تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    19 نومبر 2021 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیر احمد قاسمی

مسجد سے باہر لائوڑ سپیکر کا استعمال ازان کے لئے درست

سوال: آپ نے کشمیر عظمیٰ کے اس کالم میں  لائوڈ سپیکر کے غیر ضروری استعمال کے بارے میں کئی بار ضروری وضاحت فرمائی ہے۔ مگ راس کے باوجود بہت سارے علاقوں میں، جس میں ہمارا کولگام بھی شامل ہے، لائوڈ سپیکر کو بہت زیادہ، اہمیت دی جاتی ہے۔ اگر مسجد کے اندر صرف چند نمازی ہی موجود ہوں تو بھی مسجد کے باہر کا سپیکر آن رکھا جاتا ہے ۔اس بارے میں اگر کوئی خدا کا بندہ اس بارے میں پوچھتا بھی ہے تو چند حضرات ، جو اس پر مصر ہیں، ان لوگوں کو دوسری ہی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی کہ اگر مسجد میں حاجی صاحبان کو حج سے متعلق جانکاری دی جاتی ہے تو باہر کے سپیکر تیز آواز سے چلانے کا کیا مطلب یا اسی طرح عبادات کے وقت سپیکر کے استعمال کا کیا مقصد ہے؟
بشیر احمد کھانڈے 
جواب :اسلام ہر اس عمل کو سختی سے روک دیتا ہے جو دوسروں کوضرور پہنچائے۔ عبادت اہل ایمان پر فرض بھی ہے اور اس کو اد اکرنا اُن کا حق بھی ہے مگر اس حق کو ادا کرتے ہوئے دوسروں کو اذیت پہنچانا ہر گز درست نہیں ہے۔اسی طرح دین کا پیغام سننا و سنانا(وعظ و خطاب) اہل ایمان کا حق ہے مگر اس حق کو پانے کیلئے دوسروں کو اذیت پہونچانا ہر گز درست نہیں ہے۔
اس اصول کی بنا پر مساجد کے لاوڈ سپیکر کیلئے شرعی اصول یہ ہے کہ مسجد کے باہر کا مائک صرف اذان کیلئے استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ اس کے علاوہ نماز ، وعظ ، درود ، نعت ، اوراد، وظائف وغیرہ کیلئے مسجد کا با ہرکا مائک ہر گز استعمال نہیں کرسکتے۔ اس غلطی کا ارتکاب صرف یہاں وادی کشمیر میں ہوتا ہے ۔ ورنہ ساری دنیا کے مسلمانوں کے یہاں یہ عمل تعجب خیز ہے کہ اس طرح مائک کا استعمال ہو۔ اسی وجہ سے پورے عالم میں چاہئے مسلم ممالک ہو یا غیرمسلم ممالک کہیں بھی یہ طریقہ نہیں ہے۔ اس سلسلے میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا شریعت اسلامیہ نے ہم کو اس کا حکم دیا ہے کہ ہم اپنی عبادت پورے محلے والوں کو ضرور دکھائیں یا سنائیں ۔ ظاہر ہے جو عمل ریا کاری کے زمرے میں آسکتا ہے ۔ اُس کا حکم شریعت کیسے کرسکتی ہے۔ عبادت کا مقصد اللہ کو راضی کرنا اپنے نفس کی تطہیر و تزکیہ اور اجرو ثواب حاصل کرنا ہے اور اس میں  لوگوں کو سنانے کا کوئی مقصد ہی نہیں ہے اسی طرح وعظ چاہئے جمعہ کا ہو یا مخصوص راتوں میں یا جلسوں میں ہوں، جو لوگ اپنے گھروں، دکانوں دفتروں اور کھیتوں باغوں میں ہوں اور وہ سننا ہی نہیں چاہتے اُن تک آواز پہونچانے کا شریعت نے ہم کو کوئی بھی حکم نہیں دیا ۔اور اس کا ہرگز کوئی فائدہ بھی نہیں ہوتا۔آج تک ایک شخص بھی ایسا دریافت نہیں ہو پایا جو یہ کہے میں اپنے گھر یا دکان پر بیٹھ کر بڑے شوق سے مسجد کا وعظ سنتا ، سمجھتا اور پھر اُن باتوں پر عمل کرتا ہوں۔
مائک کا استعمال ساری دنیا کے انسان اپنے اپنے کاموں کیلئے کرتے ہیں مسلمان بھی اپنی اپنی ضرورت کے لئے اس کا استعمال کرتے ہیں۔ اگر اسلام کا قانون یہ ہو کہ نماز،قرات، تلاوت ، وعظ ، تقریر ، نعت و ظائف اور کلمات اس طرح مائکوں پر ادا کئے جائیںکہ پورے محلوں اور گھروں تک آواز پہونچے تو پھر قانون ساری دنیا کے مسلمانوں کیلئے ہوگا ۔ اور پھر یہ کسی شرعی کتاب میں اپنی تمام تفصیلات، شرائط اور اصول و آداب کے ساتھ درج بھی ہوگا۔ اور ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ نہیں ہے ۔لہٰذا مائک کایہ استعمال سراسرغلط طرز عمل ہے ۔ بس اصول یہ ہے کہ مسجد کے باہر کا مائک اذان کیلئے اور مسجد کے اندر کا مائیک نماز اور وعظ کیلئے ہے نماز اور وعظ کی آواز مسجد سے باہر لانا ریا بھی ہے اور باہر والوں پر ظلم بھی ہے۔

