تازہ ترین

سیاست ،جمہوریت ،اسلام اور مسلمان

آئینہ

تاریخ    21 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


ریاض فردوسی
سیاست عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ملکی تدبیر و انتظام۔سیاست کی اصطلاح پانچویں صدی قبل مسیح کی ہے ،جب ارسطو نے ایک ایسا کام تیار کیا، جس کو انہوں نے ''سیاست'' کہا تھا۔ارسطو نے Politike کے عنوان سے سیاست پر ایک کتاب لکھی، جسے انگریزی میں Politics کہا گیا اور یوں Polis کے معاملات چلانے والے Politicion کہلائے۔سیاست کسی گروہ کی بنائی گئی اس پالیسی کو کہا جا سکتا ہے، جس کا مقصد اپنی با لا دستی کو یقینی بنانا ہو تا ہے۔
سیاست کئی طرح کی ہو سکتی ہے، مثال کے طور پراقتدار کے حصول کے لیے،حقوق کے حصول کے لیے،مذہبی اقدار کے تحفظ کے لیے،جمہوری روایات کے تحفظ کے لیے،ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے۔سیاسی ہونے کا مطلب یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک ایسی سرگرمی ہے جو لوگوں کے ایک گروپ کے ذریعہ انجام دی جاتی ہے جس کا مقاصد کی تکمیل کے لئے کئی فیصلوں کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ سیاست طاقت کا استعمال اور پارٹیوں کے مابین پیدا ہونے والے اختلافات کو خاص معاشرتی مفادات کے حوالے سے ثالثی کا انتظام کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ پوری تاریخ میں سیاست نظاموں کے زیر اہتمام منظم سرگرمیوں کا ایک سلسلہ تشکیل دیتی ہے، ان میں سے بہت سے افراد میں مطلق العنان کردار ہیں، جہاں ایک رہنما یا چھوٹے گروپ نے اپنا معیار عائد کیا اور معاشرے کا کنٹرول حاصل کیاہے۔سیاسی جماعتیں ایسی تنظیمیں ہوتی ہیں جن کی بنیادی خصوصیات یکسانیت، آئینی وابستگی اور ذاتی بنیاد ہیں، جو قومی سیاست میں جمہوری انداز میں حصہ ڈالنے، شہری کی خواہش کا رخ اور تشکیل کے مقصد کے ساتھ بنی ہیں۔ وہ حمایتی پروگراموں کی تشکیل اور انتخابات میں امیدواروں کی پیش کش کے ذریعے نمائندوں کے اداروں میں افراد کی شرکت کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد بیلٹ باکس پر شہریوں کے ذریعہ عوامی تعاون کے ذریعے جائز اور طاقت حاصل کرنے کے لئے اپنے آپ کو مستحکم کرناہوتا ہے۔کسی بھی قوم کے لیے اس کی شناخت کو بچانا سب سے زیادہ ضروری ہوتا ہے۔ہمارا ملک بھارت امن و امان، آپسی پیار و محبت، اخوت، دوستی اور یکجہتی کا گہوارہ رہا ہے۔یہاں ہندو،مسلم،سکھ،عیسائی،آپس میں بھائی بھائی کا نعرہ تھا لیکن گزشتہ کئی سالوں سے یہاں کا اقلیتی طبقہ خاص طور پر مسلمان فرقہ واریت، ظلم و تشدد، عدم رواداری، خوف و دہشت کے سائے میں جی رہا ہے۔ ہر طرف انتشار، غنڈہ گردی، بے چینی اور بے قراری کی مغموم فضا چھائی ہوئی ہے۔مسلمانوں کی ترقی کے بڑے بڑے دعوے اور وعدوں کے ساتھ این ڈی اے کی نئی حکومت سامنے آئی تھی۔ لیکن سارے دعوے اور وعدے کھوکھلے نکلے۔مسلمانوں کی بنیادی ضرورتوں اور مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے حکومت اپنے مشن میں مشغول رہی ۔بھارت کےمیں مسلمانوں کا خیال ہے کہ ملک کی اقتصادی ترقی میں وہ اپنے آپ کو بہت پیچھے پاتے ہیں اور جو بھی حکومت آئی، اُس نے ان کے اصل بنیادی مسائل کے حل کا صرف ’وعدہ‘ کیا لیکن اس کو کبھی پورا نہیں کیا۔مسلمان اس تلاش میں رہے کہ کوئی مذہبی تنظیم، یا کوئی مسلم لیڈر اُن کی نمائندگی کر سکے ،وہ ایسے رہنما کو ڈھونڈرہے ہیں جو سیکولر ہو اور سبھی اقلیتوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو بھی ملک کی ترقی کا حصہ بنانے کا اہل ہو۔
آزادی کے بعد سے ہندوستان میں کانگریس اقتدار پر قابض رہی ہے۔مسلمانوں کا نظریہ ہے کہ گزشتہ ستر سالوں میں مسلمانوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک، آئینی حقوق سے محروم رکھنا، سرکاری اداروں، تعلیمی، سیاسی میدان میں کمزور اور تنزلی میں دھکیلنے میں اگر سب سے زیادہ کسی کا کردار ہے تو وہ کانگریس پارٹی ہے۔ٹاڈا،پوٹا،مکوکہ جیسے زہریلے قانون مسلمانوں کے خلاف ہی بنائے گئےاور جن کے تحت بچوں کاانکائونٹر کیاگیا،ہزاروں دنگے کانگریس کی دور حکومت میں ہوئے ۔ کانگریس پارٹی ستر سالوں تک محض جھوٹے وعدوں کے ذریعے نہ صرف مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرتی رہی بلکہ بھگوا فرقہ پرستوں سے خوفزدہ کرکے مسلمانوں کو ووٹ بینک بناکر اپنی کرسیاں بچاتی رہی۔بہار میں یہی کام لالو پرساد نے کیا،اترپردیس میں ملائم سنگھ بھی یہی کچھ کرتے رہےاور دیگر جگہوں پر مختلف سیاسی جماعتیں بھی اسی راستے پر چلتی رہیں۔ اس پالیسی میں اُن خود سوختہ دلال مسلم لیڈران کابھی اہم رول رہا، جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے قوم کا سودا کرکے ان کا ساتھ دیا ہے۔مسلمانوں کواس وقت بھی آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے کہ حقیقت میں جمہوریت اور آئین کے قاتل کون ہیں اور سب سے پہلے جمہوریت کو قتل کرنے کا کام کس نے کیا اور کیوں کیا ہےکہ مسلمانوں کو ہمیشہ پسماندہ اور غربت میں ہی رکھا جائے، انہیں تعلیمی اور سیاسی محاذ پر بے وزنی کا شکار رکھا جائے اور وہ اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے قابل ہی نہ رہ سکیں۔
 ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ان غیر یقینی حالات میں بھی مسلمانوں کے لب بالکل خاموش ر ہے۔جو لوگ ملت کے چودھری بنے ہوئے ہیں،بڑی بڑی تنظیمیں چلا رہے ہیں، روز اپنے کارناموں کی پریس ریلیز نکالتے اور اردو اور ہندی اخبارات میں چھپواتے رہتے ہیں،ملت کی بھلائی کے لیے بڑے بڑے چندے جمع کرتے ہیں، یہ سب لوگ بالکل خاموش ہیں، جیسے ان مسئلوں کا ان سے کوئی تعلق نہیںجبکہ عام مسلمانوں کو بھی بنا استنجاء کے لوگوں کی اتباع کی لت پڑ چکی ہے۔