تازہ ترین

لیفٹیننٹ گورنر نے ’’ جنجاتیہ گورو دِیوس ‘‘ کی اختتامی تقریب کا افتتاح کیا | کہا قبائلی ثقافتی ورثے کا تحفظ اور فروغ وقت کی اہم ضرورت

طبی ہنگامی حالات کے دوران قبائلی آبادی کیلئے سرکاری ہیلی کاپٹر کی تعیناتی کا اعلان

تاریخ    25 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
 جموں//لفٹینٹ گورنر منوج سنہا نے جموں یونیورسٹی کے جنرل زوراور سنگھ آڈیٹوریم میں ’’ جنجاتیہ گورو دِیوس ‘‘ کی اختتامی تقریب کا افتتاح کیا ۔ برسا منڈا کے یومِ پیدائش کی تقریبات کے اختتام کے موقع پر ایک دو روزہ ادبی اور ثقافتی قبائلی میلے کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔ اس میلے میں جموں و کشمیر کی قبائلی برادریوں کے بھر پور ورثے ، ثقافت ، فن ، دستکاری ، کھانوں اور جڑی بوٹیوں کی ادویات کی نمائش کی جائے گی ۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے جموں و کشمیر کی قبائلی آبادی کی مجموعی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ یو ٹی انتظامیہ نے قبائلیوں کی روزی روٹی سپورٹ اور بااختیار بنانے کو یقینی بنانے کیلئے کئی اقدامات کئے ہیں ۔ نئی ٹرانزٹ رہائش ، قبائلی صحت اسکیم اور اسمارٹ اسکول یقینی طور پر معیار زندگی کو بہتر بنائیں گے ‘‘۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ حکومت قبائلی طبقے کی سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے جن قبائلی بنیادوں پر اصلاحات اور پالیسیاں نافذ کر رہی ہے وہ اپنی منفرد ثقافت ، زبانوں اور روایات کو زندہ رکھتے ہوئے اس کمیونٹی کے خوابوں کو پورا کرے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ ثقافت نہ صرف فرد کی زندگی کو تقویت بخشی ہے بلکہ معاشرے کو بھی مضبوط کرتی ہے ۔ اس موقع پر لفٹینٹ گورنر نے اعلان کیا کہ طبی ہنگامی حالات کے دوران قبائلی آبادی کیلئے ریاستی ہیلی کاپٹر تعینات کیا جائے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ضرورتمند مریضوں کی بروقت تشخیص اور علاج میں مدد ملے گی ۔ قبائلی برادری کی فلاح و بہبود اور مفاد کیلئے حکومت کی طرف سے متعارف کرائی گئی اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ مطلوبہ بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور قبائلی اکثریتی علاقوں میں عوامی خدمات کی فراہمی کیلئے جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ عزت مآب وزیر اعظم کی رہنمائی میں جموں و کشمیر کی حکومت اس محروم طبقے کے حقوق کو نافذ کر کے سماجی مساوات کی ایک نئی صبح شروع کرنے کیلئے انتھک محنت کر رہی ہے جس کی ضمانت آئین اور ملک کی پارلیمنٹ نے دی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی ثقافت اور تہذیب پر کام کرنے والے تمام اسکالرز اور مفکرین کو ادارہ جاتی مدد فراہم کرنے کیلئے یو ٹی میں ٹرائیبل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قائم کیا جا رہا ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ حکومت قبائلی آبادی کی موسمی نقل مکانی کے دوران ان کی سہولت کیلئے 28 کروڑ روپے کی لاگت سے 8 مختلف مقامات پر ٹرانزٹ رہائش قائم کر رہی ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے یہ بھی بتایا کہ تین ماہ کے اندر 4500 سے زائد قبائلی کمیونٹی کے نوجوانوں کو منی شیپ فارمز اور ڈیری یونٹس کے ذریعے کاروباری بنایا گیا ہے جو کہ 3000 کے ہدف سے زیادہ ہے ۔ لفٹینٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے اپنے خطاب میں اس موقع کو اپنی نوعیت کا ایک ایسا موقع قرار دیا جس نے تمام قبائلی برادریوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا ۔ انہوں نے محکمہ قبائلی امور کو مبارکباد پیش کی کہ وہ زمینی سطح پر اسکیموں اور پالیسیوں کو نافذ کرنے کیلئے دن رات کام کر رہے ہیں ۔چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے اس موقع پر کہا کہ حکومت کی طرف سے قبائلی برادریوں کی فلاح و بہبود کیلئے کئے گئے زمینی فیصلوں پر روشنی ڈالی ۔ انتظامی سیکرٹری قبائلی امور ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور جنجاتیہ گورو دِوس کے موقع پر منعقد کی گئی مختلف سرگرمیوں کا تفصیلی جائیزہ لیا ۔ ایک دستاویزی فلم ’’ جموں و کشمیر کے قبائلی گروہوں کا تعارف اور قبائلی موسیقی اور رقص کی پرفارمنس اس موقع کی اہم جھلکیاں تھیں ۔ اس تقریب میں وائس چانسلر جموں یونیورسٹی پروفیسر منوج کمار دھر ، ڈپٹی کمشنر جموں انشول گرگ ، پی آر آئی کے نمائندے جاوید راہی ، مصنف اور قبائلی ریسرچ اسکالر ، سینئر افسران اور قبائلی برادری کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