تازہ ترین

خستہ حال پونچھ قلعہ حکام اور عوام کی بے حسی پر نوحہ کناں

۔308سال پرانی میراث تباہی کے دہانے پر،فوری اقدامات نہ کئے گئے تو قلعہ قصہ پارینہ بن کر رہ جائے گا

تاریخ    21 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


حسین محتشم
پونچھ// سرحدی ضلع پونچھ کے صدر مقام پر صدیوں پرانا پونچھ قلعہ جو ایک زمانے میں آباد تھا، ایک شاندار محل تھا، جو آج بھی پونچھ میں قدیم طرز تعمیر کا نایاب نمونہ سمجھا جاتا ہے، سرکاری غفلت کی وجہ سے خستہ حالی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ 2005 کے زلزلے میں اس قلعے کے کچھ حصوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا تھا۔ زلزلے سے قبل یہ تاریخی قلعہ پونچھ کا سیکرٹریٹ بن گیا تھا جس میں متعدد سرکاری دفاتر قائم تھے۔ اگرچہ زلزلے کے بعد اکثر دفاتر کو وہاں سے منتقل کر دیا گیا تھا لیکن تحصیلدار حویلی کا دفتر اور محافظ خانہ قلعہ کے اندر واقع ہے کچھ روز پہلے اس قلعہ میں نائب تحصیلدار کا دفتر دوبارہ منتقل کیاگیا ۔اگر اس تاریخی قلعہ کے ارد گرد نظر دوڑائی جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ شہریوں کی طرف سے تجاوزات کئے گئے ہیں۔تاریخی قلعہ کے احاطے کے ساتھ ساتھ اس کے اطراف میں ممنوعہ جگہوں پر دکانوں اور نجی عمارتوں کے نئے ڈھانچے سامنے دِکھائی دیتے ہیں، اس کے علاوہ قلعے کی دیواروں اور فرش پر پودے ا±گ آئے ہیں۔ سرحدی ضلع پونچھ کی ایک سماجی کارکن روزیہ کاظمی نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پونچھ کے تاریخ ساز آثار قدیمہ کے نایاب نمونہ پونچھ قلعے کی خستہ حالی کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اس تاریخی قلعہ نے وقت کے بڑے تھپیڑے کھائے ہیں لیکن اپنی شان کو ہمیشہ قائم رکھا ۔انھوں نے کہا کہ اس قلعے کی بنیاد راجہ عبدالرزاق خان نے 1713ءمیں رکھی تھی تاہم اصل تعمیراتی کام ان کے بیٹے راجہ رستم خان نے شروع کیا تھا۔انھوں نے بتایا کہ پونچھ کا نام پہلے ان ہی کے نام پر رستم نگر رکھا گیا تھا۔ اصل میںکو قصبے کی مضبوطی اور شاہی محل کی رہائش کے لیے ایک جامع ڈھانچے کے طور پر قلعہ کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔انھوں نے بتایا کہ یہ قلعہ مغل، ڈوگرہ اور سکھ حکمرانوں کی ثقافتی اور تعمیراتی اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، مغل طرز تعمیر کا غلبہ ہے۔ قلعہ میں ایک مندر، ایک گرودوارہ اور ایک مسجد ہے۔ 2005 کے زلزلے میں مسجد کو نقصان پہنچا تھا۔ مندر اور گرودوارہ اب بھی ڈھانچے کے جنوبی حصے میں موجود ہیں۔انھوں نے بتایا کہ اس قلعے میں آٹھ عمارتوں اور پانچ صحنوں میں کل 89 کمرے ہیں۔ 1819-1846 میں سکھ حکمرانی کے دوران، مرکزی بلاک کو شامل کیا گیا جو سکھ تعمیراتی طرز کا الگ اثر رکھتا ہے۔ لیکن اس کا سہرا راجہ موتی سنگھ کو جاتا ہے جنہوں نے قلعے کو ایک نئی شکل دینے میں بہت دلچسپی لی اور تقریباً چار دہائیوں تک اس کی تزئین و آرائش جاری رکھی، یہاں تک کہ اس دوران قلعے کے سامنے والے بلاک کو ڈیزائن کرنے کے لیے ایک یورپی معمار کی خدمات حاصل کی گئی ۔انھوں نے بتایا کہ راجہ بلدیو سنگھ کے دور حکومت میں محل کو موتی محل میں منتقل کرنے کے بعد قلعہ کی عمارت کے احاطے کو مملکت کے سیکرٹریٹ میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔یہ تاریخی قلعہ 21 کنال کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اصل تعمیر شدہ رقبہ آٹھ کنال ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ چند سال قبل پونچھ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے تین کروڑ کی لاگت سے کام کیا گیا تھا لیکن باہر کے کچھ حصوں کا نقشہ بدل گیا ہے لیکن اندر کے حالات اب بھی خستہ ہیں جو کسی بھی وقت بدحالی میں بدل سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ پونچھ اپنی تاریخی اہمیت، اس کے تاریخی محلات، قلعوں اور ندی نالوں اور دلکش قدرتی حسن سے زیادہ لائن آف کنٹرول کے اس پار سے فائرنگ کی وجہ سے خبروں میں رہتا رہاہے۔ پونچھ قلعہ جو یہاں کی سیاحت کو فروغ دینے میں سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے وہ خستہ حالی کا شکار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حالات ایسے ہیں کہ یہ قلعہ کچھ عرصہ بعد تاریخ کی کتابوں میں ہی ملے گا۔انھوں نے کہاایک طرف مرکزی سرکار اور جموں کشمیر کی انتظامیہ بڑے بڑے دعوے کر رہی ہیں کہ ہم سیاحت، یادگاروں اور ورثے کو فروغ دینے کے لیے بڑے قدم اٹھا رہے ہیں۔ لیکن زمینی سطح پر پونچھ میں ایسا کچھ نہیں دیکھا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ قلعے کا نیا تعمیراتی کام شرمناک رہا ہے جس سے صدیوں پرانے خوبصورت اور دلکش مناظر بھی معدوم ہو رہے ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر آثار قدیمہ اور عجائب گھر کی جانب سے 2011 میں ایک حکم زیر نمبرDAMA-366-68/AD-7 جاری کیا گیا تھاجس میں واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ ایک ٹیم بنائی جائے گی جو پونچھ قلعہ اور اس کے اطراف کا معائنہ کرے گی اور تفصیلات جمع کرانے کے بعد فوری کارروائی کی جائے گی،لیکن 10 سال گزرنے کے بعد بھی یہ قلعہ صرف احکامات اور فائلوں تک ہی محدود رہا۔ پونچھ کی سول سوسائٹی، غیر سرکاری تنظیموں اور شہر کے منتخب نمائندے بار ہا اس قلعہ کی مرمت کر کے اس قلعہ کو اپنی اصل شکل میںلانے کی اپیل کرتے رہے ہیں لیکن حکومت اس سے لاتعلق نظر آتی ہے۔