تازہ ترین

تعلیم اور تعمیرِ معاشرہ!

معاشرہ خود اپنی کامیابی اورترقی کا معمار ہوتا ہے

تاریخ    25 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر عریف جامعی
خالق کائنات نے حضرت انسان کو باقی مخلوقات میں جو امتیاز عطا فرمایا ہے وہ بہترین ساخت (احسن التقویم) کے ساتھ ساتھ علم حاصل کرنے کی وہ صلاحیت ہے ،جو اسے اپنے آپ سے، اپنی خارجی دنیا سے اور حقیقت اعلی سے متعلق آگہی عطا کرتی ہے۔ یہی آگہی انسان کو دانشمند بنادیتی ہے اور اسے دنیا میں بحیثیت انسان اپنا تفوق اور امتیاز قائم رکھنے میں معاون ہوتی ہے۔ انسانیت کے لئے یہ علم کی اہمیت اور ضرورت ہی ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے علم، بنیادی ذریعہ علم (قلم) اور بیان (نطق) کی نسبت اپنے ساتھ کی ہے اور اس کو انسانیت پر اپنے احسان کے طور پر گنا ہے۔
عقلی، اخلاقی اور جمالیاتی وجود ہونے کی وجہ سے انسان کو جو ارتقائی منازل طے کرنا تھیں، ان کے حصول کے لئے اس کو تدریجی طور پر ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کی ضرورت تھی جو اس کے وجود کی تمام جہتوں کو اپنے اندر جگہ دینے کی اہلیت رکھتا۔ ساتھ ساتھ اس معاشرے کے اندر ان تمام صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی استطاعت کا ہونا بھی لازمی تھا۔ تاہم خوب سے خوب تر کی طرف معاشرے کا یہ سفر ہر دور میں زمانے کے حالات اور حاصل شدہ ترقی کے لحاظ سے جاری رہا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو انسانی معاشرے میں کسی ترقی کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا، کیونکہ اس صورت میں یا تو وہ پرندوں کی طرح ودیعت شدہ صلاحیت کے مطابق اپنے گھونسلے بناتا یا پھر شہد کی مکھی کی طرح اپنے چھتے قائم کرتا۔ اس صورت میں انسان غار گپھاوں سے نکل پاتا اور نہ ہی خالق کائنات کی تسبیح و تحمید کے لئے پرندوں کی چہچہاہٹ کے علاوہ کچھ کرپاتا۔
یہی وجہ ہے کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر بالقوہ علم حاصل کرنے کی صلاحیت ودیعت کی اور دوسری طرف علم حاصل کرنے کے داخلی داعیات کے ساتھ ساتھ خارجی آلات بھی مہیا کرکے رکھے۔ داخلی داعیات ہی سماعت، بصارت، بیان اور فواد (جس میں عقل، دل، وجدان اور حس مشترک شامل ہیں) کی صلاحیتوں کو آلات علم جیسے قلم و قرطاس اور عمل ترسیل، تحصیل اور ترویج علم کے ساتھ جوڑ کر تعلیم و تعلم کو ایک باضابطہ واقعہ (فینامینن) میں تبدیل کرتے ہیں۔ اسی لئے خدا نے ایک طرف انسان کو ان صلاحیتوں کے لئے شکر بجا لانے کا حکم دیا ہے اور دوسری طرف ان کے عدم استعمال یا غلط استعمال پر اس کو مسئول ٹھہرایا جائے گا۔ انہی صلاحیتوں کے استعمال سے تعلیم ایک ایسا نظام بن جاتا ہے جس میں پورا معاشرہ بالواسطہ یا بلاواسطہ شریک ہوجاتا ہے۔ اس طرح اگر یہ کہا جائے کہ "معاشرہ اپنی تعمیر کا خود معمار ہے" تو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا!
