تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    24 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیر احمد قاسمی

بازار ِحصص میں خریداری ، چند اہم مسائل

سوال : آج کل بہت سارے لوگ Stock Exchange میںسرمایہ کاری کی غرض سےشیئر share خریدتے ہیں ۔پھر جب ان شیئرزکی قیمت بڑھ جاتی ہے تو اُن کو فروخت کرتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ (۱) یہ شیئرخریدنا جائز ہے(۲) ان کے خریدنے میں کوئی شرط تو نہیںہے(۳) جب ان  شیئرزکو فروخت کیا جائےتو جو اضافی رقم آئے وہ سود( Interest)کے زمرے میں تو نہیں آئے گی؟ تفصیلی جواب کی درخواست ہے۔
مدثر احمد میر۔بمنہ سرینگر
جواب : شیئر مارکیٹ جس کو بازارِ حصص کہا جاتا ہے ِاُس میں سرمایہ کاری کرنے کی چار شرطیں ہیں۔
۱۔ جس کمپنی کے شیئر خریدے جارہے ہیں ،وہ کسی حرام کاروبار کی کمپنی نہ ہو۔ایسی کمپنی یا سودی اداروںکے شیئر خریدنا جائز نہیں۔
۲۔جس کمپنی کے شیئر خریدے جارہے ہوں،اُس کے اثاثے اور املاک سب کے سب صرف نقد رقوم تک ہی محدود نہ ہوںبلکہ کچھ جامد اثاثے بھی کمپنی حاصل کرچکی ہو۔مثلاً بلڈنگ حاصل کرلی ہو یا زمین خریدلی ہو یا مشینری مہیا کرلی ہو ۔اگر کسی ایسی کمپنی کے شیئر خریدے گئے جس کے اثاثے ابھی صرف رقوم کی شکل میں ہوں ،تو اُس سے خریدے گئے شیئر کم زیادہ کرکے فروخت کرنا جائز نہ ہوگا بلکہ Face Valueپر بھی فروخت کرنے کی اجازت ہوگی،ورنہ زیادہ میں فروخت کریں تو وہ سود ہوگا۔
۳۔تیسری شرط یہ ہے کہ جس جائز کمپنی مثلاً دوا سازی ،ٹیکسٹائل ،آٹو موبائیل وغیرہ کمپنی کے شیئر خریدے جائیں تو وہ کمپنی نہ تو کسی بنک سے سودی قرضے لے اور نہ اپنی فاضل رقوم بنک میں رکھے۔اگر کمپنی ایسا کرے اور عموماً ایسا ہونا یقینی ہے تو شیئر خریدنے والا اس طرز عمل پر آواز اٹھائے،احتجاج کرےاور سالانہ جنرل میٹنگ میں اس پر اعتراض کرے،اپنا انکار نوٹ کرائے۔اس کے بعد کمپنی اس کو ترک تو نہیں کرے گی مگر شیئر خریدنے والا خود بری ہوجائے گا  اور اُس کا شیئر کمپنی کے صرف جائز اثاثوں کی نمائندگی کرے گا۔
۴۔چوتھی شرط یہ ہے کہ جب منافعےتقسیم ( Divided )ہوں تو منافع کی دستاویز، جس کو Income Statementکہتے ہیں ،کے ذریعے یہ معلوم کرے کہ آمدنی کا کتنا حصہ سودی ذریعہ سے حاصل ہوا ہے اور کتنا حصہ غیر سودی ذریعہ سے۔منافع کی جو مقدار سودی ذریعہ سے آئی ہو ،اُس مقدار کو اپنی ذات پر خرچ نہ کرے،کیونکہ سودی استعمال حرام ہے۔یہ سودی رقم انکم ٹیکس ،سیل ٹیکس یا سودی قرض میں خرچ کرے یا کسی غریب ،مفلوک الحال شخص کو صدقہ کی نیت کے بغیر دے دی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سلبِ ایمان کا سبب بنے والا 

کام مسلمان کے لئے جائز نہیں

سوال:ہم سرینگر کے رہنے والے ،اس وقت کلکتہ شہر میں بزنس کررہے ہیں،کشمیر عظمیٰ ہر جمعہ کوبھی نیٹ پر پڑھتے ہیں۔اس وقت ایک ضروری سوال تحریر کراکے آپ تک پہنچارہے ہیں ۔برائے کرم جواب شائع کراکےمشکو ر فرمائیں۔کیا کوئی مسلمان ماتھے پر ٹیکہ لگاسکتا ہے،کیا کسی مسلمان کے لئے اس کی گنجائش ہے کہ وہ کسی غیر مسلم عورت کو اپنی بہن بنائےاور اُس سے اپنے ہاتھوں میں بہن ہونے کا دھاگا بندھوائے۔کیا کسی مسلمان کے لئے گنجائش یا اجازت ہے کہ وہ کبھی وہ باتیں زبان سے کہے جو دوسرے دھرم والے کہتے ہیں؟ یہ سوالات اس لئے لکھنے کی ضرورت سمجھی کہ یہاں کلکتہ میں ہم نے کچھ مسلمان بھائیوں کو ایسا سب کچھ کرتے ہوئے پایا ۔
فیاض احمد،خورشید احمد ۔
مقیم حال کلکتہ ،مغربی بنگال
 
