تازہ ترین

زندگی کا اصل مقصد،دوسروں کے کام آنا

انسانیت

تاریخ    1 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


شفاعت احمد وانی
ہمارے دین ِ اسلام میںامدادِ باہمی، ہمدردی ،معاونت و مروت اور ایک دوسرے کے کام آنے کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور اسی لئے مسلمانوں کو زکوٰۃ، صدقات، خیرات، عطیات وغیرہ دینے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ معاشرے میں معاشی پریشانی کا شکار، مصیبت زدہ، بے گھر اور بے سہارا افراد کی مالی مدد ہوسکے۔اپنے مال و دولت سے امدادی کام کرنے والے لوگوں کو خود بھی کسی مستحق،لاچار اور بے سہارا کی مالی مدد کرنے سے دلی سکون اور خوشی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اپنے سے کمتر اور غریب لوگوں کو دیکھنا اور ان کے مسائل سننا، شکر گزاری اور خود کو حاصل نعمتوں کی قدر کرنے کا سبب بھی بنتا ہے۔ گھر کے افراد کی طرف سے دوسروں کی امداد و معاونت کرنے کی عادت سے گھر کے بچوں کو بھی اس کی ترغیب ملتی ہے اور اس طرح یہ نیک کام نسل در نسل چلتا رہتا ہے۔
بلا شبہ زندگی کا اصل مقصد دوسروں کے کام آنا ہی ہے۔ دولت اور وسائل ایک حد تک انسانی ضروریات پوری کرتے ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ان چیزوں کی اہمیت کم یا ختم ہو جاتی ہے۔ اگر ہم نظر دوڑائیں تو دنیا کی نامور شخصیات اپنی عظمت، دولت اور بے انتہا مصروفیات کے باوجود دوسروں کی مدد کرنے اور انہیں آگے بڑھانے میں ہچکچاہٹ کامظاہر ہ نہیں کرتیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ بل گیٹس، کرسٹیانو رونالڈو اور اوپرا ونفرے جیسی شخصیات بہت سے امدادی کام کرتی ہیں ۔اور بھی کئی ساری معروف شخصیات ایسی بھی ہیں جو امدادی کاموں پیش پیش رہتے ہیں لیکن منظر عام پر نہیں آتے ہیں۔ یہ نامور شخصیات شعور بیدار کرنے اور مستحق افراد کی مدد کرنے کے لیے بڑا دل رکھتی ہیں اور میڈیا کی زینت بنے بغیر خاموشی سے اپنا کام کرگزرتی ہیں ۔
آج کے پُرآشوب دور میں ہر شخص مسائل کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ ہمارے ملک میں آبادی کی اکثریت خط غربت سے نیچے زندگی بسر کررہی ہے۔ لوگ بنیادی حقوق حاصل کرنے سے بھی محروم ہیں، جن میں صحت، تعلیم، لباس، رہائش اور خوراک شامل ہے جبکہ رہی سہی کسروبائی بیماری کووِڈنے پوری کردی ہے۔ اس وبا کے باعث لوگوں کی ایک بڑی تعداد مالی مسائل کا شکار ہوئی۔ مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے لوگ تلخیوں اور پریشانی کا شکار ہو گئے۔ ایسے میں کئی افراد ایسے ہیں جو اس مشکل گھڑی میں بھی انسانیت کا درد رکھتے ہیں اور دیگر لوگوں کے دکھ درد سمیٹنے اور اُن میں آسانیاں بانٹنے کے لیے عملی طور پراپنے جان و مال سے کام کرتے ہیں۔
ایک دوسرے کے کام آنا انسانیت اور عبادت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے نوجوان فلاحی اور سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ہمیں اپنی آمدنی کا کچھ حصہ بطور امداد بیمار، بے سہارا، یتیم، غریب، مسکین اور بے گھر افراد کی مدد کرنے پر خرچ کرنا چاہیے۔ ہم نہ صرف خود بھی ایسے لوگوں سے مالی تعاون کریں بلکہ دوسرے لوگوں میں بھی شعور و آگاہی پیدا کریں تاکہ معاشرے کے نادار لوگوں کی دادرسی ہوسکے اور وہ کارآمد شہری بن کر ملک و قوم کی ترقی میں تعمیری کردار ادا کرسکیں۔ 
ہم اپنی امداد،عطیات و صدقات یتیم بچوں کو تعلیم و تربیت اور مفت کتابیں فراہم کرنے، بیماروں کے لیے ادویات اورخون کے عطیہ کا بندوبست کرنے، غریب گھرانوں کے گھر راشن ڈلوانے،  اور دیگر فلاحی کاموں پر خرچ کریں۔ جو لوگ مالی طور پر امداد نہیں کرسکتے ، انھیں چاہیے کہ وہ فلاحی کاموں کے لیے رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کریں۔
پتہ۔ بچھوارہ سرینگر