معاشرے میں حسد کا بڑھتا ہوا رُجحان !

حاسد کا سب سے بڑا دشمن اُس کا حسد ہے

تاریخ    23 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


فاطمه كبروي
 مسلم معاشرہ آج جن برائیوں کا شکار ہے، ان میں سب سے اہم اور خطرناک بیماری حسد ہے۔حسد نفسانی امراض میں سے ایک مرض ہے اور ایسا غالب مرض ہے جس میں حاسد اپنی ہی جلائی ہوئی آگ میں جلتا ہے۔حتىٰ کہ حسد کا مرض بعض اوقات اتنا بگڑ جاتا ہے کہ حاسد محسود کو قتل کرنے جیسے انتہائی اقدام سے بھی دریغ نہیں کرتا۔حسد معاشرے میں بغض و عداوت اور نفرت کے بیج بوتا ہے ،اس لئے اسلام حسد کی تباہ کاریوں کو بیان کرتا ہے اور رشک کی تلقین کرتا ہے تاکہ معاشرہ انتشار کا شکار نہ ہو اور امن کا گہوارہ بن سکے۔
دانشوروں نے کہا ہے کہ حسد ایک ایسی آگ ہے ،جس میں انسان خود جلتا ہے لیکن دوسروں کے جلنے کی تمنا بھی کرتا ہے۔اسلام انسان کو سیرت و کردار کی اس بستی سے اوپر اٹھاتا ہے اور اُن ساری خامیوں اور خرابیوں کو اس کے سینے سے نکال دیتا ہےجو معاشرے کی تباہی و بربادی کا سبب بنتی ہیں اور انسانوں کے دلوں کی کھیتی کو پیار ،محبت،ہمدردی، خیر خواہی اور رفاقت و رحمت کی باران رحمت سے سیراب کرتا ہے۔اس طرح معاشرے میں اطمینان و سکون اور امن وامان بحال ہوتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبی رحمت ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جملہ تعلیمات ساری انسانیت کے لیے سراسر رحمت ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انسانیت نواز تعلیمات میں سے ایک اہم تعلیم یہ ہے کہ حسد سے بچا جائے اور باہم خیرخواہی کی جائے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسد کی سخت مذمت فرمائی ۔فرمایا: حسد کی آگ انسان کی نیکیوں کو جلا کر خاکستر کر دیتی ہیںاور یہ وہ بیماری ہے، جس نے سابقہ اُمتوں کے دین و ایمان کو برباد کر دیا ہے۔ جس دل میں حسد کی آگ جلتی ہے، وہ کسی بھی حال میں اس کو چین لینے نہیں دیتی ۔حاسد مسحود کو نیچا دکھانے ،اس کی غیبت کرنے اور موقع پا کر اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے.شاید اس طرح وہ اپنے دل کو تسکین کا سامان فراہم کرنے کی سعی لاحاصل میں لگا رہتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’تم لوگوں سے بدگمانی سے بچتے رہو کیونکہ بدگمانی سب سے بڑی جھوٹی بات ہے۔لوگوں کے عیب معلوم کرنے کے پیچھے نہ پڑو ،حسد نہ کرو، کسی سے بغض نہ رکھو، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو،اور اللہ کے بندو آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ‘‘۔
اس حدیث میں بہت سی برائیوں سے روکا گیا ہے ۔ایک دوسرے سے حسد کرنے سے بھی روکا گیا ہے۔ایک دوسرے سے حسد نہ کرو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کسی بندے کے دل میں ایمان حسد اکٹھے جمع نہیں ہو سکتے گویا اگر ہمیں ایمان کی حفاظت کرنی ہے، اس کی فکر کرنا ہے یا اس کو اپنے دل میں جمع کرنا ہے تو حسد جیسی چیز کو وہاں سے نکالا جائے۔
