تازہ ترین

دُعا ہی سبیل ِ واحد

مشعلِ راہ

تاریخ    30 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


ندیم احمد میر
دعا ایک عظیم نعمت اور ایک انمول تحفہ ہے،جس سے اس دنیا میں کوئی بھی انسان کسی بھی حال میں مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔دعا اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک پسندیدہ اور خوشنودی کا عمل ہے۔دعا شرح صدر کا باعث اور سکون کا محرک ہے۔دعا اللہ تعٰالی کی ذات پر بھروسہ کی گائیڈ لائن ہے۔دعا آفت و مصیبت کی روک تھام کا مضبوط وسیلہ ہے۔بلاشبہ دعا اپنی اثر انگیزی اور تاثیر کے لحاظ سے مومن کا ہتھیار ہے۔ اللہ کے نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’دعا مومن کا ہتھیار،دین کا ستون اور آسمان وزمین کی روشنی ہے۔‘‘
دعا ربِّ کریم کے نادیدہ خزانوں کی چابی ہے،جس کے ذریعے سے ہی ہم اِن خزانوں کو حاصل کرکے اپنی جھولی کو بھر سکتے ہیں۔دعا واقعی طور پر انسان کا وہ سہارا ہے جو اس کے  زخموں پر مرہم پٹی کا کام کر تے ہیں۔دعا نہ ہوتا تو ربِ کریم کے دربار میں حاضری بھی نہ ہوتی۔دعا ایک مضبوط قلعہ ہے جس میں داخل ہوتے ہی انسان سکون و عافیت کا سانس لیتا ہے۔بندہ جلد بازی میں دعا کو چھوڑ کر سچ مچ میں اللہ ہی کو چھوڑ بیٹھتا ہے۔بندے کی شان وبان اسی میں ہے کہ وہ مانگتا رہے،کیونکہ مانگنے سے ہی اُسے اللہ کے ہاں عزت و قربت کے شرف سے نوازا جائے گا،جو بندے کے لئے سب سے بڑی سعادت اور خوش بختی ہے۔
  بندہ جب اپنے رب کے در پر حاضری دیتا ہے تو آناً فاناً نتائج نہ دیکھ کر مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے۔بندہ چونکہ جلد باز ہی واقع ہوا ہےاور وقت سے پہلے ہی پھل توڑنا چاہتا ہے۔اللہ رب العزت علیم و خبیر ہیں جو بہترین چیز کو بہترین وقت پر ہی دیتا ہے۔جب ایک بے کس و بے بس انسان،ساری مخلوق سے منہ موڑکر،اپنے مالکِ حقیقی کی بارگاہ میں دست ِسوال کرتا ہے تو اللہ تعالی اسے محروم نہیں فرماتا،بلکہ توقع سے بڑھ کر نوازتا ہے۔وہ اپنے بندے کی آنسوؤں کی برکھا کو ضائع نہیں کرتا،وہ اپنے بندے کے ٹوٹے ہوئے دل کو اپنے حال پر نہیں چھوڑتا،وہ سجدوں میں اپنے بندے کی آہٹوں کو نہیں بھولتا،وہ اپنے بندے کی نظر و نیاز کو اپنے دامن میںلیتا ہے،وہ اپنے بندے کی بے قراریوں کو محسوس کرتا ہے ،وہ اپنے بندے کی مدد کے لئے دوڑتا ہوا آتا ہے،وہ اپنے بندے کی مجبوریوں کو سمجھتا ہے، اپنے بندے کی پلکوں کے پیچھے چُھپے ہوئے آنسو کو چُن لیتا ہے، اپنے بندے کو اپنے سامنے جبینِ نیاز خم کر کے استقبال کرتا ہے،اپنے بندے کے تمام رازوں کو درپردہ رکھتا ہے،اپنے بندے کو کمزور پاکر اُسے حوصلہ بخشتا ہے، بندے کی اندھیری راتوںمیں دی ہوئی پُکاروں کو استجابت کے شرف سے نوازتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنےبندے کو بے بسی کی حالت میں نہیں چھوڑتا۔