تازہ ترین

بے اعتنائی

افسانہ

تاریخ    17 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


طارق شبنم
’’ زبیر ۔۔۔۔۔۔ تم پڑھائی پربالکل دھیان نہیں دے رہے ہو ،اگر تم نے اپنا رویہ نہیں بدلا تو ہم تمہیں امتحان میںہر گز بیٹھنے نہیں دیں گے‘‘ ۔
 پرنسپل نے کلاس کے معائینے کے دوران تحقیر آمیز لہجے میں زبیر کو ٹوکتے ہوئے کہا ۔کلاس میں طلباء و طالبات کے سامنے پرنسپل کے اس تذلیل آمیزرویئے سے زبیر کے چہرے کے جغرافیہ میں ہل چل مچ گئی اور آنکھوں کے تالاب بھر گئے ۔پرنسپل کے جانے کے بعد استاد نے بھی اسے ڈانٹا اور بچوں کو پڑھانے لگا لیکن زبیر،جس کے حساس دل میں کانٹے سے چبھنے لگے، کیا پڑھتا، سخت اُداسی کی حالت میں سوچوں میں غلطاں و پیچاں ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔
’’ زببیر بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔تیرا چہرہ کیوں اُترا ہوا ہے؟‘‘
زبیر جب اپنا ریزہ ریزہ وجود لئے سکول سے واپس گھر پہنچا تواس کے چہرے کی کتاب پڑھ کر اس کی دادی نے پوچھا ۔
’’دادی ۔۔۔ ٹیچر مجھے روز ڈانٹتے ہیں ۔گھر میں مجھے کوئی پڑھاتا نہیں ہے اور سبق ۔۔۔‘‘۔
کہتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے ۔
’’روتے نہیں بیٹا ۔۔۔۔۔۔ بھیا سے کہدو وہ تمہیں پڑھائے گا اور تمہاری ممی بھی تو پڑی لکھی ہے‘‘ ۔
’’دادی ۔۔۔۔۔۔ ممی اور بھیا میری بات ہی نہیں سنتے ہیں ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
اس نے جھنجھلا کررندھے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’ اچھابیٹا ۔۔۔۔۔۔ تو کھانا کھا لے ،میں ان سے کہہ دوں گی‘‘ ۔
دادی نے کھانا اس کے سامنے رکھتے ہوئے پیار سے کہا ۔ دسویں میں زیر تعلیم زبیر اگر چہ پڑھائی میں کمزور تھا لیکن من لگا کر پڑھائی کرتا تھا ۔دادی کئی دنوں سے محسوس کر رہی تھی کہ زبیر کھویا کھویا سا رہتا ہے اور ٹھیک سے کھاپی بھی نہیں رہا ہے لیکن اب وہ زبیر کی اُلجھن کو اچھی طرح سمجھ گئی۔ مغرب کی نماز سے فارغ ہوکر دادی زبیر کے بارے میں بات کرنے کے لئے اس کی ماں کے کمرے میں گئی تو وہ چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی ۔
’’ بہو تم ٹھیک تو ہونا ۔۔۔۔۔۔؟‘‘
’’ماں جی ۔۔۔۔۔۔ میرا سر دُکھ رہا ہے اور کمر میں بھی درد ہے‘‘ ۔
’’اچھا تم آرام کرو ۔۔۔۔۔۔دفتر سے تھک ہار کر آنے کے بعد اس بے چاری کوگھر کا ساراکام بھی کرنا پڑتا ہے ‘‘۔
خود کلامی کرتے ہوئے وہ وہاں سے واپس نکلی اور زبیر کے بڑے بھائی کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا ،لیکن کئی بار دروازہ کھٹکھٹانے اور آوازیں دینے کے با وجود وہ ٹس سے مس نہیں ہوا ۔
’’پتہ نہیں آج کے بچوں کو یہ کیا لت پڑی ہے کہ اندر سے دروازہ بند کرکے بیٹھ جاتے ہیں‘‘ ۔
بڑ بڑاتے ہوئے وہ زبیر کی بہن کے کمرے کی طرف گئی لیکن کچھ سوچتے ہوئے اسے کچھ کہے بغیر ہی واپس مڑ کر کچن میں چلی گئی اور مایوسی کی حالت میں سوچوں میں گُم ہوگئی ۔
