تازہ ترین

ماحولیاتی نظام میں خلل ۔ انسانی جانوں کے لئےخطرناک

فکرو ادراک

تاریخ    25 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


خواجہ یوسف جمیل
انسان کو قدرت نے عقل سے نوازا ہے۔ جس سےاچھے اوربُرے میں تمیز کرسکتا ہے۔اسی لئے انسانی دوڑ اُسی بات میں لگی رہتی ہے کہ تمام تر سہولیات کے درمیان بہتر سے بہتر زندگی گزاری جائے۔انہی سہولیات کے حصول اور اپنے مفاد کی خاطر انسان نے آبی ذخائر کے ساتھ ساتھ جنگلات کی جانب بھی رخ کیا ۔جس سے جانوروں کی قیام گاہوں پر گہرا اثر پڑنے لگا۔ انسان نے اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کی خاطر قدرتی نظام میں خلل ڈالا ۔نتیجہ یہ نکلا کہ جنگلی جانور اب آبادیوں کی جانب رخ کرنے لگے اور لوگوں کی فصلوں کو نقصان پہنچانے لگے۔ نیز یہ جانور اب اپنا مسکن چھوڑ کر دوسرمقامات کی جانب منتقل ہورہے ہیں جو عوام الناس کے لئے شدید خطرے کا باعث ہے۔
 اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ حکومت عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے میدانی و پہاڑی علاقوں میں سڑکیں تعمیر کررہی ہے،دوردراز پہاڑی علاقوں کو ایک دوسرے سے ملانے کے لئےجہاں پہاڑیوں کو بارود سے توڑکر راہداریاں قائم کررہی ہے، وہیں جنگلی علاقوں میں سرنگیں کھود کر راستے نکال رہی ہے۔ جس سے جنگلوں میں مقیم مخلوق کی رہائشگاہوں پر منفی اثرات پڑتے ہیں اور فی الفور شدید خوفزدگی عالم میں جنگل چھوڑ رہے ہیں ۔جس کے نتیجے میں ملک کے دیگر حصوں میں بھی خوفناک واقعات رونما ہورہے ہیں ۔اس صورت حال سے جموں وکشمیر میں بھی قدرتی ماحولیاتی نظام میں انتہائی تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے جو کہ تشویشناک ہے۔ اس حوالےسے سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے ایک بزرگ باشندہ عبدالغنی کا کہنا ہے کہ آج سے بیس سال قبل ہمارے گاؤں میں جنگلی جانوروں کا آنا نہیں ہوا کرتا تھا اور ہماری فصلیں اور جانیں محفوظ ہوا کرتی تھی۔ اگرچہ سڑک اور دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان تھا تاہم ہم سکون کی زندگی گزارا کرتے تھے۔ اب آئے روز ہماری زمینوں میں جنگلی درندےاور دوسرے جنگلی جانور بے خوف و خطر گائوں میں گھومتے رہتے ہیں اوروقفہ وقفہ کے بعد کئی لوگ ان جنگلی جانورو ں کا شکار بن رہے ہیں۔
یہ بات قابل غور ہے کہ موسم گرما آتے ہی یہ جانور انسانی آبادیوں کا رخ کرتے ہیں کیونکہ اسی موسم میں ان علاقوں میں رہائش پذیر لوگ متعدد میواجات اور دوسری کئی فصلیں  اُگاتے رہتے ہیں ۔اسی طرح اپنی ضروریات کے لئے جہاں لکڑیاں انہی جنگلوں سے لاتے ہیں وہیںاپنےمکانات کی تعمیر کے لئے جو لکڑیاں لاتے ہیں وہ بھی جنگلوں سے ہی آتی ہیں ۔ سڑکیں بنانے کے دوران لاکھوں ہرے بھر درخت کاٹ دیئے جاتےہیں، جس سے ماحولیات پر زبردست بُرا اثر پڑتا ہےاور جس کا خمیازہ انسانوں کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔  یہ ایک المیہ ہے کہ ایک طرف جہاں حکومت نے جنگلات کی کٹائی پر پابندی لگارکھی ہے وہیں دوسری طرف سرکاری اہلکار سڑکوں کی تعمیرات کے دوران جنگلوں کی بے رحمی سے کٹائی کرتے ہیں۔ ان پر قدغن لگانے والا کوئی نہیں ہوتا ۔یہی وجہ ہے کہ آج ضلع پونچھ و دیگر دیہی علاقوں کے عوام کو گھرں سے باہر نکلنے میں خوف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے گاؤں بائلہ کے دو افراد پر گزشتہ ہفتے ریچھ کے حملے میں شدید زخمی ہوگئے جنہیں جنگلی جانوروں نے سڑ ک کے قریب ہی دبوچ لیاتھا ۔ اس حوالے سے غلام نبی ولد کمال لون نے بتایا کہ جونہی میں گھر سے باہر نکلا کہ نماز کے لئے وضو بنا لوں،تو سامنے ہی موجود ریچھ نے آکر مجھے دبوچ لیا اور شدید زخمی کرکے چھوڑ دیا۔ واضح رہے کہ غلام نبی آج صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں زیر علاج ہیں اور اُن کا اوپریشن بھی ہوا ہے ۔ تاہم انکا کہنا ہے کہ میں غریب طبقہ سے تعلق رکھتا ہوں اور محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کو پالتاتھالیکن اب اس کے لائق بھی نہیں رہا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ میری حکومت سے اپیل کی ہے کہ میری امداد کرےتاکہ میرے بچوں کا پیٹ پلے۔ اسی گا ؤں کی ایک خاتون سکینہ بی بیوہ فتح محمد تانترے سکنہ بائلہ تحصیل منڈی پر بھی دو بھالوئوں نے اچانک حملہ کرکےشدید زخمی کردیا، انہیں علاج و معالجے کے لئے پونچھ اور پھرپونچھ سے سرینگر کے صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ منتقل کیاگیا جہاں وہ زیر علاج ہے۔ سکینہ بی بھی گھریلوحالت انتہائی خستہ ہے۔ غربت سے لاچار سکینہ بی جو بمشکل اپنا چولھا جلاتی تھی، اب لاکھوں روپے کے قرض تلے دب گئی ہے ۔اس کے بیٹے محمد فاروق نے بتایا کہ میرے پاس اتنا پیسہ نہیں کہ اپنی والدہ کا علاج کروا سکوں ، اس نے مرکزی حکومت و ریاستی سرکار سے اپیل کی کہ انکی امداد کی جائے تاکہ وہ اپنی والدہ کا علاج کروا سکیں ۔
اس کے علاوہ اور بھی ایسے کئی افراد ہیں جو گزشتہ سالوں میں ریچھوں کے حملوں میں زخمی ہوئے اور کئی زخموں کی تاب نہ لاکر اپنی جانوں  سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس معاملے کا ذمہ دار کون ہے ؟ اگرچہ آئین ہند ،وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت جنگلی جانوروں کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے ،جس کے تحت اگر ان جنگلی جانوروں کو کوئی انسان مارے یا پکڑ کر فروخت کرے تو اس شخص کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے،مگر انسانوں کو بچانے کی کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی جاتی ہے۔ گویا ان کے سامنے انسانی جان کی کوئی قدر و قیمت ہی نہیںہے۔ اس حوالے سے جب محکمہ وائلڈ لائف کے آفسران سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ’’ ہمارے پاس صرف پنجرہ ہے ،جس میں ہم ان جنگلی جانوروں کوقید کر کے محفوظ مقامات تک پہنچاتے ہیں ۔ اسکے علاوہ ہم ان جانوروں کاکچھ بھی نہیں کرسکتے کیونکہ ہمیں ان جانوروں کو مارنے کا حکم نہیں ہے ۔وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ ان جانوروں سے لوگوں کو محفوظ کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ لوگ انفرادی طور پر سفر نہ کریں بلکہ محموعی طور پر ٹولیاں بنا کر سفر کریں، ایسی صورت میں ریچھ یا دیگر جنگلی جانوروں کے حملوں کے خطرات سے قدرےمحفوط رہ سکتے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ ہم لوگوں کو یہ جانکاری بھی فراہم کرتے رہتےہیں کہ وہ آواز کرنے والی چند اشیاء اپنے پاس رکھیں ، ہم لوگوں کو پٹاخے بھی فراہم کرتے ہیں جن کی آواز سے یہ جانور بھاگ ہوجاتے ہیں۔ بلاک میڈیکل آفسر کا کہنا ہے کہ جب موسم گرما اپنے شباب پر ہوتا ہے تو لوگ ڈھوکوں کی جانب اپنا رخ کرتے ہیں، گھاس و مکی کی فصلوں میں اضافہ ہونے لگتا ہے تو جانوروں کے حملوں میں اضافہ ہونے لگتا ہے ۔ہر سال تقریباً چار سے پانچ آدمی جنگلی جانوروں کا شکار ہوتے ہیں۔ جن کے علاج و معالجے کے لئے ہم ہر وقت مستعد رہتے ہیں ۔ شدید زخمیوںکو ضلع ہسپتال پونچھ یا پھر جموں منتقل کیا جاتا ہے۔ضلع پونچھ کے بالائی علاقاجات میں زیادہ تر ریچھ و دیگر جانوروں کے حملوں کی خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں ۔
 درحقیقت جوں جوں انسانی آبادی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور سڑکیں و دیگر ترقیاتی کام عمل میں لائے جاتے ہیں،وہ غریب طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لئے سہولت سے زیادہ پریشانی کا باعث بنتے جارہے ہیں کیونکہ اگر اندازہ لگایا جائے تو صرف وہی لوگ ان جنگلی جانوروں کا نشانہ بنتے ہیں جو غریب طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اب لوگوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں محفوظ مقامات پر متبادل جگہیں فراہم کی جائیں ۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ ان جنگلی جانوروں سے انسانی جانوں کو محفوظ کرنے کے لئے کلیدی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ انسانی جانیں محفوظ رہ سکیں ، ایسے حالات میں حکومت کو جنگل کے علاقوں کو بھی محفوظ رکھنا ہوگا کیونکہ جب تک ان جانوروں کے مقامات کو محفوظ نہیں کیا جاتا تب تک یہ حادثات رُک نہیں سکتے ۔
پتہ ۔پونچھ

تازہ ترین