تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    17 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیر احمد قاسمی

حاملہ اور زچہ پر آنے والے 

اخراجات کس کی ذمہ داری

سوال:۱- حاملہ خاتون کی خبرگیری،اُس پر دورانِ حمل آنے والے اخراجات،وضع حمل یا سرجری (Surgery) کا خرچہ کس کے ذمہ ہے ۔ سسرال والوں کے ذمہ یا میکے والوں کے ؟
سوال:۲-کشمیر میں یہ رواج ہے کہ وضع حمل کے بعد بچہ جننے والی خاتون ایک طویل عرصہ ، جو مہینوں پر اور بعض اوقات ایک سال پر مشتمل ہوتاہے ، میکے میں گزارتی ہے۔ شوہر چاہتاہے کہ اس کی بیوی اور بچہ گھرآئیں مگر میکے والے نہیں مانتے ۔ کبھی زوجہ بھی چاہتی ہے کہ وہ اپنے سسرال جائے مگر اُس کے والدین ہمدردی کے جذبہ میں اُس کے جذبات واحساسات کی پروا نہیں کرتے اوربعض صورتوں میں میکے والے زچہ بچہ کو اپنی سسرال بھیجنے کے لئے آمادہ ہوتے ہیں مگر سسرال والے ٹس سے مس نہیں ہوتے اور وہ خوش اور مطمئن ہوتے ہیں کہ ان کی بہو اور بچہ مفت میں پل رہا ہے ۔
اس صورتحال میں اسلام کا نظام  کیا ہے ؟ کیا کرناچاہئے اور کیا بہتر ہے؟
سوال:۳- خواتین کوماہانہ عذراور وضع حمل کے بعد جو عذر کے ایام ہوتے ہیں ، اُن ایام کے متعلق اسلامی حکم کیا ہے ؟نماز ، تلاوت قرآن ،تسبیحات اوراد ، وظائف ، دعا ،درودشریف ۔دینی کتابوں کا مطالعہ، ان میں سے کیا کیا کام اسلامی شریعت میں جائز ہیں۔
سید محمد ہلال ہاشمی ، جموں
جواب:۱-شریعت اسلامیہ کے اصولی احکام میں سے ایک ضابطہ یہ ہے :الخراج بالضمان ۔اس کامفہوم یہ ہے کہ جو پھل کھائے وہی ذمہ داری کا بوجھ اٹھائے ۔ اس اصول سے سینکڑوں مسائل حل ہوتے ہیں ۔ یہ دراصل ایک حدیث کاحصہ ہے او ربعد میں اسی کوفقہی ضابطہ کے طور پر بے شمار مسائل حل کرنے کی اساس بنایا گیا ۔ اس کی روشنی میں غورکیجئے۔ نکاح کے نتیجے میں شوہر اپنی زوجہ سے کیا کیا فائدہ اٹھاتاہے ۔ اس کی طرف سے خدمت ، گھرکی حفاظت ،فطری ضرورت کی جائز اور شرعی دائرے میں تکمیل اور تسکین اور عصمت کی حفاظت کے بعد اولادجیسی عظیم نعمت کا حصول ! یہ سب زوجہ کے ذریعہ سے ملنے والی نعمتیں ہیں ۔ 
اب جس ذات سے اتنے فائدے اٹھائے جارہے ہیں،اُس کے تمام ضروری تقاضے او رضرورتیں پورا کرنا بھی لازم ہوںگے ۔شریعت میں اس کونفقہ کہتے ہیں ۔شریعت اسلامیہ نے جس طرح اولاد کا نفقہ وپرورش باپ پر لازم کیا ہے اسی طرح زوجہ کا نفقہ بھی شوہر پرلازم کیاہے ۔لہٰذا حمل کے دوران اور وضع حمل کا خرچہ بھی شوہر پر ہی لازم ہے ۔ زوجہ کے میکے والے اپنی خوشی سے اگر اپنی بیٹی پر کچھ خرچ کریں تو وہ اُن کی طرف سے صلہ رحمی اور احسان ہے لیکن اصل ذمہ داری بہرحال شوہر کی ہے ۔ اخلاقی طور پر یہ غیرت اور عزت نفس کے بھی خلاف ہے کہ کوئی انسان یہ خواہش رکھے کہ میری بیوی کے حمل اور بچے کی پیدائش کا خرچہ کوئی اور اٹھائے اور میں صرف نفع اٹھائوں ۔