جواب : مسلمان وہ شخص ہے جوا ایمان کی نعمت سے سرفراز ہے۔ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ،انسان اُس کی تصدیق بھی کرے اور زبان سے اقرار بلکہ اعلان بھی کرے۔اس کو ایمان مجمل اور ایمان مفصل کہا جاتا ہے ۔ایمان کی یہ دولت عظیم بھی ہے اور بہت نازک بھی۔چونکہ یہ بہت نازک بھی ہے اس لئے ہر مسلمان کو اس بارے میں بہت ہوشیار اور بہت ہی محتاط رہنا ضروری ہےکہ کہیں ایسی غلطی نہ ہوجائے کہ اُس کی یہ نعمت اُس سے چھن چکی ہو،اور وہ بے خبر ہو۔جن چیزوں سے یہ ایمان ختم ہوجاتا ہے ،اُن کو اگر کوئی مسلمان لاعلمی کی وجہ سے اختیار کرے تو وہ ایمان کی نعمت سے محروم ہوچکا ہوتا ہے مگر اُسے پتہ بھی نہیں ہوتا ،اور اگر کوئی مسلمان ایسا کوئی کام، جو ایمان کے سلب ہونے کا سبب بنے، جان بوجھ کر اختیار کرے تو وہ مرتد ہوجاتا ہے۔
جن چیزوں سےایمان رخصت ہوتا ہے اُن میں دوسری قوموں کے مذہبی شعار کو اپنانا بھی ہے۔اس لئے کسی مسلمان کے لئے ہرگز اس کی اجازت نہیں کہ وہ ان حرکات کا مرتکب ہو جو سوال میں درج ہیں۔
اس طرح کے ان تما م کاموں کی وجہ سے ایمان ختم ہوجاتا ہے ۔چاہے کوئی اس کو اپنے خیال میں معمولی سمجھتا رہے مگر یہ ایمان کے لئے زہر ہے۔جیسے تیزاب کا قطرہ معمولی تو ہے مگر انسان کے لئے قاتل ہے ،ایسے ہی یہ شرکیہ الفاظ یا کام جو بظاہر ہلکے لگتے ہوں مگر ایمان اور اسلام کے لئے زہر ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ کی صفات کی نفی کرنے والے کیلئے تجدیدِ ایمان لازمی

سوال : مسجد میں امام صاحب دعا کررہے تھے کہ ایک مقتدی نے امام صاحب کو کشمیری زبان میں کہا ’’او امام صاحب ! یہ دعائیں کرنا رہنے دیں ۔خدا صاحب سُنتا کہاں ہے،وہ تو ہم سے بھی بہرا بن گیا ہے،اُس کو کوئی رحم و ترس بھی نہیں آتا ہے ۔‘‘ اب سوال یہ ہے کہ کیا اُس شخص کا ایمان باقی رہا یا ختم ہوگیا ۔یہ واقعہ ہماری مسجد میں پیش آیا۔
الطاف احمد ۔رعناواری سرینگر
 
جواب :اللہ جل شانہٗ کی ذات ِ اعلیٰ کی طرف ایسی بات کی نسبت کرنا جو اُس کی شان ِ اعلیٰ کے خلاف ہو ،یہ اُس ذات کی توہین ہے ۔قرآن کریم میں اللہ جل شانہٗ کا ارشاد ہے :(ترجمہ)انہوں نے اللہ کی قدر نہیں پہچانی ،جیسے اُس کی قدر پہچاننے کا حق ہے۔فقہ اسلامی کا ضابطہ ہے کہ جب کوئی بندہ اللہ کی طرف وہ بات منسوب کرے جو اُس کی شان کے مناسب نہ ہو تو وہ شخص کافر ہوجائے گا ۔اللہ جل شانہٗ رحیم بھی ہیں اور سمیع البصیر بھی۔اب جب کوئی شخص نعوذ باللہ یہ کہے کہ اللہ سُنتا کہاں ہے یا یہ کہے کہ اُس کو رحم کہاں آتا ہے تو گویا اُس نے ان صفات کی نفی کی ۔اس لئے ایسے شخص کو تجدید ایمان بھی ضروری ہے اور تجدید توبہ بھی۔ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اُن باتوں کو ہمیشہ ذہن میں رکھے ،جن کی بنا پر ایمان والا ایمان سے محروم ہوجاتا ہے اور اُن باتوں سے ایسے ہی پرہیز کرے جیسے انسان آگ یا زہر سے پرہیز کرتا ہے تاکہ ایمان محفوظ رہے۔
 

تازہ ترین