تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    21 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


وقت خود پیچھے رہا دُکھ درد کو آگے کیا
ہم نے بازو کھول کر چپ چاپ بانہوں میں لیا
 
شام کی خوشبو میں تھیں پاگل ہوا کی دھڑکنیں
ہم نے بھی کھڑکی پہ اک جلتا ہوا رکھا دیا
 
شاعری کو آپکے رخسار سے چُھو کر پڑھیں
ہو غزل دلی کی یا پنجاب کا ہو ماہِیا
 
سوئیاں دیوار پر لاکے گھماؤں کس طرف
دیر تک مرنا ہی تھا جو مختصر کیونکر جیا
 
یوں کُھلا رہنے دیا کب دردوغم کا پیرہن
اشک نے ٹانکے پروئے، چاک آہوں نے سِیا
 
رات کا پچھلا پہر تھا ہمنشیں بس اور تم
تشنگی کا زہر سارا جام بھر بھر کر پیا
 
حاصلِ آوارگی شیدؔا ریاضی کی طرح
عشق نے سب کچھ لُٹایا حُسن نے دھوکہ دیا
 
علی شیدؔا
 نجدون نیپورہ اسلام آباد،  
موبائل  نمبر؛9419045087
 
 
دِلوں میں آگ لگانے والے 
وہ ہیں گھروں کوجلانے والے 
کب تک ہم رستہ دیکھیں گے 
کب آئیں گے آنے والے 
لوگ سیاست سے جوجُڑے ہیں
خُون ہیں سب کابہانے والے 
شوق سے مُشکلیں آئیں رہ میں
کہاں ہیں ہم بھگوانے والے 
آپ ہیں کرتے جوروسِتم جو
کیاسوچے لگے زمانے والے 
کام آتے ہیں جوبھی کِسی کے 
احسان ہیں وہ جِتانے والے 
ہم بدلیں گے دُنیاہتاشؔ 
اِنقلاب ہیں لانے والے 
 
پیارے ہتاش 
دور درشن گیٹ لین جانی پورہ جموں
موبائل نمبر؛8493853607
 
 
تمہاری جو مجھ پر ، یہ ترچھی نظر ہے 
اسی سے بہت مجھ کو خوف و خطر ہے 
محبت میں تسلیم خم اپنا سر ہے
محبت میں کیسا، اگر ہے مگر ہے؟
زمانے کے سارے مصائب سہوں میں  
یہ میرا جگر ہے ، یہ میرا جگرہے 
ابھی تک ملی ہے نہ منزل کوئی بھی 
یہ کیسا سفر ہے ، یہ کیسا سفر ہے 
محبت نے تیری دکھائے یہ دن بھی 
محبت میں تیری کوئی دربدر ہے
کہوں کیا ، کہ ہر پل ہی میرے جہاں میں 
زمینوں کے جھگڑے ہیں ، غوغائے زر ہے
کرے رشک  جس پر وہ جنت بھی انجم ؔ
مرا شہر پٹنا حسیں اس قدر ہے
 
فریدہ انجم 
پٹنا سٹی ،بہار
 
 
 
کنکر کی طرح لگنے لگے ہیں گہر مجھے
کب تک فریب دےگی خوداپنی نظر مجھے
 
تلوؤں کا خون مانگ رہی ہے سفر کی پیاس
لایا ہے کس مقام پہ شوق سفر مجھے
 
سب کچھ بدل گیا ہے یہاں آپ کے بغیر
جنگل سا لگ رہا ہے خود اپنا یہ گھر مجھے
 
ہمسایہ میرا خوش ہے بہت کاٹ کر اُسے
دینے لگا تھا چھاؤں جو ننھا شجر مجھے
 
ساحلؔ میں جس غریب پہ کھاتا رہا ترس
دھنوان ہوگیا ہے وہی لُوٹ کر مجھے
 
مراد ساحلؔ
دوحہ، قطر 
موبائل نمبر؛97431484997
 
 
روشنی کم ہے کہانی بھی بہت مشکل ہے
اس پہ پیغام رسانی بھی بہت مشکل ہے
یاد رہتا ہی نہیں ہم کو یہ منتر غم کا
یہ وظیفہ تو زبانی بھی بہت مشکل ہے
ڈھونڈتے کیا ہو بھلا سندھ میں تم جام و سبو
تھر کے صحرا میں تو پانی بھی بہت مشکل ہے
جتنی سادہ نظر آتی ہو بھلے رسمِ وفا
چھوڑنا دور، نبھانی بھی بہت مشکل ہے
آپ کے وقت میں ہوتا تھا بڑھاپا مشکل
دورِ حاضر میں جوانی بھی بہت مشکل ہے
اس سے یہ بات چھپانی بھی ہے مشکل تابشؔ
اس کو یہ بات بتانی بھی بہت مشکل ہے
 
جعفر تابشؔ
 مغل میدان، کشتواڑ
موبائل نمبر؛ 8492956626
 
 
اک مجسمہ ہوں میں پتھر کا جگر پتھر کا ہے
اہلِ مقتل کو بتا دو میرا سر پتھر کا ہے
ہائے میرے قافلے والو تمہاری خیر ہو
کانچ کا رختِ سفر ہے اور سفر پتھر کا ہے
اینٹ سے اینٹیں بجا دینگے تری کہتے ہیں وہ
کوئی اُن سے جا کے کہہ دے میرا گھر پتھر کا ہے
وہ خدا کو ڈھونڈتا تھا اور بولامِل گیا
پر ہمارا کچھ نہیں لگتا اگر پتھر کا ہے
ہم پلٹ کر اس کے در سے اُس کے در پر جا لگے
ایک تو یہ سنگدل اوپر سے در پتھر کا ہے
ہم تو پتھر کے زمانے سے نکل کر آ گئے
کچھ دلوں پر اب تلک لیکن اَثر پتھر کا ہے
کس لئے چلّائوں چیخوں کس لئے نوحہ کروں
جب مجھے معلوم ہے سب کا جگر پتھر کا ہے
 
سید وقار دانش ؔ
سرفراو کنگن گاندربل،موبائل نمبر؛6006392574 
 
 
شبِ غم کا دیواں کُھلا آ رہا ہے
 رخِ صبح سے انجاں لکھا جا رہا ہے 
 
دلوں کے وہ دالاں مکینوں نے توڑے
درِ صبح کا ایماں ہِلا جا رہا ہے
 
صبحِ نو کا بینر بدن کو ہے زیبا؟ 
کفن طولِ قوماں سِلا جا رہا ہے
 
اَلم اور کیا ہو کہ مدہوش ساقی
قضا رنگِ عرفاں پِلا جا رہا ہے
 
 مرثیہ خوانی کا یہ نغمہ ہمارا
حیاتی ہے بے جاں چلا جا رہا ہے
 
شہزادہ فیصل
ڈوگری پورہ پلوامہ
موبائل نمبر؛8492838989
 
 

تازہ ترین