جواب:۲-وضع حمل کے وقت اگرخاتون اپنے میکے میں ہو تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے ۔اس لئے عام طور میں زچہ (وہ عورت جو ڈیلیوری سے گذری ہو)کومیکے میں نسبتاً زیادہ راحت اور خدمت ملتی ہے اور وہ ہمارے معاشرے میں بھی اس کو بہتر سمجھاتاہے لیکن یہ وقفہ اتنا طویل نہ ہوناچاہئے کہ شوہر کو ناگواری ہونے لگے ۔ اس لئے ایامِ نفاس جو عام طور پر مہینہ بھر اور زیادہ سے زیادہ چالیس دن ہوتے ہیں جونہی یہ ایامِ گذرجائیں تو عورت کو اپنے سسرال جانے کے لئے ذہناًتیاررہناچاہئے ۔ ہاں اگر دونوں طرف یعنی عورت کے میکے اور سسرال والے خوشی سے میکے میں رکھنے پر مزید رضامند ہوں تو حرج نہیں ۔ دراصل اس معاملے میں شوہر کی رضامندی مقدم ہے لیکن نہ تو شوہر کی یہ خواہش پسندیدہ ہے کہ یہ سارا بوجھ عورت کے میکے والوں پر رہے اور نہ چاہتے ہوئے اس بوجھ کو اٹھانے پر وہ مجبور کئے جائیں اور وہ زبان سے بھی اس کا اظہار نہ کرپائیں اور نہ ہی میکے والوں کے لئے یہ بہتر ہے کہ وہ اصرار سے زچہ بچہ کو روکے رکھیں اور شوہر کے مطالبہ واصرار کے باوجود شوہر خانہ بھیجنے میں رکاوٹ ڈالیں ۔ اس کے لئے وسعت ظرفی دوسرے کے حقوق کی رعایت اور اپنی چاہت سے زیادہ دوسرے کی دل آزاری سے بچنے کا مزاج اپنانا چاہئے۔لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ملحوظ رہے کہ زچہ بچہ کی صحت اور راحت کا ویسا ہی بلکہ اس سے کہیں زیادہ خیال کرناضروری ہے ، جتنا میکے میں ہوتاہے ۔
جواب:۳-خواتین کو ماہانہ پیش آنے والے عذر کو حیض اور وضع حمل کے بعد پیش آنے والے عذر کو نفاس کہتے ہیں ۔ یہ دونوں حالتیں یکساں طورپر ناپاک ہونے کی حالتیں ہیں ۔ ان دونوں اقسام کے اعذار میں نماز تو معاف ہیں اور اِن نمازوں کی قضا بھی لازم نہیں ۔ روزے تو اس عذر کی حالت میں رکھنادُرست نہیں البتہ ان روزوں کی بعد میں قضالازم ہے ۔ تلاوت بھی جائز نہیں ہے۔ اس کے علاوہ تسبیح ، درودشریف ، دعائیں ، وظائف ، دینی کتابوں کا مطالعہ حتیٰ کہ تفسیر اور حدیث کا مطالعہ کرنے کی اجازت ہے بلکہ شوق کے ساتھ اس پر عمل کرنا چاہئے ۔یعنی نمازوں کی عادت کو برقرار رکھنے کے لئے اور مزاج میں عبادت کا ذوق زندہ رکھنے کے لئے بہتر ہے کہ نماز کے اوقات میں تازہ وضو کرکے جائے نماز پر بیٹھ کرتسبیح ،تہلیل ،استغفاراور درودشریف اور دعائیں کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ 
حیض ونفاس کی حالت میں شوہر سے ہمبسترہوکر جماع کرنا سخت حرام ہے ۔اس سے بھی اجتناب کرنے کا پورا اہتمام کرنا چاہئے ۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
سوال :-کیا اولاد کو نافرمانی اور رو گردانی کی بناء پر جائداد سے بے دخل کیا جاسکتاہے ؟
شیخ عبدالرحمان …… بتہ مالو ،سرینگر 