زبیر کا باپ ایک تجارت پیشہ شخص تھا اور صبح نکل کر دیر گئے گھر واپس لوٹتا تھا ،اس کی ماں سرکاری ملازم تھی اور اُسے سے گھر کا سارا کام بھی خود ہی کرنا پڑتا تھا جب کہ اس کا بڑا بھائی یونیور سٹی اور بہن کالج میں زیر تعلیم تھی لیکن وہ دونوں گھر آکر اپنے اپنے کمروں میں دروازے بند کرکے بیٹھتے تھے ،صرف کھانے کے وقت کچن میں آتے تھے ا وراسی وقت گھر کے دوسرے لوگوں کو ان کے درشن نصیب ہوتے تھے۔  
’’دادی ۔۔۔۔۔۔ جلدی سے کھانا دے دو بہت بھوک لگی ہے‘‘ ۔
یہ بلا ل کی آواز تھی، جس کے ساتھ ہی گھر کے دوسرے افراد بھی کچن میں آگئے اور کھانا کھانے بیٹھ گئے ۔
’’بلال ۔۔۔۔۔۔ میں نے تمہیں کتنی بار کہا کہ تھوڑا وقت نکال کر زبیر کو پڑھایا کرو۔ گھر میں سبھی پڑے لکھے ہونے کے باوجود اُسے کوئی پڑھاتا نہیں اوریہ بے چارہ پریشان رہتا ہے‘‘ ۔ 
دادی نے بلال ،جو ایک ہاتھ سے کھانا کھا رہا تھا اور دوسرے ہاتھ سے موبائیل فون چلا رہا تھا ،سے مخاطب ہو کر کہا لیکن اُس نے ایسے نظر انداز کیا جیسے سنا ہی نہیں۔
’’آگ لگے ان موبائیل فونوں کو ۔۔۔بلال میں تم سے کچھ کہتی ہوں‘‘ ۔   
دادی نے غصے بھرے لہجے میں کہا ۔جس کے ساتھ ہی ماں نے بھی بلال سے زبیر کو پڑھانے کی تاکید کی ۔
’’کوئی بات نہیں دادی ،میں دیکھ لوں گا۔ ویسے اِسے پڑھانے کی ضرورت نہیں ہے اتنے اچھے سکول میں جو پڑھ رہا ہے‘‘۔
بلال نے سرد لہجے میں کہا اور فون پر کسی سے باتیں کرتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا ۔دادی نے زبیر کی بہن کو بھی اسے  پڑھانے اور گھر کے کاموں میں ماں کا ہاتھ بٹانے کے لئے کہا لیکن موبائیل فون پر مگن ہونے کے سبب اس نے کوئی توجہ نہیں دی اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔
’’یہ کیسی زندگی ہے ،افراد خانہ کو بھی ایک دوسرے کی خبر نہیں ہے،سب اپنے آپ میں ہی مگن رہتے ہیں ۔ایک ہمارا زمانہ تھا کہ شام کو گھر کے سارے لوگ مل بیٹھ کر میٹھی میٹھی محبت بھری باتیں کیا کرتے تھے ،خوشیاں بانٹتے تھے اورایک دوسرے کے دُکھوں اور پریشانیوں کو جاننے  اور اُن کا داوا کرنے کی حت ا لامکان کوشش کرتے تھے ۔ماں اور دادی سے دیر رات تک اچھی اچھی کہانیاں سنتے تھے ۔بزرگوں کا احترام کرتے تھے اور ان کی نصیحتوں کو انمول سمجھ کر پلے باندھ کر رکھتے تھے ،لیکن آج کل کے بچوں کا خون سفید ہوگیا ہے جو بڑوں کو خاطر میں ہی نہیں لاتے ہیںاور اپنے اپنے کمروں میں دروازے بند کر کے بیٹھ جاتے ہیں‘‘ ۔
کچھ دیر کچن میں اکیلی سوچوں کی بھول بھلیوں میں گُم رہنے کے بعد دادی بھی اپنے کمرے میں چلی گئی ۔ دادی نے کئی بار زبیر کے والدین کو بھی زبیر کی حالت سے آگاہ کیا لیکن انہوں نے بھی کوئی توجہ نہیں دی اور بات آئی گئی ہوگئی۔ زبیر ،جس کے امتحانات قریب آرہے تھے ،تیاری میں جُٹ توگیا لیکن ہر وقت عالم یاس و اضطراب میںگم سم اور پریشان رہنے لگا،اس کے چہرے پر ہر وقت افسردگی اور مُرونی چھائی رہتی تھی ۔جوں توں کرکے اس نے امتحان دیا اور چین کی سانس لی۔کچھ وقت کے بعد جب امتحانات کے نتائیج سامنے آئے تو زبیر کے والدین پر بجلی سی گری کیوں کہ زبیر معمولی نمبرات سے پاس ہوا تھا ۔پھر کیا تھا اس کے والدین کے ساتھ ساتھ اس کا بڑا بھائی اور بہن بھی اُسے ہر وقت پانی پی پی کر کوسنے لگے ۔