واضح ہوا کہ تعلیم علم کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ معاشرتی رویات، انسانی رویوں اور مجموعی انسانی اقدار کی تحصیل، ترویج اور تحفیظ کا ایک مسلسل عمل ہے۔ اس طرح سے علم و آگہی کا یہ پورا خزینہ ایک نسل دوسری نسل کی طرف منتقل کرتی ہے۔ اس عمل میں یہ بات بھی شامل ہوتی ہے کہ منفی اور غلط روایات کی تنقید کے ساتھ ساتھ ان کی کانٹ چھانٹ کی جائے اور ان میں حذف و اضافہ کے بعد ان کو معاشرے کے مجموعی حافظے کے حوالے کیا جائے، تاکہ انسانی معاشرہ انہیں اپنی مشترکہ وراثت کے طور پر محفوظ کرنے کی جدوجہد کرے۔
اس طرح تعلیم ایک ایسا عمل ٹھہرتا ہے جس میں دوام، تسلسل، استمرار اور تواتر کا ہونا لازمی ہے۔ عربی کے باب تفعیل سے مصدر یہ لفظ (تعلیم) تعمیر کا ہی وزن رکھتا ہے۔ یعنی جس طرح مادی تعمیر میں بھی کسی تغافل، تاخیر یا لیت و لعل کی گنجائش نہیں ہوتی، بالکل اسی طرح تعلیم کو بھی کسی بھی صورت میں کسی لحظہ التوا کا شکار نہیں کیا جاسکتا۔ اور جو معاشرہ بھی ایسا کرتا ہے وہ زندگی کی مجموعی ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔ یعنی ’’یک لحظہ غافل گشتم و صد سالہ راہم دور شد، ایک لحظہ کی غفلت اسے سو برس کی مسافت پیچھے دھکیل دیتی ہے‘‘۔ ظاہر ہے کہ قانون فطرت کے مطابق کوئی بھی جگہ کسی وقت بھی خالی نہیں رہ سکتی، اس لئے جب تعلیم کا عمل ملتوی ہوکر معاشرے کی تعمیر رک جائے گی تو معاشرے میں عین اس کی ضد ’’تخریب‘‘ کا عمل جاری ہوجائے گا۔ یعنی جہاں بناو نہیں ہوگا وہاں بگاڑ ضرور در آئے گا۔ یہاں ضمناً عرض کیا جاسکتا ہے کہ لفظ تخریب بھی باب تفعیل سے مصدر ہے، جس کے تحت معاشرے میں پہلے خرابی کا بیج پڑ جاتا ہے جو تسلسل کے ساتھ نشوونما پاکر اپنا مہیب سایہ معاشرے پر ڈال کر اس کی تباہی پر منتج ہوتا ہے۔ یعنی معمار خود پہلی اینٹ کی کجی کا باعث بنتا ہے اور اگر عمارت فلک بوس بھی ہو، اس کی ٹیڑھ جوں کی توں برقرار رہتی ہے:
خشت اول چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج
ظاہر ہے کہ دھڑام سے گرنا ٹیڑھی دیوار کا مقدر بن جاتا ہے!اس لئے معاشرے کی عمارت کا نہ صرف ٹیڑھ سے پاک ہونا لازمی ہے بلکہ اس کی مسلسل تزئین کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ تزئین کا مطلب یہ ہے کہ زمانے کی نئے خیالات اور نئی دریافتوں میں سے موتی چن چن کر اس کی رونق کو دوبالا کیا جاتا رہے تاکہ قدیم اور جدید کا امتزاج معاشرے کے حسن میں چار چاند لگاتا رہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے رسمی تعلیم (فارمل ایجوکیشن) کے ساتھ ساتھ غیر رسمی تعلیم (انفارمل ایجوکیشن) کا ساتھ ساتھ جاری ہونا معاشرے کے لئے نہایت ضروری ہے۔ ظاہر ہے کہ رسمی تعلیم کے لئے ایک منظم تعلیمی نظام کا ریاستی (معاشرتی) سطح پر ہونا لازمی ہے، جس میں زمانے کے مطابق مدارس کا ڈھانچہ، معیاری آلات و آسائش تعلیم و تعلم اور قابل اور باصلاحیت اساتذہ کا ہونا ایک بنیادی امر ہے۔ اس ڈھانچے کے ساتھ والدین، شاگرد اور اساتذہ کی تثلیث (ٹرانگل) کا دلچسپی کے ساتھ جڑنا پورے عمل کی کامیابی کے لئے شرط اول ہے۔ ان میں سے اگر کوئی بھی جز عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرے گا تو پورا ڈھانچہ بے نتیجہ ثابت ہوگا۔ تاہم اس تثلیث میں والدین اور اساتذہ کی  ذمہ داری ایک مرکزی کردار ادا کرتی ہے، کیونکہ یہ دونوں تعلیم کی انقلابی تاثیر سے واقف ہوتے ہیں جبکہ شاگرد اس راہ کا ابھی ایک اجنبی مسافر ہوتا ہے جس کے ساتھ معاشرے کی مستقبل کی تعمیر منسلک ہوتی ہے۔ اس طرح سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ خاندان بحیثیت معاشرے کی بنیادی اکائی اور مدرسہ بحیثیت معاشرے کا ذمہ دار ادارہ معاشرے کی تعمیر و ترقی کے لئے بنیادی فریضہ انجام دینے کے پابند ہوتے ہیں۔ قرآن نے والدین (ظاہر ہے کہ اساتذہ بھی شاگرد کے معنوی والدین ہوتے ہیں) کے اس کردار کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے:
’’۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ جب وہ اپنی پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو کہنے لگا: اے میرے پروردگار! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاوں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہوجائے اور تو میری اولاد بھی صالح بنا۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔‘‘ (الاحقاف: 15)
یہاں پر یہ بات واضح کرنا نہایت ضروری ہے کہ دعا دراصل تدبیر کے ساتھ ساتھ کیا جانے والا عمل ہے ،جس کے پیچھے ’’السعی منی والاتمام من اللہ، یعنی میری کوشش اور اتمام اللہ کا‘‘والی نفسیات ہوتی ہیں اور ’’نیک عمل‘‘ بنیادی طور پر انہی نفسیات کا عملی اظہار ہوتا ہے جو ایک طرف فرد کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ عمودی (ورٹکل) تعلق کو ظاہر کرتا ہے اور دوسری طرف افراد معاشرہ کے ساتھ اس کے افقی (ہاریزنٹل) تعلق کو نمایاں کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان نفسیات کو پروان چڑھانے میں حصول علم (تعلیم) ایک بنیادی کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ ’’انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء (فاطر: 28)، یعنی علم سے بہرہ ور لوگ ہی سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے ہوتے ہیں۔‘‘ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ اگر معاشرتی طور پر خاندان میں ماں کی گود بچے کی تعلیم کے لئے پہلی درسگاہ کا کام کرتی ہے تو نفسیاتی طور پر رحم مادر سے ہی اس کا سلسلہ شروع ہوچکا ہوتاہے!
تاہم جہاں تک غیر رسمی تعلیم کا تعلق ہے تو رسمی تعلیم کے مقابلے میں یہ زندگی بھر جاری رہتی ہے اور اس کے ذریعے مشاہدات اور تجربات کے ذریعے انسان مختلف معاشرتی رویے سیکھتا رہتا ہے۔ اس تعلیم کے زیر اثر انسان مختلف معاشرتی رویوں کو غیر مفید پاکر ترک بھی کرتا ہے۔ رد و قبول کے اس مسلسل عمل سے معاشرے میں نکھار آتا ہے اور معاشرہ ارتقاء کی نئی منزلوں پر فائز ہوتا ہے۔ تاہم تعلیم کی اس قبیل کے لئے معاشرے کا ہر ادارہ ایک مدرسہ ہوتا ہے اور ہر تجربہ کار اور دانش مند انسان اس کا استاد ہوتا ہے۔ اس طرح معاشرے میں وقوع پذیر ہونے والی ہر محفل، چاہے وہ ثقافتی ہو یا مذہبی، حتی کہ اگر یہ محفل کسی باہمی تنازعے کو حل کرنے کے لئے ہی کیوں نہ منعقد کی جائے، اپنے اندر تعلیم کا سامان رکھتی ہے۔ درس و تدریس کا یہ غیر رسمی عمل دوران سفر گاڑی میں کسی بزرگ اور خاتون کے لئے جگہ خالی کرنے، کسی معذور شخص کو رستہ پار کروانے، سلام کرنے یا سلام کا جواب دینے، غرض انسانی معاملات کی انجام دہی کے ہر کام میں جاری و ساری رہتا ہے۔
