تکمیل دین کی پہچان ہے سچائی

سچائی جھوٹ کے شَر سے محفوظ رکھتی ہے

تاریخ    16 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


شگفتہ حسن
اسلام میں جہاں محبت،قربانی،احساس ہمدردی،اُخوت ، اور عزت و احترام  کے جذبے دلوں میں پیدا کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، وہیں مسلمانوں کو ایسےتمام برے کاموں سے سختی سے منع کیا گیا ہے جن کے وجہ سے معاشرے کا امن و سکون برباد ہو جاتا ہے۔
سچائی اور صداقت دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔یعنی حقیقت کے سوا کچھ بیان نہ کرنا بلکہ ایسی بات کہنا جسے کوئی جھٹلا نہ سکے۔سچا قول و فعل اور دُرست عمل عین صداقت ہے۔صداقت یعنی سچائی اللّٰہ ربّ العالمین کی بہترین صفت ہے۔ صداقت مومن کی پہچان ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ سچ بولا اور دوسروں کو ہمیشہ سچ بولنے کی تعلیم دی اور جھوٹ بولنے سے سخت منع فرمایا ۔اسلئے مکہ مکرمہ والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’الصادق‘‘کہہ کر پکارتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کا ہر پہلو صدق و حق گوئی سے معمور و معطر ہے ۔ دُنیا نے آج تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر صداقت و سچائی کی کوئی مثال نہیں دیکھی، جس کا اعتراف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں نے بھی کیا۔تمام انبیاءکرامؑ کے کردار میں صداقت کی خوبی تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں ارشادہے:’’بیشک وہ سچے نبی تھے‘‘۔ حضرت موسٰی علیہ السلام نے ظالم بادشاہ کے سامنے کڑی مشکلات کے باوجود ہمیشہ سچ بول کر کلمہء حق بلند کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن کوہِ صفا پر کھڑے ہوکر قریش کو پکارا۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر تمام لوگ جمع ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے لوگوں!اگر میں کہوں کہ اس پہاڑی کے پیچھے ایک زبردست لشکر تُم پر حملہ کرنے کو تیار کھڑا ہے تو کیا تم میری بات کا یقین کروگے؟سب لوگوں نے بیک زبان کہا:’’اگر چہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کوئی ایسا لشکر پہاڑی کے پیچھے نہیں ہے،مگر پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر یقین کریں گے،کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا‘‘۔
جھوٹ کے اصل معنی ہیں کسی کو جان بوجھ کر دھوکا دینا اور غلط بیانی سے کام لینا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ بولنے والوں کیلئے سخت عذاب بیان فرمایا۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول صلی االلہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میری طرف منسوب کرکے کوئی جھوٹی بات بیان کرنے سے بچو مگر جو تمہیں صحیح معلوم ہو،پس جس نے میری طرف قصداً کسی جھوٹ بات کی نسبت کی ،اسے چاہئے کہ جہنم کو اپنا ٹھکانا بنا لے‘‘۔(ترمذی)
 انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ سچ یا جھوٹ دونوں کے بولنے پر قادر ہے۔اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو چھوٹ دے رکھی ہے،تاکہ وه اپنے بندوں کو آزمائے۔مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ سچ بولنے کا کیا فائدہ ہے اور جھوٹ بولنے کیا انجام ہے۔قرآنِ کریم میں سچ بولنے والوں کے بارے میں فرمان الہٰی ہے:’’یہ وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کی سچائی نفع دیگی‘‘۔(سورۃ المائدہ/١١٩)اسی طرح جھوٹ بولنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:’’اللّٰہ تعالیٰ ان لوگوں کو راہ نہیں دکھاتے جو اسراف کرنے والے ہیں اور جھوٹے ہیں‘‘۔(سورۃ المؤمن۲۸)