وراثت کا حق ساقط نہیں ہوتا

جواب:-والدین کے ساتھ بے اعتنائی برتنا اُن کے شرعی حقوق ادا نہ کرنا گنا کبیر ہ ہے ۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب گناہوں کی تفصیل بیان فرمائی تو سب سے بڑا شرک اور دوسرا بڑا گناہ والدین کے حقوق یعنی نافرمانی قرار دی ہے ۔ایسی اولاد جو والدین کو ذہنی یا جسمانی اذیت پہنچائے وہ مجرم اور فاسق ہیں اور اس کا وبال دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی یقینی ہے ۔ حضرت نبی کریم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی رضا والدین کی رضا میں ہے او راللہ کی ناراضگی والدین کی ناراضگی میں ہے ۔ والدین کو کسمپرسی کی حالت میں چھوڑنا دراصل اپنی اولاد کو یہ پیغام دیناہے کہ وہ بھی ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک کریں ۔ اس سب کے باوجود وراثت کی مستحق وہی اولاد ہوگی جس نے والدین کے حقوق ادا نہ کئے ہوں ۔دراصل وراثت کا تعلق قرابت سے ہے نہ کہ خدمت سے ۔ اس لئے خدمت گذاراولاد کو بھی وراثت کا حق اتنا ہی ملے گا جتنا نافرمان اولاد کو ۔والدین کی خدمت ، اطاعت ،راحت رسانی الگ معاملہ ہے اور وراثت کا استحقاق بالکل دوسرا معاملہ ۔ اسی لئے اسلام نے بیٹی کو بھی مستحق وراثت قرار دیاہے حالانکہ وہ اپنے والدین کی خدمت نہیں بلکہ اپنے شوہر کے حقوق ادا کرنے اور اپنے بچوں کی پرورش میں مشغول ہوتی ہے ۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
جس امام کی داڑھی چھوٹی ہو کیا اُس کے پیچھے نماز درست ہے۔ نیز داڑھی کتنی لمبی ہونی چاہئے ۔‘‘
مفتی منظورالحسن…سرینگر 

داڑھی کی مطلوب مقدار حکمِ رسولؐ کے مطابق 

جواب:-یہ بروقت اوردُرست تنبیہ یقیناً توجہ سے اور غور وفکر سے پڑھنے کی علامت ہے ۔ بہرحال اس پر یہی کہاجاسکتاہے کہ 
جزاک اللہ خیر الجزاء
اب ان دونوں سوالوں کا جواب درج ہے ۔ 
امام کے لئے جہاں یہ ضروری ہے کہ اس کے عقائد درست ہوں ، تلاوت صحیح طور پر کرنے پرقادر ہو ، ضروری مسائلِ نماز سے واقف ہو وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ وہ تمام گناہِ کبیرہ سے اجتناب کرتا ہو اور وضع قطع مکمل طور پر شریعت کے مطابق ہو۔
داڑھی رکھنا اسلام کالازمی حکم ہے ۔ اس لئے کہ یہ واجب ہے اور واجب ہونے کی دلیل یہ ہے کہ واجب ہر اُس عمل کو کہاجاتاہے جوحضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ کیا ہو،کبھی اسے ترک نہ کیا ہو ۔اور اُس پر عمل کرنے کا حکم بھی دیا ہو ۔اگرچہ اُس عمل کا حکم قرآن کریم میں نہ ہو تو بھی وہ لازم ہوجاتاہے جیسے وتر کی نمازیا عیدین کی نماز واجب ہیں حالانکہ ان دونوں نمازوں کا حکم قرآن کریم میں نہیں ہے مگر چونکہ حضرت رسالت مآب علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیشہ یہ نمازیں ادافرمائی ہیں اس لئے اس کو لازم یعنی واجب کادرجہ دیا گیا ۔ بس اسی طرح داڑھی کا مسئلہ ہے کہ حضرت رحمۃ للعالمین علیہ السلام نے خود ہمیشہ داڑھی رکھنے کا اہتمام فرمایا۔ نیز داڑھی بڑھانے کا حکم دیا اور زندگی میں کبھی داڑھی کو نہ مونڈھانہ خشخشی بنائی ۔
اور تمام صحابہ ،تابعین ،تبع تابعین ، فقہاء محدیثن اور اولیاء کرام نے داڑھی رکھنے کا اہتمام کیا تو یہ اجماع امت بھی ہے ۔ اس لئے داڑھی رکھنا واجب ہے جو داڑھی نہ رکھے وہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہے ۔
اس لئے وہ شخص ہرگز امامت کا اہل نہیں ہے جو داڑھی نہ رکھے ۔ اس پر پوری امت کا اتفاق ہے اور فتویٰ کی تمام مستند کتابوں ،چاہے وہ کسی بھی فقہی مسلک کی ہوں یا کسی بھی مکتب فکر کی ہوں ،میں یہی لکھاہے ۔ 
داڑھی کی وہی مقدار شریعت کا مطلوب ہے جوداڑھی کا حکم دینے والی ذات اقدس یعنی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود رکھی اور حضرات صحابہؓ سے لے کر آج تک مستند ومعتبر طبقات مسلمین نے رکھی ۔یعنی عمل رسول ؐ اور عمل صحابہؓ حکم رسولؐ کی تشریح ہے ۔ جس امام کی داڑھی نہ ہو اُس کے پیچھے پڑھی جانے والی نماز ادا ہوجاتی ہے ۔یعنی وہ نماز واجب الاعادہ نہیں ہے ۔ مگر ایسے شخص کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے ۔ فتویٰ کی ہر مستند کتاب میں یہی لکھاہے ۔