تازہ ترین

انسان اور حیوان میں فرق

بے حیائی سے بیڑہ غرق

تاریخ    23 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


حمیرا فاروق
اللہ نے اس جہاں میں بے شمار مخلوقات پیدا کئےہیںاور ہر ایک کے لئے جینے کے الگ الگ طریقے دئےہیں،ہر مخلوق کےاندر خواہشات ،تمنائیں ،جذبات کے ساتھ ساتھ کھانے پینے ،اٹھنے بیٹھنے ،اُڑنے ،رینگنے،تیرنےاور رہنے سہنے کے طور طریقےبھی الگ الگ رکھے ہیں۔اگرچہ ہر مخلوق  ایک دوسرے سے مختلف ہےلیکن اُن کا انحصار ایک دوسرے پر ہی رکھا ہے۔اس کائنات پر رہنے والےحیوانات، درندوں ، پرندوںاور چرندوں پر نظر ڈالیںیا دریائوں اور سمندروں میں رہنے والے چھوٹے بڑے آبی جانوروں یاباریک کیڑے مکوڑوںکو دیکھیں توبخوبی پتہ چلتا ہے کہ بیشتر جاندار ایسے ہیںجن کی زندگی کا انحصاراپنے ہی حدود میں رہنے والے دوسرے جانداروں کی زندگیوں پر ہوتا ہے۔جہاں کسی کی زندگی پیڑ پودوں اور گھاس پھوس پر منحصر ہے وہیں ہر طاقتور درند و پرند کی زندگی کا دارومدار اپنے سے چھوٹے اور کمزور جاندار وں کی زندگیوں پر ہی ہے۔یہ صورت حال نہ صورت حال نہ صرف زمین پر رہنے والےجانداروں کی ہے بلکہ پانی میں رہنے والے جانداروں کی ہے۔اسی طرح جہاں پیڑپودے انسان کو آکسیجن فراہم کرتے ہیں تو وہیں انسان انہیں کاربن ڈائی ایکسائڈ مہیا کردیتے ہیں ۔ لہٰذا ہر ایک چیز کو اللہ نے ایک دوسرے کی غذا، آرام و آسائش کیلئے پیداکر رکھا ہےاور اسی طرح اس کائنات کا نظام چلتا رہتا ہے ۔ظاہر ہے کہ اللہ ہی اس کائنات میں موجود ہر چیز کا خالق ہے ،جن میں انسان اور حیوان بھی شامل ہیںالبتہ ان دونوں میں ایک بڑا فرق بھی رکھا ہے ۔انسان کونہ صرف صحیح اورغلط میںتمیز کرنےبلکہ ماضی ،حال اور مستقبل پر غور وفکر کرنے کی بھی صلاحیت بخشی ہے۔ سب سے بڑا فرق جو ایک انسان اور حیوان میںرکھی ، وہ یہ ہے کہ ایک حیوان صرف اپنے آج اور اپنی ذات کیلئے سوچتا ہے لیکن انسان ہر ایک کیلئے فکرمند رہتا ہے۔حیوان خود کو آزادسمجھ کر اپنی خواہشات کا لطف اُٹھا کر تسکین پاتا ہےگویاحیوان میں خواہشات محض لذت کے طور پر رکھی گئ ہے۔لیکن انسان جس کی تخلیق اللہ رب العزت نے بڑے ناز سے کی ہے اوراسے فطرتِ سلیمہ دے کر اچھے اوربُرے میں تمیز کرنے کا سلیقہ بھی دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے اس کائنات میں انسان کو حاجت ِبشری کے لئے بیت الخلاجانے سے لیکرزندگی گذارنے کے آخری پڑائو تک کے طور طریقےاور قواعد و ضوابط پہنچا دئیےہیں۔ حیوان اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے بغیر کسی تمیز کےکوئی بھی راستہ نکال لیتا ہے ۔لیکن انسان کواللہ نے یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ ہر کسی کام یا خواہش کی تکمیل کے لئے ایسا راستہ ر نکالےکہ اللہ راضی رہے اور دوسروں کو بھی فیض پہنچے ۔