تازہ ترین

مجھے انجام سے ڈر لگتاہے۔۔۔

کہانی

تاریخ    19 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


شاہینہ یوسف
سمیرا اور میں بچپن سے ہی ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور شاید ہم دونوں اچھی سہیلیاں بھی ہوتیں لیکن میری ایک عجیب عادت بچپن سے ہی رہی ہے کہ میں اپنی باتیں کسی سے بھی کُھل کر نہ کیا کرتی۔میرے برعکس سمیر ااس قدر جلدی لوگوں سے گھل مل کر انہیں اپنی باتیں بتاتی۔اپنے دوستوں کے ساتھ ساتھ اپنے جاننے والوں تک سے بے تکلف گویا ہوتی ۔اُس کی اس ادا سے تقریباََ ہر کوئی اُس کا گرویدہ بن جاتا ۔سمیرا اپنے گھر میں بچپن سے ہی توجہ کا مرکز رہی ہے ،اور اکثر گھر والوں کے اپنے تئیں لگاؤ کا ذکر کیا کرتی۔وہ تین بھائیوں میں اکلوتی بہن تھی۔ شکل و صورت سے بھی اس قدر حسین و جمیل تھی کہ میں اُس کا حُسن دیکھ کر رشک کرتی ۔کالج کے تین سال گزرنے کے بعد میرا تعلق اپنی چند سہلیوں کے علاوہ تقریباََ ہر ایک سے منقطع ہی رہا ۔کالج کے آخری سال مجھے والد کے تبادلے کی وجہ سے دوسرے شہر کے کالج میں ایڈمیشن لینا پڑا اس لیے بھی شاید میرا کئی دوستوں کو چھوڑ کر تقریباَ ہر ایک سے تعلق جیسے منقطع ہی ہوگیا ۔
اتنے سارے سال گزرنے کے بعد آج نہ جانے کیوں مجھے سمیرا پھر سے یاد آنے لگی۔شاید بچپن کے ساتھ ساتھ کالج کی زندگی ہی ایسی ہے کہ اس سے جدا ہوکر اس کی یاد ہمیشہ ستاتی ہے۔
’’کیا پتا وہ حسین سی لڑکی سمیرا کیسی ہوگی؟‘‘
’’کتنی حسین و جمیل تھی وہ ،اُس پہ تو کوئی شہزادہ ہی فریفتہ ہوگیا ہوگا‘‘
’’مما آپ کو یاد ہے وہ لڑکی جو ایک دن میرے پیسے یہاں لوٹانے آئی تھی اور جس کے ساتھ آپ کی اچھی خاصی جم گئی تھی۔ارے بیٹا کس کی بات کر رہی ہو،اچھا وہی جو نہایت حسین لڑکی تھی ،جی ماں وہی ۔‘‘آج میں نے کالج کی پرانی تصویریں دیکھیں اس لیے مجھے وہ یادآنے لگی۔چلو ٹھیک ہے میں تو ڈر ہی گئی تھی۔ماں نے لمبی سانس لیتے ہوئے کہا۔
کب یہاں کی گلیاں کوچے اور سڑکیں باقی شہروں کی طرح صاف و شفاف ہونگی،ہر روز گھر سے آگے والی گلی سے گزرتے وقت میرے کپڑے خراب ہوتے ہیں عابدہ نے آفس پہنچ کے اپنی سہیلی سے کہہ ڈالا۔تمہیں کیوں روز روز ایک ہی بات سوجھتی ہے۔جیسے چل رہا ہے چلنے دو۔ہم یہاں اس دنیا میں کہاں تادیر رہنے والے ہیں جو ہم سارا نظام بدل ڈالیں ۔کیا مطلب؟دراصل عابدہ میں جو دیکھتی ہوں وہی کہتی ہوں مجھ سے یہ چپی برداشت نہیں ہوتی۔
’’میں چاہتی ہوں کہ اس ظلم و تشدد ‘ان ناانصافیوں کے لیے لڑو ں ،کسی کو اُداس دیکھوں تو میرا دل بے چین ہوجاتا ہے ،میں ایسی ہی ہوں عابدہ ،میں کافی کوشش کرتی ہوں کہ خود کو بدل دوں لیکن باخدا مجھ سے یہ سب نہیں ہوتا۔اچھا بابا چلو اپنا کام کرتے ہیں ،ورنہ آج سر ہمیں آفس سے نکال باہر کریں گے۔
