تازہ ترین

نظمیں

تاریخ    17 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


ہمت بولنے اب عطا کر بے زبانوں کو

 
اے مجید وانی ساکن احمد نگر سرینگر، 
جو 31اگست2021کو مرحوم و مغفور ہوئے، 
کے غیر مطبوعہ کلام میں سے ایک نظم قارئین کی نذر۔
 
نہ دیںجو حوصلہ کوئی ،بھلا اُن داستانوں کو 
حقیقت میں بدل دے اب ،پرانے اُن فسانوں کو 
کریں پیدا دِلوں میں ولوَلہ جو ہم ضعیفوں کے
سجالے اپنے ہونٹوں پر ،تُوایسے ہی ترانوں کو 
جہاں مجروح ہوتی ہو،خودی تیری اے آدم زاد
پلٹ کر بھی کبھی مت دیکھ ایسے آستانوں کو 
برق رفتار بن کر تُو،حکومت کر ہوائوں پر
قدم اپنے زمین پہ رکھ کے چھُولے آسمانوں کو 
بسیرا کر نہیں سکتا ہے شاہیں سبز پیڑوں پر 
وہ گھر اپنا بنا لیتا ہے پتھریلی چٹانوں کو 
اندھروں میں جلایا ہو،جنہوں نے وہ تیرا مَسکن
تُو بجلی بن کے کردے راکھ اُن کے آشیانوں کو
نکل کر سامنے آجا،تُو غفلت کے اندھیروں سے
تجھے رَستہ دکھانا ہے ،بھٹکتے کاروانوں کو 
ستم سارے زمانوں کے سہے چُپ چاپ ہیں یارب
تُو ہمت بولنے کی اب،عطا کر بے زبانوں کو 
 
 

ہمارے نوجوان

نہ خود کی خبر اور نہ دوسروں کا علم
نہ آنے کی خبر اور نہ جانے کی خبر
نہ سونے کی خبر اور نہ جاگنے کاغم
ان لوگوں کو کہتے ہیں آج کے نوجوان 
پڑھے تو من نہیں لگتا
بے کار بیٹھے ہوتے ہوئے زندگی اچھی نہیں لگتی
سماج کے لئے پریشانی 
گھر کے لئے پریشانی 
اور تو اور خود کے لئے پریشانی 
حال سناتے ہیں تباہی کا۔
پیشنگوئی کرتے ہیں آنے والی مصیبتوں کی
خواب آتے ہیں رسوائی کے
سوچ بھری ہے آفتوں سے
تڑپنا اور تڑپانا ان کے مشغلے ہیں
ان کے لئے جینے کا یہی مقصد ہیں
یہی ہمارے نوجوان ہیں
 
سید مصطفے احمد
حاجی باغ، زینہ کوٹ
 
 

موت دشوار ہے؟

موت دشوار ہے؟
فرار کا راستہ
زندگی سے نہیں
زندہ رہنے سے سہی
 
انکار کی صدا
اپنے انکار کی نہیں
دردِ دشوار کی سہی
وقتِ بیمار کی سہی
اس میں اگر علاج ہوتا
گذرے ہوئے وقت کا
اور طے شدہ بخت کا
 
دردِ دشوار، وقتِ بیمار
اور زندہ رہنے کی سزا
موت سے آساں تو نہیں
 
 
شہزادہ فیصل
ڈوگری پورہ، پلوامہ