مشترکہ خاندان میں ملازم کی تنخواہ ، جی پی فنڈ اور پنشن کے حقوق کا مسئلہ

 سوال :۔میں ایک مُلازم ہوں اور ہر ایک او ر بھائی ہے ہم دونوں بچپن سے اکھٹے رہ رہے ہیں میرا بھائی تجارت کرتا ہے۔ میری تنخواہ اور میرے بھائی کی آمدنی ایک ہی جمع ہوجاتی ہے اور اسی طرح آج تک گھر کا نظام چلتا رہا اور گھر کے اخراجات کے علاوہ دیگر جائیداد بھی بنالی۔ اب سبکدوشی (Retirement) کا زمانہ قریب ہے اور G.P Fundوغیرہ ملنے والا ہے ۔ اسکے علاوہ بھی میں نے تنخواہ کی رقم سے کچھ رقم بچاکے رکھی ہے ۔ اب میرے بچے مجھے یوں کہتے ہیں کہ آپ کی اس رقم یعنی G.P Fundاور تنخواہ سے بچائی ہوئی رقم میں سے تمہارے بھائی کا کوئی حصہ نہیں ہے۔میرے بچے مجھے کسی حد تک صحیح مشورہ دے رہے ہیں ۔ رہبری فرماویں اور پنشن کی رقم کے بارے میں کیا حکم ہے؟
محتاج دعاؤ ہدایت ایک قاری
جواب :۔دو یا زیادہ بھائی ایک ساتھ رہائش پذیر ہوںتو اس کو کشمیر کے عرف میں مشترکہ دیگران کہتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہوتے ہیں ۔چند بھائی ایک ہی گھر میں ایک ہی چولہے میں باہمی اس طرح منسلک ہوں جیسے میاں بیوی ایک ہی چولہے کے ساتھ وابستہ ہوں۔ پھر بھائیوں کی آمدنی کا ذریعہ کبھی الگ الگ ہوتا ہے جیسے ایک ملازمت پیشہ ہے اور دوسرا تجارت پیشہ ۔ اور کبھی ذریعہ آمدنی بھی ایک ہی ہوتا ہے جیسے ایک ہی دکان میں متعدد بھائی محنت کرتے ہیں ۔
بہر حال جب ایک بھائی ملازم ہو اور دوسرا تاجر تو ملازم کا جی پی فنڈ اور پنشن صرف اس بھائی کا قرار پاتا ہے جس نے ملازمت کی ہے اور وجہ یہ ہے کہ دراصل نوکری کرتے ہوئے جس نے ڈیوٹی دی تنخواہ وغیرہ کے نام پر جو کچھ اسے ملے گا وہی اسی کا حق دار ہے نہ اس کے باپ بیٹے کا نہ اس کے کسی بھائی بہن کا ۔ جتنا اس نے مشترکہ گھر میں دے دیا وہ تو مشترکہ قرار پائے گا۔ اور جو اس نے اپنے لئے مخصوص رکھا وہ اس کا قرار پائے گا۔جی پی فنڈ اسی میں آتا ہے یہ اس کا مخصوص ہوتا ہے۔ اور پنشن بھی ۔ اس مسئلہ میں عموماً بھائیوں کے درمیان سخت نزاعات اور حق تلفیاں ہوتی ہیں۔ اس لئے شریعت کا حکم یہ ہے نزاع شروع ہونے سے پہلے بلکہ آغاز میں ہی تمام معاملات طے کرکے رکھیں یعنی یا تو تمام بھائی یہ طے کرکے رکھیں کہ جی پی فنڈ سب بھائیوں کا حق رہے گا۔ تاکہ بعد میں ملازمت کرنے والا اس طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی نہ کرے۔ یا یہ طے کرکے رکھیں کہ ملازم پیشہ ہر ماہ کی کل تنخواہ یا تنخواہ کا کچھ حصہ مشترکہ گھر کو دے گا اور بقیہ اس کا اپنا رہے گا ۔ تاکہ بعد میں اس کے جی پی فنڈ میں دوسرے بھائی شریک ہونے کے دعویدار نہ بنیں۔ ہمارے معاشرے میں عموماً چونکہ معاملات طے نہیں ہوتے اس لئے نزاع، ظلم، حق تلفی اور ایک دوسرے کا مال غیر شرعی طور پر لینے کے واقعات بکثرت ہوتے ہیں ۔
سوال: خدا کا شکرہے کہ ہماری مسجد شریف ایک آباد مسجد ہے ، کبھی کبھار امام صاحب کسی مجبوری کے باعث نماز کے وقت تشریف لانے سے قاصر رہتے ہیں۔ ایک مقتدد جو باقی حضرات کے مقابلے میں شریعت سے باخبر ہیں لیکن جسمانی صاحت سے قدرے معذور ہیں۔کیا ایسے شخص کا امامت کا فرض انجام دینا درست ہے ؟
عبدالمجید ڈار 

