تازہ ترین

سخت سردی اور خشک موسم سے کھانسی اور زُکام | بیمار بچوں کی تعدا دمیں 10فیصد اضافہ

تاریخ    28 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


پرویز احمد
سرینگر //وادی میں2ہفتوں کے دوران زکام اور کھانسی سے متاثر ہونے والے بچوں کی تعداد میں 10فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ماہر اطفال کا کہنا ہے کہ سخت سردی کے دوران عام وائرسسے بچے کھانسی، زکام، بخار ، گلا خراب اورسردرد کی شکایت کرتے ہیں لیکن سماجی دوری اور ماسک پہننے سے اس وائرس کو بھی پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر میں شعبہ اطفال کے سربراہ ڈاکٹر مظفر جان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ سخت سردی اور خشک موسم کی وجہ سے بچے اب (RSV) وائرس کے شکار ہورہے ہیں اور جب بھی کسی بچے کے نمونے بھیجے جاتے ہیں تو ہر نمونے میں RSVکی موجودگی کی تصدیق ہورہی ہے۔انہوں نے کہا ’’ امسال اس وائرس کی وجہ سے اسپتال آنے والے بچوں کی تعداد میں 10فیصد اضافہ ہوا ہے‘‘۔ڈاکٹر مظفر نے بتایا ’’اگر ہم روزانہ او پی ڈی میں 100مریضوں کو دیکھتے تھے تو پچھلے 2ہفتوں سے روزانہ 110بچوں کو او پی ڈی میںمعائنہ  ہورہاہے۔انہوں نے کہا’’ خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ یہ وائرس ایک عام وائرس ہے اور اس کا علاج دستیاب ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کورونا مخالف قوائد و ضوابط پر سے عمل کرنے سے نہ صرف ہم خود کو وائرس سے بچاتے ہیں بلکہ یہ ہمارے گھروں میں انفیکشین کم کرنے کا بھی سبب بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر  جان نے بتایا ’’  اگر کسی بھی شخص میں وائرس کی ہلکی سی علامت بھی موجود ہو تو اس کو فوراً کورونا مخالف قوائد و ضوابط پر عمل کرکے ماسک پہننے کے علاوہ سماجی دوری کا اہتمام کرنا چاہئے‘‘۔ ڈاکٹر جان نے بتایا ’’ والدین کو بچوں کو کسی بھی صورت میں غیر ضروری طور پرسردی کے دوران  باہر نکالنے سے پرہیز کرنا چاہے‘‘۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سال 2013میں کی گئی سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ کشمیر میں 33.9فیصد بچے RSVوائرس سے مختلف بیماریوں کے شکار ہوتے ہیں ۔ ان میں 5.5فیصد بچے انفلنزا کے شکار رہتے ہیں۔