یہاں پر صوفیاء کرام کی طرف سے کی گئی تعلیم کی تقسیم کا ذکر کرنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔ انہوں نے رسمی تعلیم کو ’’علم الدراسہ‘‘ یعنی درس و تدریس سے حاصل ہونے والا علم کہا ہے، جبکہ سینہ بہ سینہ حاصل ہونے والے علم کو ’’علم الوراثہ‘‘ یعنی وراثتی علم کہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ تقسیم بھی ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لئے ضروری ہے۔
رسمی اور غیر رسمی تعلیم کے بیچ کی کڑی کے طور پر ہم جسمانی تعلیم (فزیکل ایجوکیشن) اور تعلیم ہنر و فن (اسکل ایجوکیشن) کو دیکھ سکتے ہیں۔ تعلیم کی ان دونوں اقسام کا بنیادی طور پر ایک مقامی رنگ ہوا کرتا ہے، لیکن مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ، خاصکر عالمگیریت (گلوبلوئیزئشن) کے زیر اثر ان پر بھی ایک عالمی رنگ چھا گیا۔ ظاہر ہے کہ کھیل کود معاشرے کے نوجوان طبقے کو متحرک رکھنے میں ایک کلیدی کردار نبھاتی ہے بشرطیکہ کھیل کو غایت اولی نہ بنایا جائے بلکہ اس کو اصلی ہدف یعنی معاشرے میں مثبت مسابقت اور نظم و ضبط حاصل کرنے کا ایک ذریعہ سمجھا جائے۔ ہنر و فن معاشرے کی معیشت کو سہارا دینے کے ساتھ ساتھ اس کے ثقافتی خدوخال کو محفوظ رکھتا ہے۔ کشمیر کے ثقافتی تناظر کو مد نظر رکھا جائے تو یہاں کی روایتی کاریگری، جس میں ’’کار امیری‘‘ (یعنی سادات کرام خاصکر میر سید علی ہمدانی ؒ کے سکھائے ہوئے مختلف ہنر) کو ایک خاص مقام حاصل ہے، کو آگے بڑھانا اور فروغ دینا بہت ضروری ہے۔ تاہم معلوماتی تیکنالوجی (انفارمیشن ٹیکنالوجی) سے آئے ہوئے انقلاب نے ہنر و فن میں جو تنوع پیدا کرکے مختلف مواقع پیدا کیے ہیں، ان کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ دونوں کو ملاکر قدیم اور جدید کا ایک حسین امتزاج پیدا کرکے معاشرے کی ترقی کا سامان کیا جاسکتا ہے۔
تعلیم کی ان مختلف جہات کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ یہی علم و آگہی کا ایک واحد لیکن تدریجی ذریعہ ہے جس سے نہ صرف فرد کے برتاؤ میں مفید تبدیلی (موڈفکیشن آف بہیوئر) ممکن ہوتی ہے بلکہ مجموعی طور پر معاشرے کے مشترکہ برتاؤ کو بھی اس طرح موڑا جاسکتا ہے کہ معاشرہ خود اپنی ترقی اور بناو کا معمار بن سکتا ہے۔ تاہم یہ ایک مسلسل اور تدریجی عمل ہے جس کے نتائج راتوں رات حاصل نہیں ہوسکتے۔ معاشرے کو ترقی کے بام عروج تک پہنچانے کے لئے نسلوں کی سعی و جہد درکار ہوتی ہے۔ ترقی کی اس سیڑھی پر چڑھنے کے لئے ہر نسل اپنے آنے والی نسل کے لئے ایک زینے کا کام کرتی ہے اور ہر نسل کے ہاتھ میں تعلیم کی مشعل کا ہونا لازمی ہے تاکہ علم و عرفان کی تنویر و تجلی سے معاشرے کی تاریکیاں دور ہوتی رہیں اور معاشرے کی تعمیر کے ساتھ ساتھ تنظیم بھی ہوتی رہے!
رابطہ۔ 9858471965
(ای۔میل۔ alhusain5161@gmail.com)