آفس سے کام ختم کرنے کے بعد میں اور عابدہ نے گھر کی راہ لی۔ چلو میرا گھر آیا عابدہ نے الوداع کہہ کے گھر کا دروازہ کھولا۔ارے یہ عورت رو کیوں رہی ہے؟۔کیا بات ہے ؟ماجی آپ کیوں رو رہی ہیں ۔سب خیریت تو ہے نا۔ہاں ہاں سب ٹھیک ہے اس معمر عورت نے اپنی جان چھڑاتے ہوئے صالحہ کو جواب دیا ۔اگر سب ٹھیک ہوتا ماجی تو پھر آپ کیوں روتیں۔بیٹا جا کرا اپنا کام انجام دو اور خدارا مجھے تنگ نا کرو ۔ماجی آپ بتائے تو صحیح ہوا کیا ہے ،لیکن بیٹا تمہیں آج کے دور میں بھی دوسروں کے دکھ سکھ سے کیا غرض؟آج کل تو اپنے اپنوں کی روداد نہیں سنتے تو پھر تمہیں کیا شوق ہے اس سب کا ۔بس ماجی میں ایسی ہی ہوںاور مجھے اپنے آپ کے ایسا ہونے پے فخر ہے۔ صالحہ نے ماجی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے جواب دیا ۔صالحہ کی زد کے سامنے آخر اس عورت کو اپنے گھٹنے ٹیکنے پڑے اورراستے میں ہی یہ معمر عورت اپنے دکھ صالحہ کو سنانے لگی۔دراصل بیٹا میری بیٹی گھر میں اکیلی ہے ،مجھے اُسے چائے دینی ہے ،اُسے باتھروم لے جانا ہے،میں یہاں بینک کے کام سے آئی تھی اور مجھے کافی دیر ہوگئی ۔الللہ جانے اُس کا کیا حال ہوگیا ہو گا۔میرے سوا اُسے دوسرا کوئی اور دیکھنے والا نہیں ۔کیا وہ اتنی چھوٹی ہے ماجی جو وہ خود سے باتھروم نہ جاپائے گی ۔
’’نہیں نہیں بیٹا وہ لگ بھگ تمہاری عمر کی ہوگی ہے ،لیکن ۔۔۔لیکن ۔۔۔اس معمر عورت کی آنکھوں سے آنسوؤں کی قطار جاری ہوگئی جس کا اثر سیدھا میرے جگر کو ہوگیا ۔بتائے نا ماجی کیا بات ہے اُسے؟
دراصل ہم لوگ اصل میں کپواڑہ کے رہنے والے ہیں اور میری بیٹی یہاں سرینگر اپنے نانیہال میں رہا کرتی تھی ۔جب اُس کے ماما  بغیر شادی کے تھے تو وہ نہایت توجہ کا مرکز تھی ،لیکن جب اپنی اپنی ذمہ داریاں بڑھتی ہے تو ہر کوئی دوسرے کو چھوڑ کے اپنی زیست سنوار نے میں لگ جاتا ہے ۔اسی اثنا میں جیسے تیسے کر کے تین سال پہلے اُس کے ماماؤں نے اُس کے لیے رشتہ دیکھ کے خود کو ذمہ داریوں سے آزاد کر دیا ۔شادی کے ساتھ ہی اُن کا تعلق میری بیٹی سے جیسے کٹ گیا ۔
