تازہ ترین

حید پورہ انکائونٹر میں ہلاک عامر ماگرے کی بہن کا غصہ پھوٹ پڑا

ہمارے صبر کا امتحان لیا جارہا ہے، انتظامیہ کسی غلط فہمی میں ہے کہ ہم خاموش بیٹھیں گے

تاریخ    22 نومبر 2021 (48 : 12 AM)   


زاہد بشیر
گول//حید پورہ انکائونٹر میں ہلاک عامر ماگرے کی بہن کا غصہ پھوٹ پڑاہے، اس کا کہنا ہے کہ حکام ہمارے صبر کا امتحان لیکر کسی بڑی غلط فہمی کا شکار ہے ۔ معلوم رہے کہ حیدر پورہ انکائونٹر میں کئی موڑ دیکھنے کو ملے، پولیس اور فورسز نے 15نومبر کو دعویٰ کیا کہ حیدرپورہ میں ایک غیر مقامی جنگجو اور تین   سہولت کاروں کو مار گرایا، لیکن چند ہی گھنٹوںمیں جب یہ خبر منظر عام پر آگئی تو مارے گئے تین افراد کے لواحقین نے پولیس کے دعوئوں کو مکمل طور سے مسترد کردیا اور احتجاج کیا ،کہ مہلوکین کے نعشوں کو فوری طور ہمارے حوالے کیا جائے دو روز لگاتار احتجاج کے بعد انکائونٹر میں مارے گئے دو افراد مدثرگل اور محمد الطاف کی نعشوں کو لواحقین کے حوالے کیا گیا، لیکن محمد عامر ماگرے کی جسد خاکی لواحقین کو ابھی تک بھی نہیں سونپی گئی ۔ قابل ِ غور ہے کہ عامر ماگرے کے لواحقین کے علاوہ جموں و کشمیر کے سیاسی و سماجی شخصیات لگاتار یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ عامر ماگرے کی نعش کو بھی لواحقین کے حوالے کیا جائے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز عامر ماگرے کی بہن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’حکومت ِ وقت ہمارے صبر کا امتحان لے رہی ہے ، انہوں نے کہا انتظامیہ ہمارے پرامن نظریئے کو ہماری زباں بندی سمجھ کر بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہے ، ہم بھی احتجاج کر سکتے ہیں اور اپنے بھائی کی نعش کو حاصل کرنے کیلئے سڑکوں پر آسکتے ہیں ،لیکن انتظامیہ ہمارے صبر و تحمل کو ہلکے میں لیکر ہماری مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہے۔ عامر کی بہن کا کہنا تھا کہ جس طرح سے دو نعشیں لواحقین کے حوالے کی گئیں اْسی طرح سے ہمارے بھائی کی نعش بھی ہمارے سپرد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ جس بھی طرح سے تحقیقات کرنا چاہتی ہے ہم برابر تعاون فراہم کریں گے اور ہم بھی چاہتے ہیں کہ اِس معاملے کی اچھے سے تحقیقات ہو تا کہ معلوم ہو سکے کہ حقیقت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں اگر یہ پایا گیا کہ عامر واقعی عسکریت سے جڑا تھا تو پھر عامر کو دہشت قرار دینا اس میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا ،اگر عامر کے ملی ٹینٹ ہونے کا ایک بھی ثبوت فوج اور پولیس دے گی، تو ہم یہ ماننے کیلئے تیار ہیں کہ پولیس نے جو کچھ عامر کے ساتھ کیا وہ اْس کا حقدار تھا لیکن ہم یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ اگر کسی پولیس آفیسر نے اپنی ترقی کیلئے یہ فیک انکائونٹر انجام دیا ہے، تو ہم اْس آفیسر یا اہلکار کو سزا دینے کیلئے کوئی بھی جنگ لڑیں گے۔اِس دوران عامر کے والد سے جب میڈیا نمائندوں نے پوچھا کہ عسکریت کے خلاف جو جنگ آپ نے لڑی تھی کیا آ پکو لگتا ہے کہ آپ اْس جنگ میں کامیاب ہوئے اِس سوال کے جواب میں عامر کے والد کا کہنا تھا ’ میں نے ملک کی سلامتی کیلئے مکمل وفاداری سے عسکریت کے خلاف جو جنگ لڑی ہے میں اْس میں کامیاب ہوا ہوں، لیکن افسوس کہ ہمارے ملک میں عسکریت کے خلاف جنگ لڑنے والوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ اْنہی کو دہشت گردی کا لیبل لگایا جاتا ہے۔