دُنیا کے تمام مذاہب میں جھوٹ بولنے کو بُرا سمجھا جاتا ہے اور دین اسلام میں اسے گناہِ کبیرہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ معاشرے کو بڑے پیمانے پر نقصانات میں ڈال دیتا ہے ۔ جھوٹ پورے معاشرے کے امن و سکون کو برباد کر دیتا ہے، جھوٹ سے پورے خاندان اُجڑ سکتے ہیں اور جھوٹ سے پورے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے، اسلئے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کو ہلاکت اور سچ کو نجات قرار دیا ہے۔ لیکن آج کل ہمارا معاشرہ سچ اور جھوٹ کی کشمش سے دوچار ہے۔ معاشرے میں جھوٹ اس قدر عام ہوچکا ہے کہ لوگ ہر شعبہ میں جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں اور لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ لین دین میںتاجر جھوٹی قسمیں کھا کھا کر کاروبار کرتا ہے،عدالتوں میں جھوٹی گواہی کیلئے لوگ تیار ہوجاتے ہیں،رشتوں کےانتخاب ، تھانوں، گھروں، دفتروں،بزنس،میڈیا غرض لوگ ہر میدان میں جھوٹ سے کام لیتے ہیں۔جھوٹ بولنے والوں پر اللہ ربّ العزت کی لعنت ہے۔ سورۃ آل عمران میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہے:’’ اللہ کی لعنت ہو جھوٹوں پر‘‘(آیت ۶۱)اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں بار بار تاکید فرمائی جھوٹ سے بچو اور سچائی اختیار کرو۔سچ بولنے کی بہت عظیم اہمیت ہے۔سچائی کے ذریعہ انسان جنت میں داخل ہو سکتا ہے۔جبکہ جھوٹ کی وجہ سے انسان کو دوزخ کی آگ میں جلنا ہوگا۔
ہمیں جھوٹ کا سہارا نہیں لینا چاہیے صرف اور صرف سچ ہی بولنا چاہیے کیونکہ سچائی کے بغیر انسانیت مکمل نہیں ہوتی، سچائی اس دنیا میں بھی انسان کو عزت و وقار عطا کرتی ہے اور آخرت میں بھی عطا کریگی، جھوٹ ہر موڈ پر رسوا اور ذلیل کرتا ہے اور ہر انداز میں وضاحتیں مانگتا ہے۔ ایک جھوٹ کو چھپانے کیلئے مزید جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ جھوٹ ایک فریب ہے،جھوٹ ایک بری خصلت ہے،جھوٹ ایک برا عمل ہے،جھوٹ منافق کی علامت ہے،جھوٹ فرعون کی پہچان ہے،جھوٹ بولنا اخلاقی گناہ ہے۔احادیث میں جھوٹ کو شک کا سبب بتایا گیا ہے،جھوٹ ایک بیماری ہے، جھوٹ بولنے والوں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ’’ان کے دلوں میں بیماری ہے اللّٰہ تعالیٰ نے ان کی بیماری اور بڑھا دی اور ان کیلئے دردناک عذاب ہے، اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں ‘‘۔(سورۃ البقرۃ ۱۰)جھوٹ بولنے والوں کا ضمیر کبھی بھی مطمئن نہیں ہوتا ہے،جھوٹ بولنے والوں کو معاشرہ عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا،اس کی روزی اور مال میں برکت نہیں ہوتی،جبکہ صداقت اللّٰہ تعالیٰ کی صفت ہے،اس سے انسان کا ضمیر مطمئن ہوتا ہے،اس کو معاشرے میں بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،اس کی روزی اور مال میں بھی برکت ہوتی ہے،صداقت ایک اعلیٰ ترین خصلت ہے،صداقت ایک نیک عمل ہے یہ انسان کو بلندی اور ثابت قدمی کا ہنر بخشتا ہے،صداقت انسان میں ہمت، قوت، حوصلہ، انسانیت، اور بہادری کے جذبات پیدا کرتا ہے۔
بحیثیت مسلمان ہمیں سمجھنا چاہئے کہ جھوٹ میں سراسر نقصان ہے۔ جھوٹ ہی ہر برائی کی جڑ ہے اور جھوٹ کے زہریلے اثرات ہیں۔ہمیں زندگی کے ہر شعبہ میں صداقت سے کام لینے کی ضرورت ہے۔پھر چاہے وہ سیاست کا میدان ہو یا تجارت کا۔ ہمیں اپنے بچوں کو بچپن سے ہی سچ بولنے کی تعلیم دینی چاہیے،ہمیں اپنے معاشرے میں بار بار تاکید کرنی چاہئے کہ سچ مسلمان کا زیور ہے۔ہمیں اپنے کاروبار میں بھی ہمیشہ سچ بولنا چاہیے۔نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے دل بہلانے اور ہنسانے کیلئے بھی جھوٹ بولنا حرام قرار دیا ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’خرابی ہے اس شخص کیلئے جو جھوٹ بولے، لوگوں کو ہنسانے کیلئے،خرابی ہے اس کے کیلئے،خرابی ہے اس کیلئے‘‘۔(ابوداؤد)
سچا مسلمان وہی ہے جو زبان،دل،دماغ کی مکمل ہم آہنگی سے اپنے عمل کی صداقت کا اظہار کرتا ہے۔عام طور پر صداقت کی تین اقسام کی جاتی ہیں:زبان کی صداقت،دل کی صداقت اور عمل کی صداقت۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کے ثمرات سے مالامال فرمائے اور جھوٹ کے بُرے اثرات سے محفوظ رکھے۔آمین
 loneshagufta786@gmail.com
 

تازہ ترین