تازہ ترین

تمباکو نوشی۔ غمِ راحت کا مداوا نہیں

یہ مُضِر بھی ہےاور ناپاک بھی

تاریخ    1 دسمبر 2021 (00 : 01 AM)   


بلال احمد پرے
تمباکو کا سائنسی نام نکوٹینا ٹباکم ( Nicotiana tabacum) ہے ،جب کہ اس سے عام طور پر تمباکو کے نام سے ہی جانا جاتا ہے ۔ ایک قدیم خیال کے مطابق میکسیکو کے جزیرہ ٹباکو (Tobago) پر کولمبس اور دیگر سیاحوں نے وہاں کے باشندوں کو تمباکو نوشی کا استعمال کرتے دیکھا ۔ جس کے بعد جزیرہ کی مناسبت سے اس کو ٹباکو کا نام رکھ دیا گیا ہے ، جو رفتہ رفتہ بگڑ کر تمباکو (Tobacco) ہوگیا ہے ۔تمباکو دراصل ایک جھاڑی دار پودا ہے جو چند فٹ سے لے کر دو یا تین میٹر کی اونچائی کا ہوتا ہے ۔ تمباکو کے استعمال کے لئے مزکورہ پودے کے صرف پتے کام آتے ہیں ،اس کی کاشت ہندوستان کے متعدد علاقوں میں کی جاتی ہے ۔ عالمی سطح پر تمباکو نوشی سے چین سب سے زیادہ متاثرہ کن ( 300 ملین) ممالک میں سے اول ہے ،جب کہ تمباکو کی پیداوار میں عالمی سطح پر ہندوستان دوسرے (274 ملین) نمبر پر ہے ۔ملک کے اندر آندھراپردیش کی ریاست میں تمباکو کی سب سے زیادہ کاشت کی جاتی ہے ۔انسداد تمباکو نوشی کے میدان میں اب تک سب سے کامیاب ترین ملک سنگاپور مانا جاتا ہے ۔
تمباکو، سگریٹ، گٹکا و پان کا استعمال نہ صرف مضرِ صحت ہے بلکہ اپنی صحت کے علاوہ متعلقین کے لئے بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔ دوسری جانب یہ اخلاقی زوال کا عکاس بھی ہے اور اِن نشہ آور اشیاء کو اہلِ علم و اہل رائے نے انتہائی ناپاک اشیاء میں سے گنوایا ہے۔ آئے روز اِن ناپاک اشیاء کے استعمال اور بُری عادات میں مبتلاء لوگوں کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔اس بات سے شاید ہی ہم سب واقف ہوں کہ عالمی ادارہ صحت (World Health Organization) کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ و تمباکو نوشی کے باعث ہر چھ سیکنڈ کے بعد ایک شخص کی موت واقع ہو جاتی ہے ۔ اس طرح دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 80 لاکھ افراد تمباکو اور اس سے بنی دیگر اشیاء کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، جو تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہے ۔ اس بڑی تعداد میں سے تقریباً 12 لاکھ افراد ایسے ہیں جو خود تمباکو نوشی تو نہیں کرتے لیکن اس کے ماحول میں موجود ہونے کے سبب اس سے نکلنے والی خطرناک دھوئیں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ میں سب سے زیادہ متفکر پہلو یہی تھا کہ دنیا بھر میں تیرہ (۱۳) سے پندرہ (۱۵) سال کی عمر کے 3 کروڑ 80 لاکھ بچے اس نشے کی لت میں مبتلا ہیں۔ جس سے ماہرینِ صحت انتہائی خطرناک اور تشویشاک صورتحال قرار دے رہے ہیں ۔تمباکو کا استعمال اب عام " حُقہ " سے سگریٹ تک اور اس سے اب رفتہ رفتہ جدید " الیکٹرانک سگریٹ " تک پہنچ چکا ہے ۔واضح رہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش میں الیکٹرانک سگریٹ کے استعمال پر دو برس قبل ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے ۔
تمباکو اور سگریٹ میں موجود نکوٹین نشہ کی عادت بڑھا دیتی ہے ،ایسی بری عادات کو ترک کرنا کسی بھی فرد کے لئے بہت مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ جسم میں نکوٹین کی کمی سے طبیعت میں پریشانی، اضطراب، بے چینی، ڈپریشن کے ساتھ ذہنی توجہ کا فقدان رہنے لگتا ہے ۔ سائنس کی معلومات سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ تمباکو سے بنی اشیاء کے استعمال سے جسم میں کئی مضر اثرات پیدا ہوتے ہیں ، جس سے انسان اپنے ہی ہاتھوں اپنی جان لینے پہ تلا بیٹھتا ہے اور رفتہ رفتہ یہ زہرِ قاتل ثابت ہو جاتی ہے ۔ ایسے معاملے میں بھی قرآن کریم اہل ایمان کی  رہ نمائی کرتا ہے اور اس مقدس کتاب میں کھلی ہدایات موجود ہے جس میں ہمیں اپنے آپ کو ہلاک کرنے سے منع فرمایا گیا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’ اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو‘‘۔ (البقرہ؛ ۱۹۵)
