تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    31 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


آپ کی جوشان ہے 
اُس پہ دِل قُربان ہے 
اُس کی خاطرجان ہے 
جومیرامہمان ہے 
اِن دِنوں ہے بدگُماں
وہ جومیری جان ہے 
سب پہ اِک تنقیدہو
یہ ہُنرآسان ہے 
اُس کودیکھوں کِس طرح
ہرکوئی نگران ہے 
لے رہے ہیں سانس ہم 
آپ کااحسان ہے 
زِندگی پیارے ہتاشؔ
زخموں کا دیوان ہے 
 
پیارے ہتاش 
دور درشن گیٹ لین جانی پورہ جموں
موبائل نمبر؛8493853607
 
 
 
گلوں میں رنگِ حنا کا کوئی نہیں منظر 
فقط فنا ہے، بقا کا کوئی نہیں منظر
مرے چمن  میں ہے زاغوں کا دبدبہ لوگو 
ہے بلبلوں کی اَدا کا کوئی نہیں منظر 
چراغ جلتے ہیں لیکن ہے چار سو ظلمت 
کہیں پہ نور و ضیا کا کوئی نہیں منظر 
گئے وہ دن کہ چمن سیرگاہ تھی اپنی 
گلابِ ہوش رُبا کا کوئی نہیں منظر
ستم شُعار زمانہ بدل نہیں پایا 
جہاں میں درد و دوا کا کوئی نہیں منظر 
جفا میں میرے عدو کی ادا نہیں بدلی 
قبولِ جرم و خطا کا کوئی نہیں منظر
نسیمؔ میرے وطن کو لگی نظر کس کی
یہاں پہ امن و وفا کا کوئی نہیں منظر
 
پروفیسر حمید نسیمؔ رفیع آبادی 
صدر شعبہ اسلامک سٹیڈیز سنٹرل کشمیر یونیورسٹی
موبائل نمبر؛7006437393
 
 
 
تجھے کیا خبر مرا مسئلہ میں بِگڑ گیا سو بِگڑ گیا
کہیں کھو گیا مرا راستہ میں بگڑ گیا سو بگڑ گیا
میں حصار ذات سے بھاگ کر ترے آئینے میں سما گیا
وہیں چھوڑ کر تو چلا گیا میں بگڑ گیا سو بگڑ گیا
یہ نمائشِ دلِ مرگ ہے اسے کھود کے کبھی دیکھنا
بڑا دردمند ہے قہقہہ میں بگڑ گیا سو بگڑ گیا
یہی سوچ کر تو بگاڑ دی میں نے قلب کی کئیں بستیاں
مرا مجھ میں ہے کوئی دوسرا میں بگڑ گیا سو بگڑ گیا
چلو آج عمر کی داستاں میں سمیٹ لوں اسی بات پر
'میں بگڑ کے پھر نہ سنبھل سکا' میں بگڑ گیا سو بگڑ گیا
مرے قلب پر دمِ رخصتی کسی شخص کی کسی بات کا
وہ جو زخم تھا وہ تو بھر گیا میں بگڑ گیا سو بگڑ گیا
 
 شاہیؔ شہباز
وشہ بگ پلوامہ کشمیر،موبائل نمبر؛7889899025
 
 
ایسے منظر دکھائی دیتے ہیں
سوختہ سر دکھائی دیتے ہیں
آئنہ دار ہوں سو چاروں طرف
صرف پتھر دکھائی دیتے ہیں
جل چکا ہے اگر چہ سارا نگر
ایک دو گھر دکھائی  دیتے ہیں
آپ گل دان کہہ رہے ہیں جنہیں
مجھ کو خنجر دکھائی دیتے ہیں
پہلے کاندھوں پہ دو فرشتے تھے
اب وہ سر پر دکھائی دیتے ہیں
ہو چلیں پھر اسی طرف تابشؔ
کچھ کُھلے در دکھائی دیتے ہیں
 
جعفر تابش
مغل میدان، کشتواڑ
موبائل نمبر؛ 8492956626
 
 
ٹوٹ کر پھر سے بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
اس کی دہلیز پہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
 
دیکھ کر آپ کی زر پاشی و ضو افشانی
آپ کے دل میں اُتر جانے کو جی چاہتا ہے
 
وادئ حسن میں جی لگتا نہیں ہے میرا
دوستو اس کے نگر جانے کو جی چاہتا ہے
 
غمِ  جاناں ہے ،غمِ دوراں ہے اور غمِ مرگ
بول! کس غم میں اُتر جانے کو جی چاہتا ہے؟
 
رنج و غم یا خوشی کے پل ہی نہیں بسملؔ جی
اس کے ہمراہ تو مر جانے کو جی چاہتا ہے
 
سید مرتضیٰ بسمل
شانگس اسلام آباد
موبائل نمبر؛6005901367
 
 
کہاں اُن کو اِس کا خیال ہے
میرا دل پریشان حال ہے
 
جواب اِسکا اُنکے پاس نہیں
یہ مری زندگی کا سوال ہے
 
حالت نہیں تھی کبھی بھی ایسی
دل کی میرے جو اِمسال ہے
 
وہ دیکھتے تو نہیںہیں اپنی
مری بے رُخی کا جن کو ملال ہے
 
پڑی ہے سبھی کو یہاں ہے اپنی
صورت ؔکون پُرسانِ حال ہے
 
صورت سنگھ
رام بن، جموں
موبائل نمبر؛9419364549
 
 
مری محبت کو کبھی تو آزمایاہوتا
تم سے رشتہ کیا ہے یہ تو بتایاہوتا
 
غمِ فرقت دے کے زندہ رہتے ہیں کیسے
اے کاش یہ  ہنر مجھے بھی سکھایاہوتا
 
عہد وفا توڑنا تیری  جبلت  میں سہی 
اے کاش میر ا ساتھ تو  نبھایا ہوتا
 
بے وجہ چھوڑکے جانا کوئی ہنر تو نہیں 
کاش تم نے مجھے اک بار تو آزمایا ہوتا
 
رہنے دیا نہ مجھے کسی اور کا تو نے
اُجاڑنے سے پہلے مجھے تم نے تو بسایا ہوتا
 
پرویز یوسفؔ
محلہ قاضی حمام بارہمولہ 
موبائل نمبر؛9469447331