تازہ ترین

! بجلی کے نام پر بجلی گرانا بجا نہیں

تاریخ    23 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
 بالآخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔جوں جوں سردی بڑھتی چلی جارہی ہے ،اُسی رفتار سے بجلی بھی غائب ہوتی چلی جارہی ہے۔گزشتہ دنوں محکمہ بجلی نے جوکٹوتی شیڈول مشتہر کیاتھا،اُس میں اعلانیہ طور کہاگیا تھاکہ میٹر یافتہ علاقوں میں ہفتے میںساڑھے دس گھنٹے بجلی نہیں رہے گی جبکہ غیر میٹر یافتہ علاقوں میں یہ دورانیہ21گھنٹوں پر مشتمل ہوگا۔یوں نئے شیڈول کے مطابق میٹر یافتہ علاقوں میں اعلانیہ روزانہ ڈیڑھ گھنٹے جبکہ غیر میٹر یافتہ علاقوںمیں روزانہ تین گھنٹوں کی کٹوتی ہوناتھی تاہم عملی صورتحال یہ ہے کہ جہاں میٹر والے علاقوں میں ان ڈیڑھ گھنٹوں کے علاوہ غیر اعلانیہ طور کم ازکم مزید 6گھنٹوںکی کٹوتی ہورہی ہے وہیں بغیر میٹر والے علاقوں میں بجلی سپلائی کی صورتحال یہ ہے کہ پتہ ہی نہیں چل رہا ہے کہ یہ کب آتی ہے اور کب چلی جاتی ہے اور یوں عملی طور ان علاقوں میں10سے لیکر15گھنٹوں تک بجلی کٹوتی ہورہی ہے ۔اس پر ستم یہ کہ جب بجلی آتی ہے تو وولٹیج اتنی کم ہوتی ہے کہ بجلی کا بلب بھی نظر نہیں آتا ہے ۔نئے کٹوتی شیڈول کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ خصوصی طور صبح اور شام کے اوقات کو نشانہ بنایا گیا ہے اور نئے شیڈول کے مطابق دو نوں زمروں میں جہاںصبح ایک سے ڈیڑھ گھنٹے بجلی گل رہے گی جبکہ شام کے اوقات میںبھی یہی حال رہے گا ۔جہاں تک عقل و فہم کا تقاضا ہے تو یہ ایسے اوقات ہیں جب صارفین کو بجلی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔شام کے وقت بجلی کا استعمال تو ویسے بھی عام ہے لیکن جب سردی کا موسم ہو تو صبح اور شام کے اوقات پر بجلی کی ضرورت اور زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کی جاتی ہے۔اب اگر اس شیڈول پر بھی عملدرآمد ہوتا تو بجلی کبھی کبھار درشن دیتی لیکن اس کے برعکس غیر اعلانیہ طور اس سے دوگنی کٹوتی کی جاتی ہے اور یوں عملی طور لوگوں کو اندھیروں میں دھکیل دیاگیا ہے۔ محکمہ بجلی نے حسب روایت اس بے تحاشا کٹوتی کیلئے وہی عذر پیش کیا ،جو وہ ہرسال پیش کرتے آرہے ہیں ،یعنی طلب اور سپلائی میں وسیع خلیج ہے اور اس خلیج کو پاٹنے کیلئے کٹوتی ناگزیر بن چکی ہے ۔محکمہ بجلی کے حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کی طلب بڑھ چکی ہے۔ان کے مطابق اس وقت بجلی کی طلب2000سے22سومیگاواٹ ہے جبکہ محکمہ صرف1680میگاواٹ ہی بجلی فراہم کرسکتا ہے اور یوں کٹوتی ناگزیر بن چکی تھی۔غور طلب ہے کہ طلب اور سپلائی میں موجود اس خلیج کوپاٹنے کیلئے کٹوتی شیڈول میں غیر میٹر یافتہ صارفین کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں پہلے سے ہی کٹوتی شیڈول پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوتا تھا۔7لاکھ سے زائد بجلی صارفین میں سے 80فیصد کے قریب صارفین ایسے ہیں جو میٹریافتہ زمرے میں نہیں آرہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ سپلائی اور ڈیمانڈ کے درمیان موجود خلیج کو پُر کرنے کیلئے انہی80 فیصد صارفین کو قربانی کا بکرا بنایا جائے گا۔ صارفین ،جو میٹر یا ایگریمنٹ کے تحت باضابطہ فیس اداکررہے ہیں ،ان کا حق بنتا ہے کہ انہیں بوقت ضرورت وافر مقدار میں بجلی فراہم کی جائے اور سرما سے زیادہ صارفین کو بجلی کی سب سے زیادہ ضرورت کب پڑ سکتی ہے۔اس بات سے قطعی انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ صارفین کی جانب سے بجلی چوری ہوتی ہے اورجہاں میٹر یافتہ علاقوں میں محکمہ بجلی کے فیلڈ سٹاف کی ملی بھگت سے کنڈی لگانا معمول بن چکا ہے وہیں غیر میٹر یافتہ علاقوں میں حال ہی برا ہے جہاں صارفین آدھے کلو واٹ کا ایگریمنٹ اگر کرتے بھی ہیں لیکن بجلی دس کلو واٹ کی جلاتے ہیں۔اسکے نتیجہ میں سسٹم پر بوجھ پڑنا فطری عمل ہے اور نتیجہ کے طور پر کٹوتی اور کم وولٹیج مقدر ٹھہرتی ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بجلی بحران کیلئے خود محکمہ بجلی بھی کم ذمہ دار نہیںہے۔جہاں تک بجلی کے ترسیلی نظام کا تعلق ہے تو یہ حقیقت بھی کسی سے چھپی نہیں ہے کہ بجلی کی ترسیل کے دوران بوسیدہ اور ناقص ترسیلی نظام کی وجہ سے اس وقت بھی55فیصد سے زائد بجلی ضائع ہورہی ہے۔ایسے میں بجلی خسارے اور بجلی بحران کیلئے اکیلے صارفین کو ذمہ دار ٹھہرانا جائز نہیں ہے۔ صارفین پر الزام لگانے کی بجائے محکمہ بجلی کے حکام کو چاہئے کہ وہ اپنے محکمہ کابھی مکمل پوسٹ مارٹم کریں۔اس ضمن میں جہاں محکمہ میں موجود افرادی قوت کو جوابدہ بنانا ناگزیر بن چکا ہے وہیں محکمہ کی مشینری اور ترسیلی نظام کو اپ گریڈ کرنا ضروری ہے۔بلاشبہ بجلی کے شعبہ کو اپ گریڈ کیاجارہا ہے تاہم رفتار غیر اطمینان بخش ہے اور جب تک صد فیصد میٹرنگ کرکے کنڈی کلچر کو ختم نہیں کیاجاتا ہے ،اُس وقت شاید ہی کوئی سدھار آجائے گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ بجلی ڈھانچے کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرے اور اپنے عملہ کو جوابدہ بنائے ۔اس کے نتیجہ میںزمینی سطح پر بجلی کے سپلائی نظام میں خودبخود سدھار آجائے گا اور صارفین کو معیاری بجلی کی فراہمی کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوجائے گا۔