بٹلر نے ہمارے منہ سے فتح چھین لی:اظہر

مانچسٹر/پاکستان کے کپتان اظہر علی نے انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں تین وکٹوں کی شکست کے بعد کہا کہ ٹیم مضبوط پوزیشن میں تھی لیکن جوز بٹلر کی شاندار بیٹنگ نے ہمارے منہ سے فتح چھین لی۔میچ کے بعد میڈیا کانفرنس میں اظہر علی سے سوال ہوا کہ کیا آپ نے خراب کپتانی کی یا ٹیم اچھا نہیں کھیلی اس پر انھوں نے کہا کہ بطور کپتان میں اس شکست کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں مگر آپ میری قیادت کو شکست کی وجہ قرار نہیں دے سکتے ۔بطور ٹیم ہم اچھا نہیں کھیلے ،10سالہ تجربے سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے ۔بیٹنگ کرتے ہوئے کپتانی اور کپتانی کرتے ہوئے بیٹنگ کا نہیں سوچتا،اس لیے دونوں ایک دوسرے کو متاثر نہیں کر رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ چوتھے روز پچ اچانک آسان ہوگئی۔ہم ریورس سوئنگ نہ ہونے پر حیران ہیں۔بہرحال جب5وکٹیں حاصل کیں تو حالات حق میں جا رہے تھے مگر پھر جوز بٹلر اور کرس ووکس کی شراکت نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا

وسیم اکرم کی اظہر علی کی کپتانی پر تنقید

مانچسٹر/مانچسٹر ٹیسٹ میں شکست کے بعد سابق کپتان وسیم اکرم نے کپتان اظہر علی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اظہر علی کو کئی مواقع ملے لیکن وہ فائدہ نہیں اٹھا سکے، شکست سے شائقینِ کرکٹ اور پاکستان ٹیم کو تکلیف ہوئی ہو گی۔ وسیم اکرم نے کہا کہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے لیکن ہمارے کپتان نے موقع کھو دیا۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک اظہر علی کی کپتانی کا تعلق ہے انہیں کئی مواقع ملے لیکن وہ فائدہ نہ اٹھا سکے، جب کرس ووکس بیٹنگ کے لیے آئے تو انہیں سیٹ ہونے دیا گیا، نہ باؤنسرز، نہ شارٹ بالز کرائے گئے جس کی وجہ سے پارٹنر شپ لگ گئی تو کچھ بھی کارآمد نہ رہا اور میچ ہاتھ سے نکل گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم قدرتی صلاحیتیوں، غیر یقینی اور اٹیک کا نام ہے، ہم کاؤنٹی بولرز نہیں ہیں جو آئیں اور سارا دن لائن اینڈ لینتھ پر بولنگ کریں۔  

تازہ ترین