تازہ ترین

ہم کس سمت میں جارہے ہیں!

ہمارا شعور کب بیدار ہوگا ؟

تاریخ    14 اکتوبر 2021 (00 : 01 AM)   


طاہرہ پروین جعفری
آج ہر ذی شعور انسان یہ بات سوچنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی آخر ہمیں کس سمت لے کرجارہی ہے، جس طرح فضا میں آلودگی بڑھنے کے اسباب میں ہم نے جانا کہ بے دریغ درختوں کو کاٹنا، دھواں، ہر طرف غلاظت کے ڈھیر ، بے ہنگم شور نے ذہنوں کو پراگندہ کردیا اور صاف تازہ ہوا کا راستہ روک کر شہر کو آلودگی کی نذرکردیا ہے ۔گذشتہ برسوں میں اپنی زندگی کو آرام دہ بنانے اور سہولت کے نام پر ہم نے خود اپنے لیے کس قدر مشکلات پیدا کرکے اپنی ہی صحت وسلامتی کو نہ صرف خطرے میں ڈالا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی مسائل پیدا کردئیے ہیں۔ 
ہماری لاپروائی اور بے حسی نے ایک ایسا معاشرہ پیدا کردیا جہاں لوگ مصیبت میں مدد کرنے کے برعکس باقی دنیا کو باخبر کرنے کے لیے وڈیو وائرل کرنے میں زیادہ پُرجوش ہوتے ہیں۔ ہر شخص کرائم رپورٹر بنتا جارہا ہے۔ ہر وقت جرائم ، قتل وغارت ، زیادتی ہراساں کرنے، جیسے واقعات نے انسان کو دوسرے انسان کی جان ومال کی قدرکرنے کا احساس یکسر بدل ڈالا ہے۔ اپنے مفاد کی خاطر کسی دوسرے کی جان لینے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔گویا انسان ایک خونی کیڑے کی مانند بن گیا ہےاوریہ خونی کیڑے کسی دوسرے سیارے پر نہیں بلکہ اپنے ہی گلی کوچوں ،محلوںاور شہروں میں رہ رہے ہوتے ہیں، مگر اب چونکہ لوگ محلہ داری اور آس پڑوس میں میل جول کا ماحول کم سے کم ہوگیا ہے ، اس لیے اکثرلوگ ایسے افراد سے بے خبر رہتے ہیں اور انہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کے برابر میں کیا ہورہا ہے۔ 
چھوٹے بچوں اور بچیوں کے اغوا اور زیادتی میں اکثر بہت قریبی پڑوسی یا رشتہ دار ملوث ہوتے ہیں۔ اس طرح کے افسوناک واقعات دیکھ کر یا سن کرکچھ وقت کے لیے افسردگی کا احساس ہوتا ہے ،مگر پھر کسی نئے واقعے کی بازگشت میں کہیں مدھم پڑجاتا ہےاور کچھ وقت کے بعد تو بالکل فراموش ہوجاتا ہے۔ پہلے وقتوں میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ اپنے بچوں کے ساتھ جانے والی عورت بری نظر سے محفوظ رہتی ہے، مگر افسوس ! اب شہروں اور دیہات میںپے در پے ایسے دلخراش واقعات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں جن کی تفصیلات ہمیں اخبارا ت یا دیگر ذرائع سے ملتے ہیں،میں بچوں کے سامنے ماؤں کی بےحرمتی کی جاتی ہے۔
دوسری جانب ایسی خواتین وحضرات کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو راتوں رات مشہور ہونے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں اور ایسے نت نئے ہتھکنڈے اپناتے ہیں کہجن سے نہ صرف اُن کی بے عزتی اور رُسوائی ہوجاتی ہے بلکہ بعض اوقات انہیں جان بھی گنوانی پڑتی ہے۔معاشرے کی اس ابتر صورت حال کی ذمہ داری سے کوئی بھی بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔ اس بگاڑ کے ذمہ دار والدین ،تعلیمی ادارے ،مدرسے اور سیاسی لیڈر سبھی ہیں، تو اس کو سدھارنے کے لیے بھی سب ہی کو کوشش کرنی ہو گی۔ دنیا پر چاہے آپ کواختیار نہیں لیکن آپ اپنے گھر میں تو بہت کچھ کرسکتیں ہیں۔ اپنی اولاد، بھائی ،بہن کی سرگرمیوں سے باخبر ہوکر ان پر نظر رکھنا ،کوئی بھی غیر معمولی نقل وحرکت ،بہت دیر تک گھر والوں سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی، پھر اپنا علاقہ، محلہ پڑوس میں رہنے والے غیر قانونی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے ساتھ غیر اخلاقی باتوں پر بھی سرزنش کرسکتے ہیں ۔جب ان باتوں پر مستقل عمل ہوتا رہے تو عنقریب ہی اس معاشرے کے لیے اُمید کی کرن پیدا ہوگی۔ جب ہر طبقہ فکر کے لوگ یہ سوچنے پرمجبور ہونگے کہ اب عمل کا وقت آگیا ہےتو اس مرض کےتدارک کی تدبیریں بھی نکل آئیں گی ۔اور اگر مرض کی تشخیص درست ہوتو مرض لاعلاج نہیں رہتا۔ہمیں اپنی نسلوں کو بچانے کے لیے ہر ممکن حدود متعین کرنے ہوں گےاوراپنے بچوں اور بچیوں کی بے جا لاڈو پیار کے نام پر انہیں بے راہ روی،بے حیائی ،بُرائی اور خرابی کی ہرگز اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

تازہ ترین