کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان کی سمجھ نہیں آتا کہ آخر ایسا کیا کیا جائے جس سے بچے کی کارکردگی میں بہتری آسکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں والدین کو چاہیے کہ بچوں سے بات کریں اور ان کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کریں ورنہ بہتری کے بجائے صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔ والدین کی جانب سے سپورٹ نہ ملنے پر اگر ان میں اعتماد کی کمی ہوجائے تو ان کے اندر بہتر کارکردگی دکھانے کا خوف پیدا ہوجاتا ہے اور یہ چیز ان کی تعلیمی کارکردگی

ہماری نوجوان نسل اورمنشیات کی وبا

ایک انسان کی زندگی کا سنہرامرحلہ(Golden period) نوجوانی کا مرحلہ ہوتا ہے۔اس مرحلے میں ایک انسان کی زندگی سنور سکتی ہے اور بگڑ بھی سکتی ہے۔فیصلہ انسان کے ہاتھ میں ہے۔دنیا میں جو بھی انقلابات رونما ہوئے،ان میں نوجوانوں کا اہم رول رہا ہے۔ دنیا میںجس کسی قوم کو زوال آیا تو اس میں بھی نوجوان نسل کاکافی رول رہا ہے۔الغرض کسی بھی قوم کا عروج و زوال اُس قوم کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہی ہوتا ہے۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کا انکار کرنا نہیں کیاجاسکتا ہے۔طارق بن زیاد نے جب تحفظ ملک و ملت،اصلاح معاشرہ اور تعمیر ِ سیرت میں ایک انقلاب کی بنیاد ڈالی، اُس وقت وہ بھی نوجوان ہی تھے۔ بلا شبہ اس وقت ہماری قوم خوشحالی انقلابی ترقی کے لئے ترس رہی ہے۔قوم کے اس خواب کی اگر کوئی صحیح تعبیر دے سکتا ہے تو وہ قوم کا نوجوان ہے۔ شرطیکہ کہ قوم کے نوجوان اس انقلاب کے لئے ذہنی طور تیار ہوجائیں اوربُرائیوں و خرافات

احساسِ ذمہ داری سب سے قیمتی سرمایہ

قدرت نے انسان کو احساس و جذبات کی دولت سے مالامال پیدا فرمایا ہے اور شعور کی دولت سے نوازا ہے، تاکہ اپنے اچھے برے کو خوب اچھی طرح پہچان سکے کہ اس کے لیے کیا مفید ونفع بخش ہے اور کس چیز میں خسارہ و نقصان ہے، اور اس طرح اپنی زندگی خوش گوار گزارے۔ قرآن مجید نے اس بات پر خوب زور دیا ہے کہ انسان کو بیکار پیدا نہیں فرمایا بلکہ اس کی زندگی کا ایک مقصد ہے: ترجمہ۔’’کیا آدمی اس گھمنڈ میں ہے کہ آزاد چھوڑ دیا جائے گا ‘‘(القرآن۔٣٦۔ قیامہ)   مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو بالکل آزاد نہ جانے بلکہ ذمہ دار سمجھے۔ یعنی جن چیزوں کو کرنے کا حکم ہے، اُن کو کرے اور جن سے منع کیا گیا ہے، اُن کے قریب بھی نہ جائے ۔ سورہ فاتحہ کے بغور مطالعے سے بھی یہ بات خوب صاف ہوجاتی ہے کہ انسان جانوروں کی طرح آزاد نہیں بنا بلکہ ذمہ دار بنا ہے۔ اس آیت، مَـٰلِكِ یَومِ ٱ ِالدّین پر

سوشل میڈیا اور ہمارا مستقبل ؟ | نوجوان نسل خرابیوں اور بُرائیوں کی طرف گامزن

نوجوان کسی بھی قوم و ملت کا اصل سرمایہ ہوتا ہے۔قوم و ملت کی نظریں نوجوانوں پر ہوتی ہیں۔ کسی بھی قوم میں کوئی انقلاب اور تبدیل نوجوانوں کی بدولت ہی رونما ہوتی ہے جس طرح سے ایک نوجوان بیٹا والدین کا سہارا ہوتا ہے ۔اسی طرح سے قوم کی نوجوان نسل بھی قوم کا سہارا اور قوم کا مستقبل ہوتا ہے جس کے سہارے قوم چلتی ہے،آگے بڑھتی ہے اور خوشحالی کی جانب گامزن ہوجاتی ہے۔ جس قوم کے نوجوان محنتی، قابل ،ذہین، دیندار، ہوشیار اور ہونہار ہونگے وہی قوم بہتر مانی جاتی ہے۔کیونکہ قوم کے وسائل کا بہتر استعمال اسی صورت میں ہوگا، جب قوم کے نوجوانوں میں عقل و شعور ہو گا ۔نوجوانوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی قوم کو سہارا دیں اور مشکلات اور مصائب سے نکال کر قوم کا مستقبل تابناک بنائیں ۔قوم کے نوجوانوں پر فرض ہےکہ وہ معاشرے میں پھیلی برائیوں ،اور سماجی ناسور کا قلع قمع کرنے میں اپنا بہتر کرداراداکریں۔ اس طبقے

والدین اور بیوی کے ساتھ مرد کا کردار! | بے جا طرفداری رشتوں کے لئے نقصان دہ

میاں بیوی کا رشتہ انسانی رشتوں میں سب سے  نازک اور اہم ہوتا ہے۔یہی رشتہ سب رشتوں کی بنیاد ہے۔شادی کے کامیاب ہونے کے لیے صرف محبت ہی کافی نہیں ہوتی ہے۔ اس کے لیے دونوں میاں بیوی بشمول ان کے اہل خانہ کی طرف سے بہت زیادہ محنت اور تھوڑا سا سمجھوتہ درکار ہوتا ہے کیونکہ شادی صرف دو افراد کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اگرچہ ایک نئی شادی شدہ عورت سے نئے خاندان کے طریقوں سے مطابقت پیدا کرنے کی توقع کی جاتی ہے، نئے ماحول میں خود کو آراستہ کرنے میں بیوی کو کچھ حد تک مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ شوہر کو اس طرح کی کسی دقت یا پریشانی سے نبرد آزما نہیں ہونا پڑ رہا ہے ۔ شوہر کا کردار اس اعتبار سے مشکل ہوتا ہے کہ وہ والدین یا بیوی میں سے کس ایک کی طرفداری کرے اور کس ایک کی نہ کرے ۔کیونکہ کسی ایک کی بے جا طرفداری کرنے سے اس بندھن  کےٹوٹنے تک کی بھی نوبت آجاتی ہے۔ اس لئے شوہر کو چاہیے کہ میان

تازہ ترین