تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    12 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


مرے من میں مہکتی ہے تری گفتار کی خوشبو
مجھے اب یاد آتی ہے ترے کردار کی خوشبو
کسی مشکل سے گبھرا کر اگر مایوس ہوتا ہوں
عزیمت بن کے آتی ہے کسی دلدار کی خوشبو
رقیبوں کی رقابت سے بہت دلگیر ہو کر کے
ضرورت بن کے آتی ہے تری وہ پیار کی خوشبو
مرا گاؤں ہے پنگلینہ بہت اٹکا ہے دل اس میں 
سمٹ آئے مرے مولا وہاں سنسار کی خوشبو
بزرگوں کا جو ورثہ ہے اسے سنبھال کر رکھ دو
بہت انمول ہوتی ہے کسی دستار کی خوشبو
محبت سے جو عاری ہو نہ ہو اخلاص کا پیکر
کہاں پھر راس آتی ہے کسی زردار کی خوشبو
سناتا ہوں جو خود کو ہی ترے اخلاص کے قصے
مجھے حیران کرتی ہے ترے ایثار کی خوشبو
قلم کی روشنائی میں جگر کا سوز ہو شامل
دلوں میں بیٹھ جاتی ہے اسی شاہکار کی خوشبو
–مرے گھر میں ترا آنا مبارک ہوگیا ثابت
نہیں نکلی ہے اب تک وہ در و دیوار کی خوشبو
کہاں معلوم تھا اپنا مقدر بن کے آئے گی
ہوائے تیز و تند لیکرکسی کوہسار کی خوشبو
زباں شیریں مقالی سے مزین ہو یہاں جس کی
اسی پیکر سے آتی ہے لب و رخسار کی خوشبو
جسےپانےکی خواہش میں پڑےچھالے ہیں پاؤں میں
تری صحبت میں آتی ہے مجھے اُس یار کی خوشبو
عجب فاروقؔ دکھتا ہے بہاروں کا یہاں موسم
بہت پھیکی سی لگتی ہے گل و گلزار کی خوشبو
 
ڈاکٹر ابو الیفہ فاروقؔ قاسمی
اسسٹنٹ پروفیسر شعبئہ عربی یونیورسٹی آف لداخ
موبائل نمبر؛9797295005
 
 
گزری کوئی نگاہ جو دے کر دغا مجھے
چبھتی ہے اب بہار کی ٹھنڈی ہوا مجھے
میں بڑھ رہا ہوں جانبِ منزل مرے عدو
ہمت ہے گر تو روک کے آجا دِکھا مجھے
سورج غموں کا سامنے آتا نہیں کبھی
مانندِ  کوہسار ہے ماں کی دعا مجھے
دل میں خیالِ غیر کی آمد ہو جس جگہ
کر دے اسی مقام پہ غارت خدا مجھے
اس درجہ مجھ پہ قحط کا قاتل اثر ہوا
صدیوں ہرا نہ کر سکی بادِ صبا مجھے
یوں کر! تو مجھ پہ رنج کے موسم انڈیل دے
جرمِ وفا میں چاہیے ایسی سزا مجھے
میں نے تو ختم کر لئے ناطے جہان سے 
دنیا سے کوئی کام بھی ہوگا بھلا مجھے؟ 
تابشؔ! وہ شخص ہے کہ اماں مانگتے پھرو
ظالم کی اک نگاہ سے ایسا لگا مجھے
 
