تازہ ترین

کانگریس تاریخ کے دوراہے پر

فکروادراک

تاریخ    18 اکتوبر 2021 (00 : 12 AM)   


ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد
 کانگریس کو ہندوستان کی سب سے قدیم اور بڑی پارٹی (Grand Old party ) ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہندوستان کی تحریکِ آزادی کو کا میابی سے ہم کنار کرانے اور ملک کو انگریزوں کی طوقِ غلامی سے نکالنے میں کانگریس کا نا قابلِ فراموش رول رہا۔ آزادیِ وطن کے بعد ہندوستانیوں نے کانگریس کے ہاتھوں میں اقتدار سونپا اور کئی عشروں تک ملک کانگریس کے زیرِ اقتدار رہا۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کانگریس کے قدآور قائدین نے ملک کی ترقی اور اس کے استحکام کے لئے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ لیکن گزرتے وقت کے ساتھ کانگریس کی قیادت اپنے دیرینہ اصولوں اور نظریات سے انحراف کر تی چلی گئی جس کے نتیجہ میں کانگریس نے جن عناصر کو دودھ پلا کر پالا تھا، آج وہی عناصر ملک کو کانگریس سے خلاصی کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ کانگریس قائدین کی اس تاریخی غلطی یا بھول نے اب کانگریس کو ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے کہ اگر کانگریس نوشتہِ دیوار پڑھتے ہوئے اپنی سابقہ پالیسیوں پر نظر ثانی اور اپنی اصلاح کی فِکر نہ کرے تو 2024کے عام انتخابات کے بعد کانگریس پارٹی ایک قصہ پارینہ بن کر رہ جائے گی۔ اُ س نازک وقت کے آ نے سے پہلے پارٹی سے وابستہ سارے کیڈر کو جن میں اعلیٰ قائدین سے لے کر عام ورکرس شامل ہیں ، اپنا محاسبہ کر نا چا ہئے۔ یہ کہا جارہا ہے کانگریس اب صرف قائدین کی پارٹی بن کر رہ گئی ہے ،اس میں اب کوئی ورکر نہیں ہے۔ ہر شخص عہدوں کی دوڑ میں لگ جائے تو ایسی ہی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے۔کانگریس کا زوال جہاں اس پارٹی سے جڑے لوگوں کے لئے صدمہ کا باعث ہوگا وہیں ملک کی جمہوریت کے لئے یہ ایک بہت بڑا نقصان کا سبب بنے گا۔آج اگرچہ بُری حالت میں بھی مرکز اور ملک کی بیشتر ریاستوں میں کانگریس اقتدار سے بے دخل کر دی گئی ہے، پھر بھی ملک کے بہت سے علاقوں میں کانگریس کی جڑیں مضبوط ہیں۔ ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اس کے نظریات سے اتفاق رکھتا ہے۔ ان مثبت پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے کانگریس قیادت اپنے اصولوں پر واپس آجاتی ہے اور اپنے تنظیمی ڈھانچہ کو مضبوط کر نے میں کا میاب ہوتی ہے تو عین ممکن ہے کہ کانگریس کے شاندار ماضی کا احیاء نو ہو سکتا ہے۔ اس وقت ملک میں جن طاقتوں کے ہاتھوں میں اقتدار ہے ان کے عزائم ملک کے دستور اور قانون سے کوئی مناسب مطابقت نہیں رکھتےبلکہ ان سے تو ملک میںجمہوریت کا قلع قمع ہونے کی صورت نظر آرہی ہے ،جس کے نتیجہ میںجہاں ملک کے بہت سارے طبقوں کے لئے سکون اور اطمینان کے ساتھ اپنے وطن میں رہنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ ملک کے دستور کو بدل کر "منو سمرتی"کا قانون نافذ کر نے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ دستوری اداروں پر حکومت کی گرفت مضبوط ہو تی جارہی ہے۔ شہریوں کی آزادی پر پہرے بیٹھادئے جا رہے ہیں۔ حکومت سے سوال کرنا ملک سے غداری مانا جا رہا ہے۔ ایسے سنگین حالات میں سیکولر پارٹیوں کے درمیان سر پھٹول، اُن طاقتوں کے لئے آکسیجن ثابت ہوگا۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ کانگریس کے بشمول سب ہی سیکولر پارٹیوں کو اپنی آپسی چپقلش سے باہر نکل کر ملک، قوم ، دستور اور ملک کے سماجی تانے بانے کی حفاظت کے لئے آ گے آ نا ہوگا۔ ورنہ تاریخ ان سیکولر پارٹیوں کو معا ف نہیں کر ے گی جو ایسے نازک وقت بھی اپنے سیاسی مفادات سے اوپراٹھ کر نہیںسوچتے ہیں،اس میں خاص طور پر کانگریس کے لئے کلیدی کردار ادا کرنا لازمی ہو گا۔       
  اس وقت کانگریس کو جو چیلنجز درپیش ہیں ان سے نبردآزما ہونے میں پارٹی کامیاب ہوجا تی ہے تو آگے کے مسائل حل کرنے میں کوئی زیادہ دشواری نہیں ہوگی۔ کانگریس کے سامنے اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ہندتوا کے برعکس کس نظریہ پر قائم رہتی ہے۔ اگر وہ سیاسی طور پر بی جے پی  پر سبقت لینا چاہتی ہے تو اسے ہندتوا کے مقا بلے میں جمہوری اصولوں اور سیکولر نظریات پر اپنی ثابت قدمی دکھانی ہوگی۔ محض دکھاوے سے اب کام چلنے والا نہیں ہے۔ کانگریس نے اپنے اعلیٰ اصولوں سے سمجھوتہ کرلیا اور ووٹوں کی سیاست کے خاطر کانگریسی قائدین نے "نرم ہندتوا"کی پالیسی اختیار کرلی ہے ۔ کانگریس کے اس "یو ٹرن"نے اُس کے روایتی بہی خواہوں کو بھی کانگریس سے دور کردیا ہے۔ دلت ایک زمانے تک کانگریس کے ووٹ بینک رہے لیکن اب مایاوتی اور سابق میں آ نجہانی رام ولاس پاسوان ، دلتوں کے مسیحا بن کر ابھرے۔ ہندوؤں کے اعلیٰ ذات کے طبقے کانگریس کے سب سے بڑے حما یتی رہے۔ کانگریس کی قیادت برہمنوں کے ہاتھوں میں کئی برسوں تک رہی۔ پنڈت جواہر لال نہرو سے لے کر پی وی نر سمہاراؤ تک وزرائے اعظم برہمن طبقہ کے رہے۔ کئی ریاستوں کے چیف منسٹر کانگریس کے دور میں ہرہمن ہی رہے۔ لیکن اب ہندوؤں کے سارے اعلیٰ طبقے بی جے پی کے ساتھ ہو چکے ہیں۔ دیگر کمزور طبقات اور ملک کی اقلیتیں بھی کانگریس کے گُن گاتی تھیں۔ لیکن "نرم ہندتوا "کی پالیسی نے کانگریس کو ان طبقوں سے بھی دور کردیا ہے۔ کانگریس ہندو اکثریتی ووٹوں کی خاطر اپنے نظریہ سے ہٹ توگئی لیکن وہ ملک کے کسی طبقہ کا اعتماد حاصل نہ کر سکی۔ اگر وہ ہندتوا کے مقابلے میں جمہوری اور سیکولر نظریات پر کوئی سمجھوتہ نہ کرتی تو آج کانگریس کو یہ بُرے دن دیکھنے نہ پڑتے۔ 2014اور 2019کی عبرتناک شکست کے بعد اب کم از کم کانگریس قیادت کو ایسی بھول نہیں کر نی چاہئے۔ اب اگر وہ اپنا محاسبہ کر تے ہوئے ہندتوا کے خلاف ایک چٹّان بن کر کھڑی ہوتی ہے تو اسے سیکولر اور جمہوریت پر ایقان رکھنے والوں کی بھر پور تائید مل سکتی ہے۔ ملک کے دیگر طبقے بھی پھر سے کانگریس کو دوبارہ اقتدار پر لانے کے بارے میں کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے پہلے کانگریس قیادت کو پوری دیانتداری کے ساتھ ملک اور قوم کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی حکمتِ عملی طے کر نی ہو گی۔ کانگریس کے لئے دوسرا بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی تنظیمی ہیت کو درست کرے۔ اس وقت درونِ خانہ جو ہنگامہ بپا ہے، اس پر پارٹی کو جلد سے جلد قابو پانا ہو گا۔ یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ ملک کی سب سے بڑی اور قدیم پارٹی کا اس وقت کوئی مستقل صدر نہیں ہے۔ 2019کے لوک سبھا الیکشن میں کانگریس کی نا قابلِ یقین شکست کے بعد راہل گاندھی نے پارٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیااور ابھی تک کسی کو صدر منتخب نہیں کیا گیاہے۔ دو سال کا عرصہ گزرجانے کے بعد بھی صدر کا عہدہ مخلوعہ ہونا ، کانگریس کے اندرونی انتشار کو ظاہر کر تا ہے۔ راہل گاندھی پارٹی کے صدر نہ ہوتے ہوئے اپنے اختیارات کو استعمال کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں کانگریس میں ایک ناراض گروپ ابھر کر آیا ہے۔ اسے G-23گروپ کا نام دیا گیا ہے۔ اس گروپ کے لیڈروں نے سونیا گاندھی کو چھٹّی لکھ کر اپنی ناراضگی جتائی ہے۔ کانگریس کے سینئر قائدین اس گروپ میں شامل ہیں جن میں اہم نام غلام نبی آزاد اور کپل سبّل کا ہے۔ ان قائدین کو شکایت ہے کہ پارٹی کے تنظیمی انتخابات نہ ہونے سے یہ ساری خراب صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔ اس لئے کانگریس صدر کے انتخاب کے ساتھ کانگریس کی فیصلہ ساز باڈی یعنی کانگریس ورکنگ کمیٹی (CWC ) کے انتخابات بھی جلد سے جلد منعقد ہونےچاہیئے۔ راہل گاندھی اور G-23 گروپ کے درمیان اس وقت کافی ٹھنی ہوئی ہے۔ اس سے بھی پارٹی بحران سے دوچار ہورہی ہے۔  
   تا دم تحریر حالات کے اس تناظر میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس16؍ اکتوبر کو منعقد ہونے جا رہا ہے۔ اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں یہ اجلاس کا فی ہنگا مہ خیز ثابت ہوگا۔ اس میں پارٹی صدارت کا مسئلہ دیگر تمام مسائل پر چھایا رہے گا۔ پارٹی کے 23سینئر قائدین جنہیں ناراض گروپ کا نام بھی دیا جا رہا ہے وہ ہر حال میں کانگریس کے لئے مستقل اور منتخبہ صدر کا مطالبہ کریں گے۔ راہل گاندھی کے پارٹی صدارت سے استعفیٰ کے بعد سے سونیا گاندھی، عبوری صدر کی حیثیت سے یہ عہدہ سنبھالے ہوئی ہیں۔ پارٹی میں دن بہ دن بڑھتے ہوئے مسائل پر قابو پانے کے لئے مستقل صدر کی موجودگی ضروری ہے، آئندہ سال کچھ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔ خاص طور پر پنجاب اسمبلی انتخابات کا مرحلہ کانگریس کے لئے بہت کٹھن ہوگا۔ حالیہ عرصہ میں کانگریس نے پنجاب میں قیادت کو تبدیل کیا ہے۔ کیپٹن امریندر سنگھ کے بجائے چرن جیت چنّی کو پنجاب کا چیف منسٹر بنا یا گیا۔ امریندر سنگھ نے الزام لگایا کہ پارٹی ہائی کمان نے ان کے ساتھ اہانت آمیز سلوک کیا ہے ۔ اس لئے چیف منسٹری سے استعفیٰ کے کچھ ہی دن بعد انہوں نے کانگریس سے بھی استعفیٰ دے دیا۔ ان کے یہ بدلتے ہوئے تیور بتا رہے ہیں کہ وہ آنے والے پنجاب اسمبلی الیکشن میں کانگریس کو بری طرح سے شکست دینے کی پوری کوشش کر یں گے۔پنجاب میں قیادت کی تبدیلی کے بعد چیف منسٹر چرن جیت چنّی اور صدر ریاستی کانگریس نوجوت سنگھ سدھو کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے اور سدھو نے پارٹی صدر کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ کانگریس ہائی کمان ایک مسئلہ کو حل کر نہیں پا رہا ہے کہ دوسرا مسئلہ کھڑا ہوجا رہا ہے۔ دیکھنا ہے کہ راہل گاندھی سمیت ان کے حواری اس بحران کو کیسے حل کر تے ہیں۔ پنجاب چیف منسٹر کا تعلق د لت طبقہ سے ہے اور پنجاب میں دلتوں کو قریب کر نے کے لئے پارٹی نے یہ قدم اٹھایا، لیکن اس کے کیا کچھ نتائج نکلنے والے ہیں اس کا اندازہ ابھی سے نہیں لگایا جا سکتا۔ راہل گاندھی کے سینئر قائدین سے اختلافات بڑھتے ہیں تو پارٹی کا نئی طاقت کے ساتھ ابھرنا ایک مشکل ترین مر حلہ ہوگا۔ 16 ؍ اکتوبر کو ہو نے والی میٹنگ میں G-23گروپ اپنی طاقت کا مظاہرہ کر تے ہوئے راہل گاندھی کی قیادت کو چیلنج کر سکتا ہے۔ کانگریس کے صدر نہ ہوتے ہوئے راہل گاندھی نے جو کچھ اقدامات کئے اس پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ راہل گاندھی کانگریس کے آزمودہ کار لیڈروں سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں نوجوان قائدین کی کانگریس میں شمولیت سے اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ پارٹی نے ان لوگوں کے لئے اپنے دروازے کھول دئے جو ہندوتوا سے لڑنے کی طاقت رکھتے ہیں ۔ سماجی جہدکار کنہیا کمار نے سی پی آئی کو خیرآبادکر کے کانگریس کا کھنڈوا پہن لیا ہے۔ ان کے ساتھ گجرات اسمبلی کے رکن جگنیش میوانی نے بھی نے کانگریس کی باضابطہ رکنیت تکنیکی بنیادپر نہیں لی ہے لیکن وہ کانگریس کا دامن تھام چکے ہیں۔ آ نے والے دنوں میں اور بھی نوجوان کانگریس کے قریب ہو سکتے ہیں۔ اس سے کانگریس کو فائدہ ہو سکتا ہے لیکن سینئر قائدین کو نظر انداز کرنے کا رجحان کانگریس کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ یہ ایک بڑا چیلنج ہے جو اس وقت کانگریس کو درپیش ہے۔ لکھیم پور کھیری کے سانحہ نے جس میں مرکزی وزیر کے بیٹے نے آٹھ افراد کو جن میں چار کسان تھے اپنی گاڑی سے روند دیا ، کانگریس کو میدان میں آ نے کا موقع دیا ہے۔ پرینکا گاندھی اور راہل گاندھی اس سنگین وارادت پر زبردست احتجاج کر رہے ہیں، لیکن کسی ایک واقعہ پر احتجاج سے کانگریس کا احیاء نہیں ہو سکتا ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ کانگریس نیچے سے اوپر تک اپنا جائزہ لے اور جو خرابیاں پارٹی میںپید ہو گئیں ہیں انہیں دور کرے ،تب ہی وہ ملک کی سیاست میں ایک اہم اور تاریخی کردار ادا کر سکتی ہے۔ 
رابطہ۔91+9885210770