اسی طرح دوسری سورۃ میں یوں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ’’ اور اپنی جانوں کو ہلاک مت کرو‘‘۔ (النساء؛ ۹۲)
ایک تحقیق کے مطابق تمباکو اور سگریٹ کے دھوئیں میں کئی ایسے کیمیائی مادے موجود ہوتے ہیں، جو انسانی صحت کے لئے نہایت ہی نقصان دہ ہیں، جن میں ایسے بھی کیمیائی مادہ جات موجود ہیں جو کینسر کا باعث بن سکتے ہیں ۔ تمباکو نوشی کی وجہ سے دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے ۔ سگریٹ نوشی سے دماغ کو خون کی فراہمی بھی کم ہوجاتی ہے۔ تمباکو نوشی کا سب سے زیادہ اور خطرناک نقصان پھیپھڑوں کو ہوتا ہے ۔ بقول شاعر  ؎
پہلے تو سحر نکوٹن سے کیا بس میں ہمیں
لا کے پھر قید کیا وادئ بے بس میں ہمیں
روزنامہ کشمیر عظمٰی نے ہی رواں سال ۱۵ مارچ کو اپنی اشاعت میں تمباکو سے بنی اشیاء کے استعمال سے متاثر کن افراد کا اعداد و شمار 48 ہزار ایک سو ستّرہ بتا کر حیران کن انکشافات کیا تھا ، جس میں ضلع سرینگر میں سب سے زیادہ 27.35 فیصدی افراد اس نشے سے متاثر ہیں ۔اسی طرح ضلع اننت ناگ میں 15.26 فیصد، بارہمولہ میں 14.59 فیصد، بڈگام میں 10.72 فیصد، پلوامہ میں 10.37 فیصد ، کولگام میں 6.92 فیصد، کپوارہ میں 6.92 فیصد، گاندربل میں 5.31 فیصد اور بانڈی پورہ میں 4.86 فیصدی تعلق رکھتے ہیں ۔اس سب کا اہم اور بنیادی وجہ یہی ہے کہ تمباکو سے بنی اشیاء کا ہر جگہ دستیاب ہونا اور چھوٹی عمر کے بچوں کے پاس پیسوں کی بہ آسانی دستیابی اس بری عادت کی طرف لے جاتی ہے ۔
حقیقت یہی ہے کہ سگریٹ اور تمباکو نوشی باعث فخر نہیں بلکہ مضرِ صحت ہے ۔ لیکن مضمرات سے آگاہی کے باوجود سگریٹ نوشی کرنے والوں کی بڑی تعداد پڑھے لکھے طبقے کی ہے ۔اس کا سبب گر تلاش کیا جائے تو یہی ہے کہ بے روزگاری مختلف سماجی پہلو جن کے سحر میں پوری نوجوان نسل تباہی کی دہلیز پر کھڑی ہوگئی ہے ۔صحت مند زندگی گزارنے کیلئے ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہمیشہ سگریٹ و تمباکو نوشی کی پیشکش سے انکار کریں اور سگریٹ نوش افراد سے سگریٹ و تمباکو نوشی کی عادت کو ترک کروانے کی سنجیدہ کوششیں کرتے رہیں گے تاکہ وہ بھی ایک خوشگوار اور صحت مند زندگی بسر کر سکیں ۔
پھر بھی ظالم تیری فطرت نہ بدل پائے ہم
جال سے ترے نہ افسوس نکل پائے ہم
عالمی ادارہ صحت کے ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تمباکو سے بنی اشیاء میں مسلسل کمی دیکھنے کو مل رہی ہے جس میں آئندہ سالوں کے اندر مزید کمی آئے گی ۔ ادارہ ھذا نے اپنی رپورٹ میں تمام ممالک پر اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کریں جس سے تمباکو کے استعمال کی حوصلہ شکنی ممکن ہو سکیں ۔ ان میں تمباکو کے استعمال سے متعلق اشتہارات پر مکمل پابندی، سگریٹ کے پیکٹوں پر "Cigarette  smoking is injurious to health" اور "تمباکو سے کینسر ہوتا ہے " جیسے مضرِ صحت ہونے کی انتباہ، تمباکو سے بنی اشیاء پر ٹیکسوں میں اضافہ اور اس کا استعمال چھوڑنے والوں کی معاونت جیسے اقدامات شامل ہیں ۔ تمباکو ایک وائرس ہے جو بعد ازاں وبائی صورتحال اختیار کر سکتی ہے ۔ لہٰذا یہاں والدین کا کردار بڑا ہی اہم بنتا ہے کہ وہ اپنے بچوں پر سخت نظر رکھیں اور انہیں غیر ضروری طور پر ہر وقت پیسے مہیا رکھنے سے اجتناب کیا کریں ۔ علماء دین، خطیب و ائمہ کرام کو چاہیے کہ اس ناپاک اشیاء کے ضمن میں قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح ہدایات سے لوگوں کو روشناس کریں ۔ انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ سگریٹ نوشی کے خلاف ۲ نومبر ۲۰۰۱ء کو سپریم کورٹ کے ذریعے جاری کردہ احکامات کو سختی سے لاگو کریں اور عوامی مقامات پر اس کے استعمال سے پورا اجتناب کرایا جا سکیں ۔
خلاصہ کلام یہی ہے کہ تمباکو سے بنی تمام اشیاء زہر قاتل ہے جو نہ صرف استعمال کرنے والے شخص کی جان کے لئے خطرہ ہے بلکہ اس سے نکلنے والا زہریلا دھواں دوسروں کے لئے بھی وبالِ جان ہے ۔ آیئے اہل سخن چلیں ہم اپنی نسل نو کے تحفظ بقاء کے لئے مل کر برسرِ جدوجہد ہو جائیں ۔
(ہاری پاری گام ترال،رابطہ - 9858109109)
 

تازہ ترین