تازہ ترین

نماز۔ مسجد میں باجماعت کیوں؟

حق نوائی

تاریخ    21 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


ہلال احمد تانترے
یکم ِ ستمبر کی رات جب سید علی گیلانی اِس دنیا سے رحلت کر گئے تو پوری وادی میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سیکورٹی اہلکاروں کو جگہ جگہ تعینات کر دیا گیا۔ ہماری مقامی مسجد جو کہ گاؤں کے چوراہے پر واقع ہے ،کے باہر بھی فوج کے اہلکار ڈیوٹی دے رہے تھے۔
اگلے روز عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد ہم جوں ہی مسجد سے باہر آگئے، تو ایک آرمی والے بھائی صاحب نے پوچھا کہ آپ کیوں مسجد میں عبادت کرنے کے لیے آتے ہو، آپ اپنی نمازیں اپنے گھروں ہی کیوں نہیں ادا کرتے؟ ڈر کے مارے میں نے کہا کہ صاحب! اگر آپ کہیں تو ہم اپنے گھروں میں ہی نماز ادا کریں گے۔ اِس پر آرمی والے بھائی صاحب نے بڑے ادب کے ساتھ کہا کہ ارے نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں نے بس ایسے ہی جاننے کے لیے پوچھا کہ گھر میں کیا نماز ادا کرسکتے ہیں؟ میں نے صاحب کا ذوق پہچانتے ہوئے اْن کے سامنے یہ نہیں کہا کہ مسجد میں نماز ادا کرنا خدا کا حکم ہے بلکہ میں نے نمبر وار مسجد میں نماز پڑھنے کے فائدے گنے اور اْس کے بعد کہا کہ ہمارے دین میں نماز مسجد میں ادا کرنا اسی لیے ضروری ہے۔ اسی دوران کچھ اور بھی لوگ آس پاس جمع ہوگئے اور آرمی والے بھائی صاحب کے چند ساتھی میں ہمارے پاس آگئے۔ میں نے کہا:
۱۔ جس طرح آپ اِس وقت اپنے پورے دستے کے ساتھ ڈیوٹی دے رہے ہیں اور اکیلے ڈیوٹی دینا آپ کے ڈسپلن کے خلاف جائے گا ، اْسی طرح ہم بھی ایک ساتھ مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں۔
۲۔ اس طرح سے نماز سے یکجہتی کا برملا اظہار ہوتا ہے اور آپ ایک دوسرے کو دیکھ کر قوت یافتہ محسوس کر تے ہیں۔
۳۔ اگر محلے کا کوئی ساتھی مسجد میں آپ نے نہیں دیکھا تو آپ اْس کے بارے میں پوچھ گچھ کر سکتے ہو اور غائب ساتھی کی خیر و عافیت طلب کرو گے۔ خیر نہ ہونے کی صورت میں آپ اْس کے گھر جا کر خبر گیری کرو گے اور حسب استطاعت مدد بھی کر سکتے ہو۔
۴ ۔مسجد میں سبھی لوگ ایک ہی صف میں جمع ہوتے ہیں۔ کوئی آفسر ہو یا کوئی ماتحت، امیر ہو یا غریب، چھوٹا ہو یا بڑا، ہر کوئی ایک ہی صف میں کھڑا ہوتا ہے۔ کسی کو یہ اجازت نہیں ہوتی کہ آگے بڑھنے کی خاطر کسی کو صف سے باہر نکالے۔ اس طرح سے ہر کوئی یہ محسوس کرتا ہے کہ ہم سب ایک جیسے ہیں، کوئی چھوٹا ہے نہ کوئی بڑا۔ یہ دنیا ایک عارضی مقام ہے۔ آخر میں سب کا حالِ حشر ایک ہی ہونا ہے۔
۵ ۔ایک ساتھ جمع ہونے کی صورت میں آپ کسی سماجی مسئلے پر مسجد کے اندر بات بھی کرسکتے ہیں اور ہر کوئی اپنی رائے دے کر مسئلے کا حال پیش کر سکتا ہے۔
ان اصولی باتوں کو پیش کرنے کے بعد چند ذیلی باتیں بھی میرے ذہن میں تھیں، لیکن رات نکلنے کو تھی، ادھر سے حالات بھی ناسازگار تھے، یوں میں نے اختصار کے ساتھ ہی آرمی والے بھائی صاحب سے رخصت چاہی اور گھر کی طرف رخت سفر باندھ لیا۔
��������