اپنا کوئی بھائی اگر کسی کام کا ہے تو اس کی ترقی اور کامیابی سے مسلمان خوش نہیں ہوتا،اُلٹےاُسے ایمان فروش،ضمیر فروش اور اسی طرح کے کئی ناموں سے بلایا جاتاہے۔اس کے علاوہ کوئی اگرشخص مسلمانوں کی ترقی کے لئے کوئی مثبت سوچ رکھتا ہے اور کچھ اچھا کرنا چاہتا ہے توعام مسلمان چند نام و نہاد جاہل مسلمان لیڈروںکے بہکاوے میں آکر اس شخص کے خلاف مورچہ کھول دیتے ہیںاوراُس مختلف قسم کی الزام تراشیوں کے تحت مسلمانوں کا دشمن اور مسلم قوم کا غدارقرار دیتے ہیں۔
اےمسلمانو!اپنے بنیادی اور انسانی حقوق کے لیے لڑنا ہر ایک کے لئے ضروری ہے، لڑنے کے لیے پہلے قدم پرپُر امن احتجاج کرنا ناگزیر ہے۔ بچہ جب تک روتا نہیں، شور مچاتا نہیں، ماں اسے دودھ نہیں پلاتی۔مسلمان صرف واٹس ایپ اور فیس بک کے ذریعے ہی احتجاج کرتے ہیںاورجو مسلمان کچھ زیادہ پڑھے لکھے ہیں ،وہ ٹیوٹر یا انسٹاگرام پر شور مچا کر سمجھتے ہیں کہ اُن کا فرض پورا ہو گیا ہے۔جو قوم اپنے جائز حقوق کے لئےسرِ بازارآواز اُٹھانےکی ہمت نہیں رکھتی، اُسے حقوق کبھی نہیں ملتے۔جو قوم حق کی آواز باطل کے ایوانوں تک پہنچانے کی کوشش نہیں کرتیں،وہ بذاتِ خود اپنے اور اپنے کنبے کے لئے قبریں تیار کرتی ہے۔
 تاریخ گواہ ہے کہ جب جب قوموں نے احتجاج اور دفاع کا راستہ اختیار کیا، وہ بالآخر جیتے ہیں۔اگر مسلمانوں کو ریاست اور قومی سطح سے ملنے والے امور میں شرکت کرناہے اپنی اور باقی دوسرے شہریوں کو مشترکہ بھلائی کے حصول کی ترغیب دیناہے اور بات چیت کے ذریعہ کچھ مفادات حاصل کرناہے تو سیاست میں اور سیاسی سرگرمیوں میں ملوث رہنا ہوگا۔ظلم کے خلاف ضرور آواز اٹھائی جانی چاہئے‘ ہمارے ملک کا دستور بھی اس کی اجازت دیتا ہے۔چاہے ظلم کسی پر ہو،دہلی میں جب نربھیا نام کی لڑکی کے ساتھ وحشیانہ طریقے سے زنا بالجبر ہوا تو اس وقت میں بہت سے مفتیان ،علماء اکرام اور دانش مند مسلمانوں سے کہا کہ اس ظلم کے خلاف ہمیں احتجاج کرنا چاہئے،علماء اکرام اسی بہانے زنا کی سزا کے لئے شرعی سزا کو پیش کر دیں،لیکن مسلمانوں کی زبان میں تاثیر ہی نہیں رہی ہے۔کسی نے اُن کی بات پر توجہ ہی نہیں دی۔جب آپ اپنے ملک میں ہونے والے مظالم سے پردہ پوشی کر لیں گے تو لوگ کیسے ہمارے متعلق بات کریں گے؟کیا ہم ہندوستانی مسلمان نہیں ہیں؟کیا اس ملک کے لوگوں کے لئے ہمارا کوئی فرض نہیں؟ ہم نے بولنا ،ٹکنا ہی بند کردیا ہے،بولیں گے کب؟
انبیاء علیہم السلام دین اور سیاست دونوں کے حامل ہوتے ہیں اورخود بھی سیاسی امور میں شریک اور عامل رہتے ہیں، اسلام اس معاملہ میں خصوصی امتیاز رکھتا ہے، اس کی ابتدائی منزل ہی سیاست سے شروع ہوتی ہے اور اس کی تعلیم مسلمانوں کی دینی اور سیاسی زندگی کے ہرپہلو پر حاوی اور کفیل ہے، قرآن پاک میں جنگ و صلح کے قوانین و احکام موجود ہیں، کتب احادیث و فقہ میں عبادات و معاملات کے پہلو بہ پہلو ملکی سیاست کے مستقل ابواب موجود ہیں، دین کے ماہر شرعی سیاست کے بھی ماہر ہوتے ہیں۔