تازہ ترین

یونیسکو کا عالمی ثقافتی ورثہ

کشمیر کے4مقامات کو فہرست میں شامل کرنیکی کوشش

تاریخ    27 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//قومی ثقافتی اتھارٹی نے وادی کشمیر کے اہم ہندو اور بودھ مذہب کے یادگار مقامات کا ایک تفصیلی سروے کیا ہے۔ یہ سروے چیئرمین این ایم اے، ترون وجے نے ڈائریکٹوریٹ آف آرکائیوز، آرکیالوجی اینڈ میوزیم، حکومت جموں و کشمیر کے عہدیداروں کے ساتھ کیا۔معذور ہونے اور وہیل چیئر کے پابند ہونے کے باوجود چیئرمین نے سرینگر میں ہندو اور بدھ مندروں اور یادگار مقامات جیسے رعناواری، مارتنڈ ، اونتی پورہ، ہارون بدھسٹ سائٹ، پرہاس پورہ، پتن، مندروں کے ناراناگ گروپ،شری پرتاب سنگھ میوزیم اور دیگر مقامات کا وسیع دورہ کیا۔سروے کے دوران، ترون وجے نے کہا، وادی کشمیر میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی مشق وزیر اعظم کے 'ایک بھارت، شریشٹھ بھارت' کے جذبے کو فروغ دیتے ہوئے جموں و کشمیر کی ثقافتی شان کو بحال کرنے کے وژن کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان یادگاروں کے تحفظ  کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔جموں و کشمیر میں متعدد ورثے کی جگہوں کی موجودگی کے بارے میں روشنی ڈالتے ہوئے، چیئرمین نے کہا کہ اتھارٹی یہاں متعدد یادگاروں کے لیے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ حاصل کرنے کے لیے ایک اچھا منصوبہ تیار کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ"مارٹنڈ، پریہاسپورہ، ناراناگ اور ہاروان ان اہم مقامات میں سے ہیں جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے درجہ کے مستحق ہیں۔"ہیریٹیج سائٹس چیئرمین نے کہا کہ"جموں و کشمیر عالمی معیار کے ثقافتی ورثے کی جگہوں کے خزانے پر بیٹھا ہے اور این ایم اے جموں و کشمیر حکومت اور اے ایس آئی کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان مقامات کو عالمی ثقافتی ورثہ کی عارضی فہرست میں شامل کیا جائے اور اس کے نتیجے میں یونیسکو کی عالمی فہرست میں شامل کیا جائے۔ چیئرمین نے لیفٹیننٹ گورنر کی کوششوں کو بھی سراہا۔ منوج سنہا، نے ورثے کے تحفظ کے لیے افسران میں نیا جوش و جذبہ پیدا کیا ہے اور جموں و کشمیر میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ایک نئی مہم شروع کی ہے۔شری ترون وجے نے وچار ناگ مندر کی تزئین و آرائش کے عمل کو شروع کرنے پر ڈپٹی کمشنر سرینگر اعجاز اسد کی بھی تعریف کی۔انہوں نے مرکزی اور مقامی افسران کی کاوشوں کو بھی سراہا جنہوں نے کئی چیلنجز کے باوجود سخت محنت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان عظیم ثقافتی خزانوں کو محفوظ رکھنے میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں خصوصی سرٹیفکیٹ دیے جائیں گے۔چیئرمین نے اے ایس آئی افسران کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اے ایس آئی کی جانب سے تجاوزات اور قانون کی خلاف ورزی کے 19 سے زائد مقدمات صرف نارانگ میں ہی تجاوزات کے خلاف درج کیے گئے ہیں۔رعناواری کے قدیم ویٹال بھیرو مندر کے اپنے سروے کے دوران، چیئرمین نے عہدیداروں سے کہا کہ اس جگہ کو مرکزی اور مقامی اے ایس آئی کی فہرست میں درج کرنے کے لیے کارروائی شروع کی جائے۔شری ترون وجے نے افسران سے یہ بھی کہا کہ ثقافتی ورثے کے ان خزانوں کی دیکھ بھال اور تحفظ کے لیے مناسب عملہ تعینات کیا جائے اور آنے والے دنوں میں اس کے لیے مناسب بجٹ اور فنڈز مختص کیے جائیں گے۔