معمولی جسمانی معذوری منصب امامت میں حارج نہیں

جواب :۔جسمانی طور پر کسی نقص میں مبتلا شخص، مثلاً پولیو زدہ ہو اگر امامت کے اوصاف سے متصف ہے تو وہ یقینا امامت کرسکتا ہے معمولی جسمانی معذوری ہر گز شرعی طور پر ایسا عارض نہیں ہے کہ ایسا شخص امامت کا اہل قرار نہ پائے۔
سوال:۔ عام طور پر یہ تاثر دیا جات اہے کہ اگر کوئی شخص جنابت میں غسل شرعی کے بغیر اس جہاں سے رخصت ہوا ہو ۔ اس کے لئے دو بار غسل دینا ضروری ہے اور اکثر طور اس کی جناب کے بارے میں علم بھی نہیں ہو تو اس صورت میں کیا کیا جائے؟
عبدالمجید ڈار 

جُنبی کی وفات پر غسل کا مسئلہ 

(۲) اگر بالغرض شوہر پر غسل واجب ہو چکا ہو اور اسی حالت میں اس کی وفات ہو جائے تو اس کا ایک ہی غسل کافی ہے ۔یہ کہنا غلط ہے کہ ایسے شخص کو دومرتبہ غسل دیا جائے موت کے بعد جنابت کا علم ہویا نہ ہو دونوں صورتوں میں ایک ہی غسل جب شرعاً کافی ہے تو پھر یہ سوال ہی غلط ہے کہ دوبارہ غسل دیا جائے یا نہیں ۔