جعفر تابشؔ
مغل میدان، کشتواڑ
موبائل نمبر؛8492956625
 
 
اُلجھا ہوں اِس طرح میں خیال و گمان سے 
ہوش و خرد پٹخنے لگے سر چٹان سے
 
اب تو پروں کو کھول تخیل کے مرغ دیکھ
اپنے ہنر کی ساکھ ہے تیری اُڑان سے
 
شیریں سخن سخن میں پرونے کے واسطے
اِک جنگ لڑنا پڑ تی ہے گویا زبان سے
 
یوں آرہے ہیں میری طرف لشکرِ خیال
نکلے ہوں جیسے تیر ہزاروں کمان سے
 
صیاد نے قفس میں اُنہی کو کیا ہے قید
وہ چند عندلیب جو تھے خوش بیان سے
 
ہے سانحہ یہی کہ زمیں کی طلب میں ہم
بے ساختہ بچھڑتے گئے آسمان سے
 
امجدؔ جہاں میں آئے تو تھے اشک و خوں لئے
لیکن جہاں سے گزریں گے ہم شادمان سے
 
امجد اشرفؔ
شلوت سمبل سوناواری
موبائل نمبر؛7889440347
 
 
گھر بنانے میں ابو جی آپ نے جو کچھ کیا ہے 
وہ جبیں کی جھریوں میں سب دکھائی دے رہا ہے
آپ نے تقویٰ کی باتیں چھیڑ دی، پہلے بتاؤ
آپ کو کیا عین شین و قاف کا مطلب پتا ہے؟
غور سے تفسیر پڑھ 'لا تقنتو من الرحمتہ اللہ
پھر تو ہر اک چیز میں محسوس کر لو گے خدا ہے
جھانک کر اپنا گریباں دیکھتا کوئی نہیں ہے
ایک انساں کی نظر میں دوسرا بگڑا ہوا ہے
زندگی کی دوڑ میں گرنا سبھی کا طے شدہ ہے 
کوئی آگے گر پڑے گا، کوئی پہلے گر پڑا ہے
دھیان سے آہیں بزرگوں کی سنی تو جان پایا
فلسفہ اور درس کیا 'کل من علیھا فان' کا ہے 
آپ کے برداشت سے باہر یہاں کی سختیاں ہیں
کیا کسی سے اس نگر کا آپ نے قصہ سنا ہے؟
دیکھ کر وسعت دلوں کی وہ عطا کرتا ہے شاہیؔ
اس لئے دنیا میں کوئی شاہ ہے، کوئی گدا ہے
 
شاہیؔ شہباز 
وشہ بگ پلوامہ
موبائل نمبر؛ 7889899025
 
 
وہ مجھ سے بچھڑکر شاید سنبھل گیا ہو گا
یا کوئی نیا درد دل  میں  مچل گیا ہو گا
 
کیونکر مکّر جاتا اپنی ہی بات سے وہ
شاید کہ کسی اورکی بات سے بہل گیا ہو گا
 
تنکے سمجھ کے اُ س نے آشیانہ میرا اُجاڑلایا
ایسا کرنے سے ہی شایدبہل گیا ہو گا
 
میں اپنوں میں ہو کے بھی تنہا ہوں یہاں
کسی سانچے میں نئے وہ ڈھل گیا ہو گا
 
امرت سمجھ کے جو زہر پی گیا تھا میں
اب وہی زہر ہر رگ میں پھیل گیا ہو گا
 
پرویز یوسفؔ
محلہ قاضی حمام بارہمولہ 
موبائل نمبر؛946944331
 
 
اشارئہ چشمِ سے ہی انتہا ہوگئی
 پل میں ہی محبت بے بہا ہوگئی
 
جو تھا سکونِ دل کم سا ہو گیا
شاید قبول اُن کی ہر دعا ہوگئی 
 
آہ! نہ نکلی تیز  زباں سے میری
یوں بے اثر طبیب کی دوا ہوگئی
 
سمجھ آیا اُس کے ابدی سفر پہ
 کیوں وہ وجہ سے بے وفا ہوگئی
 
ایک وقت جو مل کے ہوتی تھی
وہ دیدِ پُر کش بھی تنہا  ہوگئی 
 
فاحد احمد انتہاؔ
واگہامہ بجبہاڑہ
موبائل نمبر؛9541479409
 
 
وفادار، وفاشعار ہوں میں
دوستوں کا اعتبار ہوں میں
سنا ہے سخن ساز ، سخن تراش ہے وہ
ہے عجب کیا کہ طرزِ گفتار ہوں میں
غموں سے نبھاہ کرنا سیکھ لیں گے
ڈٹ کے رہنا مانندِ کوہسار ہوں میں
ہے ظرّف ہی کیا کہ مجھ میں سما جائے
وہ سکوتِ شب، آبشار ہوں میں
خود کو محصور کر بیٹھا ہوں
ایسا جینا کہ بیزار ہوں میں
میں اپنی ذات میں گم رہتا ہوں
کبھی جیت ، کبھی ہار ہوں میں
کیا ہوگا جب سابقہ ہو روزِ حساب
ابھی سے گناہوں پہ شرمسار ہوں میں
وقت نے پھینک دیا ہم کو کہاں لاکر
انہیں معلوم کیا کہ شہکار ہوں میں
آجائے گر کوئی مشتاؔق مسیحائی کو
مریضِ عشق کا بیمار ہوں میں
 
خوشنویس میر مشتاقؔ
موبائل نمبر؛9797852916