وہ اپنے بندے کی مالی و جانی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کرتا،وہ اپنے بندے کو ہرگزبے یارومددگار نہیں چھوڑتا،وہ اپنے ہدایت کے پیاسے بندے کو ہدایت کے جام پلاتا ہے۔ وہ اپنے بندے کی مسلسل اور انتھک کوشش میں رنگ لاتا ہے،وہ اپنے بندے کی صبر سے لبریز زندگی کو نہیں ٹھکراتا ہے، اپنے اُس بندے کو جو اُسی کا ہو کر رہتا ہےکی خطائوںکو در گذرکرتا ہےاور موجوں میں پھنسے اُسکے سفینہ کو کنارا لگاتا ہے۔اللہ اپنے بندے کے زخموں کی مرہم پٹی کرتا ہے، اُس کے دُکھ درد دور کرتاہے،اُسے مصیبتوں کے جال سے آزاد کردیتاہے۔وہ اپنے بندے کی چاہت دیکھ کر اسے اپنے دیدار سے محروم نہیں رکھتابلکہ اپنے بندے کی دین کی خاطر جدوجہد دیکھ کر اُسے انعام سے نوازتا ہے۔اللہ اپنے بندے کی ندامت کے آنسو دیکھ کر اسے مغفرت کا پروانہ دیتا ہے، اپنے بندے پر ظلم و بربریت دیکھ کر اُس پر فرشتوں کا نزو ل کرتا ہے، اپنے بندے کی اسلام کی راہ میں کوششوں کو قبولیت کاشرف بخشتا ہے، اپنے بندے کو اپنی محبت میں مچلتے اور تڑپتے دیکھ کر اُسے گلے لگاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو شہادت کا جام پیتے ہوئے دیکھ کر اپنے دیدار سے منور کرتا ہے،دین کی راہ میں اپنے بندے کا سب کچھ تج کرتے ہوئے دیکھ کر جنت کے اعلیٰ بالاخانوں میں جگہ دیتا ہے،وہ تب ہی اپنے بندے کے لئے سب کچھ کر تا ہے، جب بندہ صبر و حکمت سے لبریز ہوکر اُس کے دَر کا فقیر ہی بنارہتا ہے۔
اللہ رب العزت ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے لیکن وہ بندے کو ہر چیز مقررہ وقت پر ہی دیتا ہے۔وہ اپنے بندے کی دعا قبول کرکے اس کا یقین بڑھاتا جاتا ہے،وہ اپنے بندے کی دعا میں دیر لگا کر اس کا صبرکا پیمانہ وسیع کرتا ہے اور اپنے بندے کی دعا کا جواب نہ دے کر اُسے آزماتا رہتا ہے۔بندے بے صبر اور بے خبرہےاُسے کیا معلوم کہ اِس وقت یہ حاجت اُس کے لئے موزوں رہے گی بھی یا نہیں؟انسان نہیں جانتا ہے کہ بعض ناگواریاں اُسےخوشیوں کا پیغام لاتی ہیں اور بعض بظاہر بھلی باتیں کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔کبھی کبھار انسان کسی چیز کو اپنے لئے شر سمجھتا ہے لیکن حکیمِ خدا نے اُس میں خیرِ کثیر رکھا ہوتا ہے،جس کا تذکرہ قرآنِ پاک میں ان الفاظ میں آیا ہے:
 ’’ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہی تمہارے لیے بہتر ہو اور ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لیےبُری ہو، اللہ جانتا ہے،تم نہیں جانتے۔‘‘ (البقرہ:216)
اس آیتِ مبارکہ کے ذیل میں سید قطب شہیدؒ نے ایک بہت ہی شاندار اور جاندار نوٹ لکھا ہے،جس کو پڑھ کر انسان روحانی سکون سے مستفیض ہوکر اپنے سارے معاملات اور راہِ اعتدال پر مستقبل میں آنے والے تمام نتائج کو اللہ کے سپرد کر ہی دیتا ہے،لکھتے ہیں:
’’اسلام فطرت کے ساتھ یوں معاملہ کرتا ہے کہ وہ انسان کے فطری رجحانات پر کوئی نکیر نہیں کرتااور نہ ہی انسان کو کسی مشکل فرض کے سرِانجام دینے پر محض آرڈر اور حکم کے ذریعہ مجبور کرتا ہے،بلکہ وہ انسان کی تربیت کرکے اسے اطاعت پر آمادہ کرتا ہے۔امید کا دائرہ وسیع کردیتا ہے۔وہ اُسے یہ تعلیم دیتا ہے کہ ادنیٰ چیز کو خرچ کرکے اعلیٰ ترین حاصل کرو،وہ انسان کو ذاتی خواہشات کے مقابلے میں نہیں بلکہ خوشی ورضا سے کھڑا کرتا ہے تاکہ انسان کی فطرت کو اس بات کا احساس ہو کہ اللہ کا رحم وکرم اس کے شامل حال ہے کیونکہ وہ انسانی کمزوریوں سے خوب واقف ہے،وہ اُس کی مجبوریوں سے بھی واقف ہے اور انسان کی بھی قدر کرتا ہے اور بلندہمتی،التجا اور امید کے ذریعے اسے مسلسل آگے بڑھانے کی ہمت بھی دیتا رہتا ہے۔
یوں اسلام انسانی فطرت کی تربیت کرتا ہے،وہ فرائض پر ملول نہیں ہوتی،صدمات کی ابتلا میں جزع وفزع نہیں کرتی اور نہ مصائب شروع ہوتے ہی وہ ہمت ہار بیٹھتی ہے۔اگر مشکلات کے مقابلے میں کمزوری ظاہر ہوجائے تو شرمندہ ہو کر صاف گر ہی نہیں جاتی بلکہ ثابت قدم رہنے کی سعی کرتی ہے اور سمجھتی ہے کہ اسے عنداللہ معذور سمجھاجائے گا۔اسے یہ امید ہوتی ہے کہ اللہ اس کی امداد کرے گا اور اپنی طرف سے قوت بخشے گا اور مصائب کا مقابلہ کرنے کا پختہ ارادہ کرلیتی ہے۔کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ان مشکلات کی تہہ میں کچھ خیر پوشیدہ ہو۔مشکلات کے بعد آسانیاں آجائیں،تھکاوٹ اور ضعف کے بعد بہت بڑا آرام نصیب ہوجائے۔یہ فطرت محبوبات ومرغوبات پر فریفتہ نہیں ہوتی، اس لئے کہ عیش و عشرت کا نتیجہ حسرت بھی تو ہوسکتی ہے،محبوب کی تہہ سے مکروہ بھی برآمد ہوسکتا ہے۔کبھی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ روشن تر امیدوں کے پس پردہ ہلاکت اور مصیبت انتظار کررہی ہو۔
تربیت کا یہ عجیب نظام ہے،بہت ہی گہرا اور بہت ہی سادہ۔یہ نظام نفس انسانی کے سرچشموں،اس کے پوشیدہ گوشوں اور اس کے مختلف گزرگاہوں کا شناسا ہے۔یہ نظام تربیت سچائی اور صداقت سے کام لیتا ہے ۔ اس میں جھوٹے اشارے،جھوٹے تاثرات اور نظر فریب جعل سازی نہیں ہوتی۔پس یہ حقیقت ہے انسان کا ناقص اور ضعیف ذہن کسی بات کو ناپسند کرے حالانکہ وہ خیر ہی خیر ہو۔اور یہ بھی حق ہے کہ انسان کسی چیز کو پسند کرے اور اس کا جانثار ہو،لیکن اس میں شر ہی شر ہو اور یہ بھی حق ہے کہ اللہ جانتا ہے اور انسان نہیں جانتے۔لوگوں کو عواقب اور انجام کا کیا علم ہے،وہ کیا جانیں کیونکہ پردہ گرا ہوا ہے اور پسِ پردہ کیا ہے؟غرض لوگوں کو ان حقائق کا علم نہیں ہوسکتا جو ہماری خواہشات،جہالت اور نفس کے تابع نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(مضمون جاری ہے،انشا اللہ مضمون کا باقی حصہ اگلے ہفتہ شائع کیا جائے گا)
mail:mirnadeem243518@gmail.com

تازہ ترین