موجودہ دور کی گندی سیاست نے الیکشن اور ووٹ کے لفظوں کو اتنا بدنام کردیا ہے کہ ان کے ساتھ مکر و فریب، جھوٹ رشوت اور دغابازی کا تصور عام ہوکر رہ گیا ہے، اسی لیے اکثر شریف لوگ اس جھنجھٹ میں پڑنے کو مناسب ہی نہیں سمجھتے اور یہ غلط فہمی تو بے حد عام ہے کہ الیکشن اور ووٹوں کی سیاست کا دین و مذہب سے کوئی واسطہ نہیں، یہ غلط فہمی سیدھے سادے لوگوں میں اپنی طبعی شرافت کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے، اس کا منشاء توبرا نہیں ہے لیکن نتائج بہت بُرے ہوتے ہیں۔ یہ بات صحیح ہے کہ موجودہ دور کی سیاست بلاشبہ مفاد پرست لوگوں کے ہاتھوں گندگی کا ایک تالاب بن چکی ہے، لیکن جب تک کچھ صاف ستھرے لوگ اسے پاک کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھیں گے اس گندگی میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے گا، اس لیے عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ سیاست کے میدان کو ان لوگوں کے ہاتھوں سے چھیننے کی کوشش کی جائے جو مسلسل اسے گندا کررہے ہیں۔ حدیث شریف میں ہےکہ اگر لوگ ظالم کو دیکھ کر اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنا عذاب عام نازل فرمائیں، اگر آپ کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ ظلم ہورہا ہے تو انتخابات میں حصہ لے کر اس ظلم کو کسی نہ کسی حد تک مٹانا آپ کی قدرت میں ہے ،تو اس حدیث کی رو سے یہ آپ کا فرض بنتاہے کہ خاموش بیٹھنے کے بجائے ظالم کے ظلم کو روکنے کی مقدور بھر کوشش کریں(أبوداؤد شریف۔2/594)
کیامسلمانوں کو سیاست کا صحیح علم نہیں ہے!مذہبی لوگ صرف خلافت کی وکالت کرتے ہیں اور دیگر طرز حکومت کو باطل قرار دیتے ہیں بعض لوگ جمہوریت کو پسند کرتے ہیں چونکہ ہمارے یہاں عوام علماء کے زیر اثر ہوتے ہیں ،اس لیے وہ بھی جمہوریت کو پسند نہیں کرتے، غیر مسلم ممالک کے لیے تو جمہوریت پسند کرتے ہیں لیکن وہی لوگ مسلم ممالک میں آمریت کو پسند کرتے ہیں۔ جہاں مسلمانوں کے اندر طرز حکومت کو لیکر صراحت نہیں ہے وہاں کیا مسلمانوں کے اندر سیاسی فہم یا تعلیم پیدا ہوگا؟یہ بات کس طرح سے تسلیم کی جا سکتی ہے کہ ایک ملک کی آبادی کروڑوں پر مشتمل ہو اور دوسو سے زائد لوگ طاقت کے سہارے یہ دعویٰ کریں کہ حکومت کرنے کا حق صرف انہیں کوحاصل ہے تو بعد باقی لوگ جس میں اسکول کالج یونیورسٹی کے استاد ہوں، دینی مدارس کے مدرس ہوں، جج، وکلاء، ڈاکٹر، ساینٹسٹ، انجینئراور دیگر بالغ عاقل سیاسی فہم رکھنے والے لوگ ہو،اور ان کا حکومت تشکیل کرنے میں کوئی رول نہیں ہو۔وہ صرف تمام پارٹیوں کے لئے ووٹ بینک ہو۔مسلمانوں کے لئے مغرب کا موبائل جائز ہے لیکن مغرب کا جمہوریت ناجائز ہے۔دینی امور میں لفظ جمہور پسند ہے لیکن سیاست میں لفظ جمہوریت کو حرام سمجھتے ہیں۔
رابطہ۔9968012976