اگر ہم دیکھیں گےتو حیوانات کے بہ نسبت اللہ نے انسان کے اندر صنفی میلان بھی کچھ زیادہ رکھا ہے کیونکہ انسان کیلئے اللہ نے اس کائنات میں سب سے زیادہ چیزیں مہیا رکھی ہیں،جن سےاستفادہ اٹھاکر آرام و سکون پاتا ہے۔ یہ اس لئے کہ انسان نہ صرف خود کو پہچان کر نوع انسانیت کو آگے بڑھائے بلکہ اس کو کائنات میں پھیلا دے اور دوسروں کو بھی اللہ کے حکم کے مطابق زندگی گزارنا سکھا دےاور یہی چیز انسان کو حیوان سے ممتاز بنا دیتی ہے۔
اگر ہم حیوانات کے بچوں کو دیکھیںگے وہ کچھ دیر تک اپنے والدین کے محتاج رہتے ہیں لیکن اسکے مقابلے میں انسان کی اولاد کئی سالوں تک اپنے والدین کو پالنے پڑتے ہیں۔ غرض اُسے کھانے، پینے ،اٹھنے ،بیٹھنے،سونے ،جاگنے یہاں تک کہ رفع حاجت جانے میں تب تک والدین کے محتاج رہنا پڑتا ہے، جب تک کہ اُس کی فکر و سوچ میںآجائے کہ مجھے کیا کرنا ہے،کیسے کرنا ہے اور کیوں کرنا ہے۔اللہ نےحیوانات کے بہ نسبت انسانی دلوں میں محبت و شفقت بھی زیادہ رکھی ہے تاکہ وہ انسانیت کو آگے بڑھاتے چلیں۔ اگر ہم حیوانات کی زندگی دیکھیں گے وہ کچھ مدت تک ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں، پھر وہ ایک دوسرے سے جدا ہو کر اپنی اپنی الگ دنیا بساتے ہیں،ماں باپ کو بچے کا پتہ نہیں چلتا اور بچے کو ماں باپ کی پہچان نہیں رہتی۔لیکن انسان کے اندر محبت کا ایسا مادہ رکھا گیا جو زندہ رہنے تک ایک انسان کے دل میں موجود ہوتا ہے۔ایک انسان نہ صرف اپنے بچوں سے محبت کرتا ہے بلکہ اپنے بچوں کے بچوں سے بھی الفت رکھتا ہے ،اتنی محبت کہ ان کی زندگیاں بنانے اور سنوارنےکے لئے نہ صرف مال و دولت لُٹا دیتا ہے بلکہ اپنی زندگی بھی دائو پر لگا دیتا ہے، انہیں ہر سطح پر اچھا اور بہتر دیکھنا چاہتا ہے۔ لہٰذا ہمیں اس بات پر غوروفکر کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک انسان پر کتنا بڑا احسان ہے کہ جس نےانسان کو اشرف المخلوقات بنا کر بہت بڑی عظمت سے نوازا ہے۔
اللہ تعالی نے انسانوں کے اندر صنفی میلان اسلئے زیادہ رکھا ہےتاکہ اسے معاشرے کی بنیاد ڈال کر انسانیت کو فروغ ملے اور انسان کی انفرادی زندگی اجتماعی زندگی میں تبدیل ہوجائے۔ظاہر ہے کہ جب آدم علیہ السلام کی تخلیق کی گئی تو اللہ نے حوا علیھا السلام کو اسکے لیے جوڑا بنایا تاکہ نسل انسانیت کو فروغ ملے اور وہ ایک دوسرے کا سہارا بن کر دنیا میں زندگی گزارے ۔ اگر ہم دیکھیں گے تو ایک انسان کے اندر صنفی میلان تمام حیوانات سے زیادہ رکھا گیاتاکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مستقل قیام کرے نہ کہ حیوانوں کی طرح آزاد گھومےاور جو من میں آئے کرتا جائے۔ انسان کی زندگی کے لئے کچھ حدود اورکچھ اصول مقرر رکھے گئےہیں، اگر اس نے حد سے تجاوز کیا تو اسکا ٹھکانہ جہنم بنا دیا جائے گا اور اگرانسان اس صنفی میلان جو اللہ نے اسکے اندر رکھا، اسکو سے حد سے تجاوز کرے ، اس کے لیے غلط راستے ڈھونڈےتو ایسا کرنے سے انسان نہ صرف اللہ کے حدود کو توڑ دیتا ہےبلکہ اسکی نافرمانی کرکے خود کو خسارے میں ڈال دیتا ہے ،ساتھ ہی پوری انسانیت کو تباہی کے ایک ایسے گڑے میں گرا دیتا ہے جہاں سے انسان کا نکلنا پھر محال ہو جاتا ہے۔اللہ نے تو یہ آپسی میلان محض حسن معاشرت کی بنیاد پڑنے پر رکھا نہ کہ انسان اپنے نفس کو کھلا چھوڑکر جو چاہے کر بیٹھے، خود کو آزاد سمجھ کرحلال و حرام کا راستہ دیکھے بغیراپنی شہوت پوری کرکے جہنم کا راستہ چُن لے۔میاں اور بیوی کو ایک دوسرے کا لباس بنایا گیا تاکہ وہ اپنی زندگی خوشی اور سکون سے گزاریںاور ان کو ایک دوسرے کا ذمہ دار ٹھہرا گیا ۔مرد کو قوام بنایا گیا اور عورت کو اسکے بچوں کا نگران بنایا گیا ۔مرد کے سپرد اس کا اہل و عیال کی ذمہ داری رکھی گئی ۔ اسلام نے ایک مرد کو یہ ذمہ داری رکھی کہ اگر وہ اپنی بیوی کو بارآور کرے تو اسکا فرض بنتا ہے کہ وہ اسکی تمام ضروریات پوری کرے اور اس بچے کی کفالت بھی کرے، اس معاملے میں وہ ہرگز بری الذمہ نہیں ہے ۔کیونکہ ایک بچے کیلئے والدین کا سپوٹ اور سہارے کی ضرورت ہوتی ہیں۔ اسلئے اللہ نے والدین کے دلوں میں اپنی اولاد کی محبت رکھی ۔اگر انکو بچے کی محبت نہ ہوتی تو کبھی بھی ایک ماں اپنی میٹھی نیند کوقربان کرکے اپنے بچے کیلئے رات کو جاگ کر ضائع نہیں کرتی اور کوئی بھی باپ محنت و مزدوری اور خون پسینہ ایک کر کے بچے کی ضروریات پوری نہیں کرتا ۔یہ اللہ نے ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہےکہ والدین کے اندر ان کے اولاد کی محبت و شفقت رکھی ہے ۔
معاشرے کو بڑھانے کیلئے اور صنفی میلان کیلئے اللہ تعالی نے حلال اور مباح کا جو طریقہ رکھا ہے ، وہ نکاح ہے۔ جسکے ذریعے معاشرے کی بنیاد پڑ جاتی ہے اور پھر ایک انسان جسکو اپنی پیدائش سے لے کر جوانی تک،جہاں تک کہ اسکی شادی ہو جائے ،پھر اسکی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کا ویسا ہی ذمہ دار رہے، جیسے انکے والدین تھے ۔ ہمیں نکاح کرکے بے حیائی کو مٹا دینا چاہیے، ورنہ معاشرے میں بے حیائی جنم لیتی ہے اور اس بے حیائی کی وجہ سے انسانیت کا وجود ختم ہوجاتا ہے۔ہمیں اپنے اندر یہ فکر و سوچ پیدا کرنا چاہئے تاکہ انسانیت بچ جائے ۔یہ مثبت فکر و سوچ انسان میں تب آئے گی جب ہم اپنی عقل کو اللہ کی ذات کے تابع کر دیںگے ۔ ہمیں صحیح اور غلط  میں تمیز کرنا آئے گا ۔آجکل چونکہ مغرب سے آیا ہوا بے حیائی کا طوفان ،جس نے پوری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لےلیا ہے، جو عورتوں کو حقوق دے کر انکو ننگا اور ذلیل کردیتا ہے۔