جب کہ دادی ہر وقت یہ کہہ کر اس کی طرف داری کرتی تھی کہ گھر میں اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا ۔کم نمبرات کے سبب زبیر کو بڑی مشکل سے گیارویں جماعت میں داخلہ مل گیا اور ساتھ ہی اس نے ایک کوچنگ مرکز میں بھی داخلہ لیا، جس کے بعد اس کی زندگی میں تبدیلیاں وقوع پذیر ہونے لگیں ۔اس نے والدین سے موبائیل فون کا تقازا کیا جو اب تک اس کے پاس نہیں تھا ۔ اب وہ دادی سے کبھی کوئی فریاد نہیں کرتا تھا بلکہ ہروقت خوش اور مست رہتا تھا ۔دادی اس کی یہ تبدیلی دیکھ کر خوش تو ہورہی تھی لیکن یہ غم بھی اسے کھائے جا رہا تھا کہ اب وہ پڑھائی پر زیادہ دھیان نہیں دیتا تھا ، شام کو دیر تک گھر سے باہر رہتا تھااور کافی وقت فون کے ساتھ گزارتا تھا جب کہ والدین اور دادی سے خلاف معمول بار بارپیسوں کا تقازا بھی کرتا تھا جو اُسے آسانی سے مل جاتے تھے کیوں کہ اس کے والدین کو پیسوں کی کوئی قلعت نہیں تھی لیکن ان کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ وہ اس کی حرکات و سکنات پر نظر رکھتے ،اس طرح وہ اپنے ڈھنگ سے اپنی زندگی جینے لگا ۔کچھ مہینوں بعد اس کی صحت بھی گرنے لگی ۔اس کی حالت دیکھ کر دادی نے اس کے والدین کو کئی بار بتایا کہ اسے کسی ڈاکٹر کے پاس لیا جائے لیکن انہوں نے ایسا کرنا ضروری نہیں سمجھایا عدیم الفرست ہونے کے سبب ایسا نہیں کر سکے ۔ 
ایک دن زبیر سکول سے واپس آیا اور گھر سے کھانا کھا کر کوچنگ مرکز کے لئے گیا اور رات دیر تک واپس نہیں لوٹا ۔دادی جو سخت پریشان ہوگئی نے اس کی ماںکو بتایا۔
’’ماں جی ۔۔۔۔۔۔ تم خوامخواہ پریشان ہورہی ہو ،زبیر تھوڑی ہی چھوٹا بچہ ہے ۔دوستوں کے ساتھ کہیں گیا ہوگا ،کچھ دیر بعد آجائے گا‘‘ ۔
زبیر کی ماں نے دادی کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا ۔
’’بہو میرا دل بہت گھبرا رہا ہے،کہیں وہ معصوم غلط صحبتوںکا شکارنہ ہو جائے ‘‘۔
دادی نے کہا اور نماز پڑھنے میں مصروف ہوگئی ۔فارغ ہونے کے بعد وہ زبیر کے انتظار میں بے قراری کی حالت میںدروازے کی طرف آنکھیں جمائے بیٹھی رہی  ۔۔۔۔۔  لیکن وہ نہیں آیا، اب اس کے والدین بھی پریشانی کی حالت میں اِدھر اُدھر کرنے لگے۔ زبیر کا فون لگاتاربند آرہا تھا، انہوں نے فون کرکے اپنے رشتہ داروں اور زبیر کے دوستوں سے معلوم کیا لیکن زبیر کا کوئی پتہ نہیں ملا جب کہ زبیر کے دوستوں نے بتایا کہ وہ آج کوچنگ مرکز آیا ہی نہیں تھا ۔رات کے گیارہ بجے زبیر کے والد کا فون بجا،اس نے ہیلو کیا تو دوسری طرف سے ایک بارعب آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی ۔
’’آپ زبیر نامی لڑکے والد ہو ؟‘‘
’’جی ،کیا ہوا زبیر کو ‘‘۔
اس نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا ۔
’’اسے کچھ نہیں ہوا ہے ۔میں پولیس سٹیشن سے بول رہا ہوں اور آپ کے نا بالغ بیٹے کو پولیس نے نشے کی حالت میں ڈرگس کے ساتھ گرفتار کرلیا ہے‘‘ ۔
یہ الفاط پگھلا ہوا سیسا بن کر اس کے کانوں میں اتر گئے،تنائو کی گہری لکیریں اس کے چہرے پر رقص کرنے لگیں اور ہاتھوں سے موبائیل فون چھوٹ کر نیچے گر گیا ۔
 
���
اجس بانڈی پورہ( 193502 )کشمیر
ای میل ؛tariqs709@gmail.com 
موبائل  نمبر؛9906526432
 

تازہ ترین