تازہ ترین

لوگ ووٹ کے بٹوارے کی سازش سمجھیں | جموں کشمیر میں ڈومیسائل لداخ میں حق برقرار: عمر

تاریخ    28 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


زاہد بشیر
گول// نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر میں ووٹ کے بٹوارے کی سازشیں رچا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی نشستوں کی سرنو حد بندی کو لے کر بھی لوگوں کو آپس میں لڑوانے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔عمر نے کہا کہ جو کچھ ہم سے پانچ اگست 2019 کو چھینا گیا ہم وہ حاصل کرکے ہی دم لیں گے کیونکہ یہ انصاف اور سچائی کی لڑائی ہے ۔انہوں نے کہا’لیکن ہمیں احتیاط سے کام لینا ہوگا کیونکہ دلی دو سازشیں رچا رہی ہے، ایک الگ الگ تنظیمیں بنا کر لوگوں کے ووٹ کا بٹوارا کیا جا رہا ہے اور دوسرا اسمبلی نشستوں کی حد بندی کو لے کر جموں کے لوگوں کو کشمیریوں کے ساتھ لڑوایا جائے گا‘۔ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہم سے پانچ اگست 2019 کو چھینا گیا ہم اس کو واپس حاصل کرکے ہی دم لیں گے ۔موصوف نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کے روز ضلع ڈوڈہ کے گول سب ڈویژن میں پارٹی کارکنوں کے ایک جلسے سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ‘اگست 2019 کے بعد جموں و کشمیر کو کس طرف دھکیلا جا رہا ہے یہ ہمارے سمجھ میں نہیں آرہا ہے ’۔ان کا کہنا تھا’’آج کے حکمرانوں کے ارادے کیا ہیں اور وہ کیا کرنا چاہتے ہیں یہ بھی ہماری سمجھ سے باہر ہے صرف یہ کہا جا رہا ہے کہ سال2018 تک یہاں کچھ بھی نہیں ہوا تھا‘‘۔موصوف نے کہا کہ دفعہ370 ہٹنانے کے بعد امن اور ترقی کا وعدہ کیا گیا جو کہیں نظر ہی نہیں آتا ہے ۔ان کا کہنا تھا’بد قسمتی کی حد یہ ہے کہ ایک بے گناہ کی لاش حاصل کرنے کے لئے احتجاج کرنا پڑتا ہے ۔ گول کے ہی عامر ماگرے جو روز گار کے لئے سرینگر گیا تھا، کو ہندوارہ میں دفنایا گیا‘۔موصوف لیڈر نے کہا کہ لداخ کے لوگوں کا نوکریوں، زمین اور اسکالر شپ کا حق برقرار رکھا گیا لیکن جموں و کشمیر میں ڈومیسائل قانون لاگو کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد جب نیشنل کانفرنس کی حکومت آئے گی تو سب سے پہلے عارضی ملازموں کے مسائل کو حل کیا جائے گا اور ڈی ڈی سی ممبروں کو ان کے اختیارات دئے جائیں گے ۔