پہلے پہلے تو میری بیٹی کا شوہر اُسے بے حد خوش رکھتا تھا لیکن نا جانے کیوں چند ہی مہینوں کے اند وہ نہایت تبدیل ہوگیا ۔و ہ ،میری پری جیسی بیٹی کو روز ستاتا ، اُسے میکے سے پیسے لانے کو کہتا،پھراُسے نئی دلہن لانے کی دھمکی دیتا اور اس طرح چند ہی سالوں کے اندر اندر میری ہنستی کھیلتی بیٹی لاش بن گئی۔اُس دن کے بعد سے میری بیٹی پر جیسے کئی طرح کی آزمائشوں نے ہلہ بول دیا ۔وہ کچھ ہی وقت پہلے جو پری دکھتی تھی دیکھتے ہی دیکھتے زندہ لاش بن گئی۔کئی ڈاکٹروں سے اُس کا علاج کروایا ،لیکن مرض نظر آئے تب علاج ممکن ہے،اُس کا مرض کسی کو بھی دکھائی نہیں دیتا ۔سب کہتے ہیں اُسے خوش رکھو،لیکن میں اکیلی کیا کروں۔ میں نے کپواڑہ میں اپنا گھر اُسی کے لیے چھوڑا اور یہاں سرینگر میں ڈیرے پر اُسی کے علاج کے لیے رکی ہوں۔وہ پہلے پہلے صرف کچھ مدت کے لیے صرف بیہوش ہوا کرتی تھی لیکن اب وہ ہر وقت جیسے ایک زندہ لاش بن گئی ہے جو اپنے ہاتھوں کو بھی جُنبش دینے کے لیے دوسروں کی محتاج ہے ۔ماجی آپ بُرانہ مانیں تو میں آپ کے ساتھ اُسے دیکھ سکتی ہوں ،لیکن بیٹا تمہیںگھر جانے میں دیر نہیں ہوگی کیا؟میں مما کو فون کر کے بتاتی ہوں ماجی۔کالی رنگت والی ماجی، جو رونے سے اور زیادہ کالی لگ رہی تھی، جھٹ سے مجھے اپنے ساتھ لے جانے پر آمادہ ہوگئی۔
کچھ مدت چل کر ہم ماجی کے گھر کے اندر چلے گئے تو ماجی مجھ سے تھوڑا تیز بھاگ کر جلدی سے اپنے بیٹی کے پاس پہنچی اور اُسے اپنے ہاتھوں کا سہارا دے کر بٹھایا ۔جوں ہی میں نے اُس کا چہرا دیکھا تو میرے پیروں تلے زمین نکل گئی کیوں کہ یہ وہی سمیرا تھی جو میرے ساتھ کالج میں ہوا کرتی تھی جس کی باتیں میں ماں سے کل ہی کر رہی تھی ۔میرے منہ سے بے ساختہ سمیرا کا نام نکلاتو ماجی مجھے حیرت سے دیکھنے لگی۔سمیرا نے میری طرف دیکھا لیکن وہ لب ہلائے بغیر اور کچھ نہ کر پائی ۔اُس میں اتنی سکت نہ تھی کہ اپنے منہ سے میرا نام لے کر مجھے پکارتی ۔
’’سمیرا جس کے پیچھے پیچھے کبھی پورا کالج ہوا کرتا تھا ،آج کتنی بدصورت لگ رہی تھی۔میں نے سمیرا کی ایسی حالت دیکھ کر گھر جانے کو ہی ترجیح دی اورمیں سمیرا کی ماں سے یہ بھی نہ کہہ پائی کہ میں سمیرا کو پہلے سے ہی جانتی ہوں ۔میں گھر جا کر پوری رات سمیرا کے بارے میں ہی سوچتی رہی۔صبح میری ماں میرے کمرے میں آکر مجھے چند تصاویر دکھانے لگی،بیٹا تم ان میں کسی ایک کو پسند کرو تمہاری شادی کریں گے اس سال،تمہارے ابو کا یہی مشورہ ہے۔میں نے ان تصاویر کو دیکھے بنا انہیں کوڑے دان میں پھینک دیا اور میرے منہہ سے یہی الفاظ بے ساختہ نکل گئے’’مجھے نہیں بننا ڈپریشن کا مریض ماں ،میں دوسری سمیرا نہیں بننا چاہتی۔ مجھے شادی کے انجام سے ڈر لگتا ہے ۔یہ کہہ کر میں کمرے سے باہر نکلی اور میرادل کسی ایسی جگہ دور بھاگنا چاہتا تھا جہاں مجھے کوئی شادی کے لیے مجبور نہ کرے۔
 
���
ریسرچ اسکالر شعبہ اردو سینٹرل یونی ور سٹی آف کشمیر 
ای میلshaheenayusuf44@gmail.com