حسد ہے کیا چیز؟حسد ہوتا ہے کسی صاحب نعمت یعنی جس کے پاس نعمت ہے کوئی اچھی چیز ہے ،اس کی نعمت کو دیکھ کر جلنا ،بے چین ہو جانا اور پھر اس بات کی تمنا کرنا کہ یہ نعمت اس سے کسی طرح چھن جائے۔ اس شخص کے پاس نہ رہے یعنی جس کے پاس ہے وہ نعمت اُس سے چھن کر مجھے مل جائے۔اب آپ دیکھیے کہ یہ نعمتیں تو اللہ تعالی نے تقسیم کی ہیں۔اللہ ہی اپنے بندوں میں رزق تقسیم کرتا ہے، صلاحیتیں بھی وہی عطا کرتا ہے۔شکل و صورت وہی بناتا ہے۔ کسی انسان کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ اللہ کی تقسیم پر ناراض ہو۔ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے اور بندے کے حق میں سخت نقصان دہ ہے۔ اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بھلائی پر بتایا جو اس چیز سے اپنے آپ کو بچا کر رکھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک کہ ایک دوسرے سے حسد نہ کریں گے ۔گویا حسد کا جذبہ آتے ہی انسان کے اندر سے خیر نکلنے لگتی ہے اور معاشرے کے اندر خیر اور بھلائی کا فقدان ہونے لگتا ہے ۔اس لیے کہ حاسد اللہ کی نعمت پر اور نعمتوں کی تقسیم پر راضی نہیں ہوتا جو اس نے اپنے بندوں کے درمیان تقسیم کر رکھی ہے۔
یہ بات بے حد ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر اس منفی جذبے کا جائزہ لیںکہ کہیں کسی شکل میں ہمارے اندر تو ایسی کوئی چیز نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔گویا ہمارے لیے یہ سخت نقصان دہ ہے کیونکہ یہ سب سے قیمتی ترین متاع کی دشمن ہےیعنی انسان کی نیکیوں کی دشمن ہے۔اب دیکھیے کہ نیکی کرنا ایک مشکل کام ہوتا ہےبعض نیکی کے کام ایسے ہوتے ہیں جو ہم بہت ہی مشکل سے کرتے ہیں، بہت محنت سے کرتے ہیںلیکن اگر نیکی کرنے کے ساتھ ساتھ حسد بھی کر رہے ہیں تو اپنے دشمن ہم خود بن جاتے ہیں۔
حاسد بنیادی طور پر دوسروں کے ساتھ برا کر رہا ہوتا ہے، دوسروں کے لئے برے جذبات رکھتا ہے ،دوسروں کو نقصان پہنچانے میں لگا ہوتا ہے، دوسروں کے لیے بری  تمنائیں رکھتا ہے لیکن دراصل وہ خود اپنا نقصان کر رہا ہوتا ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو خبردار کیا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اندر بھی یہ خرابیاں آنے لگیں۔ آپ نے فرمایا: تمہاری طرح پچھلی قوموں کی بیماریاں حسد اور بغض سرایت کر یں گی، میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بالوں کو منڈوانے والی ہے بلکہ یہ دین کو منڈوا دینے والی ہے ،یعنی انسان کے اندر پایا جانے والا حسد اور بغض۔دوسری جگہ فرمایا: حسدانسان کے دین کا صفایا کردیتا ہےگویا یہ ایک ایسی مہلک چیز ہے جو ہلاکت آمیز ہے، جس کی موجودگی میں دین کا تصور نہیں، ایمان کا تصور نہیں، نیکی کا تصورباقی نہیںرہتا ۔لوگو! اللہ کے انعامات دیکھ کر حسد نہ کرو، دوسرے اپنے ماں باپ کی نافرمانی نہ کرو،تیسرا کسی کی چغلی نہ کرو۔ اللہ تعالی ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے، جنہیںظاہری اعمال کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کی اصلاح کی بھی فرصت ہے، اس پر توجہ بھی ہے اور اسی پر معاشرے کی خوشحالی اورباہمی تعلقات کی عمدگی کا انحصار ہے۔
 

تازہ ترین