سڑکوں پر لاکے انکو سرعام بےپردہ کردیتا ہے، ان کو آزاد نسواں کا حق دے کر انکےوہ اصل حقوق پامال کر دیتا ہے جو کہ اسلام نے آج سے قبل چودہ سوسال قبل اسکو دیئے ہیں۔یہ نام نہاد آزادی جو مغرب عورتوں کو دیتا ہے، دراصل یہ ان عناصر کا ایک دھوکہ ،فریب ،مکاری اور چال ہے ہیں جو مخلوط نظام کوفروغ دے کر اس کائنات کا صاف و پاک نظام بگاڑنا چاہتے ہیں۔ جیسے وہ خود ہیں وہ دنیا کو بھی اسی رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں ۔وہ برہنہ خواتین کی تصویریں دیواروں اور شوشل میڈیا پہ لگا کر ان کےجسم کو نمایاں کرکے لوگوں کے خواہشات کو اُبھار کر انکے اندر اخلاقی گراوٹ لانا چاہتے ہیں۔ گویا کہ وہ حلال و حرام کو نہیں دیکھتے بلکہ وہ حیوانات کی طرح اپنی خواہشات کو محض لطف و لذت کے طور پراستعمال کردیتے ہیں۔وہ سینما ہالوں، سیر گاہوں،سمندری کناروں اورنائٹ کلبوں، میں جاکر عورتوں سے حرام کاری اور ناجائز تعلقات قائم کرکے اپنی خواہشات کو پورا کرتے ہیں۔اصل میں وہ انسانیت کو حیوانیت میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں ،وہ ہر ایک کام کو حرام طریقے سے استعمال کرنا چاہتے ہیں،جسکی بدولت وہ نکاح سے نفرت اور زنا کو حلال سمجھتے ہیں ،جس کے نتیجہ میں آجکل دنیا میں اسقاط حمل ،قتل و غارت اور فتنہ و فساد برپا ہوتے رہتے ہیں۔یہ انسانیت کو بگاڑ کرانسان کے جذبوں کو ایسا حرام جامہ پہنا تے ہیں جو قانون قدرت کے خلاف ہیں۔مغرب میں غیر فطری چیزوں کو فروغ ملتا ہے، وہ اپنی خوا ہشات کو تکمیل تک پہچانے کے لئے غیر فطری طور طریقوں کو عمل میں لاتےہیں، جسکا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔وہ ہم جنس پرستی کو فروغ دیتے ہیں ،وہ مشت زنی کو فروغ دے کر نوجوانوں کو یہ یہ درس دیتے ہیں کہ اسے کوئی نقصان واقع نہیں ہوتا جبکہ اس برے عمل کی وجہ سے انسان اپنی اصلی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ایک ڈاکٹر ی رپورٹ کے مطابق مشت زنی میں آجکل ٪۹۸فیصدلڑکے اور ٪۸۸فیصد لڑکیاں ملوث ہیں ،جس سے یہ دونوں بچہ جننے کے قابل نہیں رہتے ۔اسکی وجہ سے دنیا میں طلاقیں ہوجاتی ہیں۔ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ انصاف نہیں کر پاتے اور وہ وہ حقوق ادا نہیں کرپاتے، جسکے لیے  ان کا نکاح کیا گیا۔ مغرب نے پوری دنیا کو تباہ کردیاہے، حتیٰ کہ وہ بچوں کو جنسی تعلیم دے کر انکی خواہشوں کو اُبھارتا ہےاور پھر انسان ایک حیوان کی طرح صرف اپنی خواہش کو پورا کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ وہ پھر یہ دیکھتا نہیں کہ طریقہ صحیح ہے یا غلط ۔انسان کو حرام کاری میں ایسے پھنسایا جاتا ہے کہ دیکھنے والے کو تو شرم آتی ہے لیکن دکھانے والے کونہیں ۔