شادی بیاہ پرپٹاخوں کا استعمال غیرشرعی

سوال: آج کل شہر و دیہات میں شادیوں کا سیزن جاری ہے۔ ہماری شادی بیاہ کی تقاریب میں جہاں درجنوں بلکہ سینکڑوں خرافات سے کام لیا جاتا ہے وہاں ایک انتہائی سنگین بدعت پٹاخوں کا استعمال ہے۔ شام کو جب دولہا برات لے کر اپنے گھر سے روانہ ہو جاتا ہے تو وہاں پر اور پھر سسرال پہنچ کر پٹاخوں کی ایسی شدید بارش کی جاتی ہے کہ سارا محلہ ہی نہیں بلکہ پورا علاقہ لرز اُٹھتاہے اور اکثر لوگ اسے فائرنگ اور دھماکے سمجھ کر سہم جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں، بزرگوں اور عام لوگوں کو پٹاخے سر کرنے سے جو انتہائی شدید کوفت اور پریشانی لاحق ہوجاتی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔شرعی طور براہ کرم اس معاملے پر روشنی ڈالیں۔
خورشید احمد راتھر
جواب:شادیوں میں پٹاخے  سر کرنا اُن غیر شرعی اور حرام کاموں میں سے ایک سنگین و مجرمانہ کام ہے جو طرح طرح کی خرابیوں کا مجموعہ ہے اورشادیوں میں شوق اور فخر سے کئے جاتے ہیں ۔یہ غیر مسلم اقوام کی رسوم کی نقالی ہے  اور وہی مشابہت ہے جس مشابہت سے مسلمانوں کو اجتناب کرنے کا حکم ہے۔ حدیث میں ارشاد ہے جو مسلمان کسی دوسری قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے(ابو دائود) اس پٹاخے اُڑانے کے عمل میں مال کو ضائع کرنا بھی شامل ہے جبکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو قیل و قال کثرت سوال اور اضاعت مال سے منع کرتا ہے۔(بخاری و مسلم)
پٹاخے سو سو روپے تک کی قیمت کے بھی بلکہ اس سے زیادہ کے بھی ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے ان کو آگ لگا کر دھماکے کی آواز اور چنگاریاں برساتی ہوئی روشنی نکل کر چند لمحوں میں ختم ہوتی ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ تو یہ سراسر غیر شرعی جگہ اپنا پیسہ اڑانا ہے اس لئے بھی یہ حرام ہے پھر جب ان پٹاخوںسے ایسا دھماکہ ہوتا ہے جیسے کہیں فائرنگ ہورہی ہو۔اس سے چھوٹے بڑے سب سہم جاتے ہیں اور جن کو یہ معلوم نہ ہو کہ کہیں آس پاس میں شادی ہورہی ہے وہ سب فکر وتشویش اور پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیںاور کسی کو فکر و پریشانی میں ڈالنا بھی حرام ہے۔اس کی وجہ سے کسی کا سکون غارت ہو جائے، کسی کے آرام میں خلل پڑ جائے،کسی کو ذہنی تکلیف ہو جائے تو اس لئے بھی یہ غیر شرعی اور غیراخلاقی ہے۔
یہ صوتی آلودگی (Noise Pollution)کے اسباب میں بھی داخل ہے اس لئے کسی مہذب معاشرے کے خلاف بھی ۔لہٰذا غیر انسانی طرز عمل ہے۔قرآن کریم میں ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ بری بات کی اونچی آواز کوناپسند کرتا ہے۔یہ عقل اور حقیقت پسندی کے بھی خلاف ہے۔ آخر اس میں کیا معقولیت ہے کہ دولہے کے رخصت ہونے پر دھماکے کئے جائیں اور آتش بازیاں اور وہ بھی اس طرح کہ پورا علاقہ لرز جائے تو اس کا نفع کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ کچھ نہیں اس لئے جو کام دین، اخلاق، عقل اور عام تہذیب انسانی کے خلاف ہے وہ کیسے درست ہوسکتا ہے لہٰذا پٹاخوں اور بنگولوں کا یہ سلسلہ بند کرنا شریعت کا حکم ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