جو بھی انسان دنیا میں اللہ کے حدود سے تجاوز کرے گا، وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔اگر غیر فطری طور طریقے استعمال کرےتو وہ پھر تمدن کو خراب کرتا ہے ۔لہٰذا انسان کو خود کے وجود پہ غور وفکر کرنا چاہیے کہ اُسے کس لیے پیدا کیا گیا ہے ۔اُسے کس طرح زندگی گزارنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ظاہر ہے کہ جولوگ اللہ کے حدود سے بڑھ جاتے ہیں، انکے لئے سورہ الاعراف میں اللہ تعالی فرماتےہیں: کہ ہم نے بہت سارے لوگوں کیلئے جہنم پیدا کیا کیونکہ وہ حق بات کو مانتے نہیں،انکے پاس تو دل ہے، پر وہ سوچتے نہیں ،انکے پاس تو کان ہے لیکن حق کو سنتے نہیں ،انکے پاس تو آنکھیں ہیں لیکن وہ حق کو دیکھتے نہیں اور انہی لوگوں کو کہا گیا کہ وہ جانوروں سے بدتر ہیں ۔انسا ن کو تو اللہ نے اشرف المخلوقات کا شرف بخشا ہےاور اسکو باقی مخلوقات سے افضل بنایا ہے اور اسمیں صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کی صلاحیت رکھی ہے اور جب یہی انسان اپنی اس صلاحیت کو فطرت کے خلاف کر دے تو وہ حیوان سے بدتر ہے ۔اسمیں اور ایک درندے میں کوئی فرق نہیں رہتا ۔انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے رب کے قوانین کے مطابق زندگی گزارے، نہ ہی خود کو خوا ہشات کا غلام بنائے اور نہ ہی شادی سے انکار کرکے رہبانیت اختیار کرےکیونکہ اس سے معاشرے میں منفی اثرات پڑتے ہیںاور اسکو تباہ کر دیتے ہیں۔اس سےلوگ حرام اور غیر فطری چیزوں میں ملوث ہو کر حلال کاموں سے نفرت کرنے لگتے ہیں ،وہ شادی کرنے کو ایک کمتر کام سمجھتے ہیں، جسکی وجہ سے انسانیت دب کر رہ جاتی ہے۔لہٰذا انسان کو اس کام میں ہوشیار رہنا چاہیئےاور پورے ہوش و حواس کے غور و فکر کرنا چاہئے کس مقصد کے تحت میری تخلیق کی گئی ہے،کس مقصد کے لئےمجھے پیدا کیا گیا ہے، مجھ میں اور باقی مخلوقات میں کیا فرق ہے؟انسان کو اسکےلیے اپنے نفس سے جدوجہد کرنی چاہیے۔ اس سے انسان کی شخصیت نشونما پاتی ہے کیونکہ انسان کی جدوجہد سے ہی ہر فعل عمل میں آتا ہے اور وہ جدوجہد حیوان نہیں بلکہ ایک انسان ہی کرسکتا ہے ۔یا د رہے کہ ہم کو اُمت ِ محمدیہؐ میں مبعوث کیا گیا ہے اور ہم میں سے ہر ایک فرد پر یہ فرض ہے کہ بُرائی کو مٹا کر اچھائی کا حکم دے ۔اور جو بھی انسان جانور کی طرح خود کو آزاد سمجھ کر اپنی خواہشات کیلئے اور غلط کاموں کیلئے جیتا ہے تو ہر ایک فرد کو اسکو ذلت اور حقیر نظروں سے دیکھنا چاہیے تاکہ اسکو اپنی غلطی پر احساس ہو جائے، وہ اس اپنی غلط روش سے باز آجائے۔آخر پہ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے اندر اِن حیوانی صفات کو رفع کردے اور ہمیں انسان ہونے ناطے انسانوں کی طرح زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین یا رب العالمین )
(طالبہ جامعت البنات سرینگر) ( آونیرہ شوپیان)
commirumarfarooq299@gmail.com
 

تازہ ترین