تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    19 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


پھرتے ہیں مارے مارے یوں وحشت کے زاغ میں
ہم کو پلا دے ساقیا کچھ غم ایاغ میں
تیرا بدن ہے گویا ستاروں کی کہکشاں
یا ہیرے ہیں جَڑے ہوئے شب کے چراغ میں
نازک بدن کو تیرے ستائیں گی تتلیاں
تنہا پھرا کرو نہ یوں خوابوں کے باغ میں
یہ لوگ میری آنکھوں سے تجھ کو چُراتے ہیں
اس بار ہم بنائیں گے نقشہ دماغ میں
کانٹوں کے ساتھ ساتھ شگوفے بھی جل گئے
ایسی لگی ہے آگ محبت کے باغ میں
جو لطف غم کی آگ میں جلنے کا ہے میاں
وہ لطفِ جاں کہاں ہے غموں سے فراغ میں
داغِ جگر نے ہے مجھے شاعر بنا دیا
واللہ کچھ تو بات ہے زخموں کے داغ میں 
 
عاشق راہی ؔ
  اکنگام اننت ناگ 
موبائل نمبر؛6005630105
 
 
خار سے بھی اے صبا پیار میں کرتا رہا
راستے میں جو ملا اپنا اُسے کہتا رہا
کب رُکا تھا میں کبھی اُن ساحلوں کو دیکھ کر 
ڈوبنے والوں کے ہمراہ میں بھی تو بہتا رہا
میں ہوں کتنا سنگدل، احساس ہوتا ہے مجھے
دوستوں کے تیر و نشتر بار ہا سہتا رہا
خواہشوں کے جال میں سے جو نکل کے چل دیا
اس دیارِ قہر میں آگے وہی بڑھتا رہا
سونے چاندی کی ہوس کس کو نہیں ہوتی یہاں
میں مسافر خالی آیا، خالی ہی جاتا رہا
پتھروں کی زد میں تیرے دل کا شیشہ ہے سعیدؔ
راستوں کے پیچ و خم سے کب تلک بچتا رہا
 
سعید احمد سعید
احمد نگر، سرینگر
موبائل نمبر؛9906355293
 
 
دل و جان لے گی نظر تو میں کہوں بڑی خاص تھی
کسی بے وفا کی تھی اگر تو میں کہوں بڑی خاص تھی
تیرے ہجر سے تیرے وصل تک یہ جو عمر میں نے گزار دی
کوئی پوچھ لے میرے ہم سفر تو میں کہوں بڑی خاص تھی
تیرے دل کی کیا حفاظتیں تجھے حُسن و ادا سے سپرکرے
میرے دل کی‌سخت پہرہ گر تو میں کہوں بڑی خاص تھی
وہ بے وفا تھی ستمگر تو جو پھر بھی اُس کا منتظر
کوئی اپسرا تھی جادوگر تو میں کہوں بڑی خاص تھی
بڑے مُدتوں کے ہجر میں وہی خواب میں میرے روبرو
میری زندگی کی وہ سحر تو میں کہوں بڑی خاص تھی
تیرے حق میں کی دعائیں جب بڑی منتیں کی تیرے لئے
میری عبادتوں کی وہ سحر تو میں کہوں بڑی خاص تھی
کوئی کر رہا تھا تر اُسے کوئی رورہا تھا لپٹ کے
میرے تصور میں وہ قبر تو میں کہوں بڑی خاص تھی 
 
معصوم ؔ فرمان مرچال
ہردہ شیوہ سوپور
موبائل نمبر؛6005809201
 
 
اس رہِ زیست سے ختم کردیئے اُجالے ہم نے
کردیا دل اک بے درد کے حوالے ہم نے 
اُس سے اُمید نہیں ہے اب خوشی کی کوئی
اُس نے جو درد دیئے تھے سنبھالے ہم نے
وقت جب آیا اُنکا تو وہ ڈستے ہی رہے
ہائے کیا سانپ تھے آستینوں میںپالے ہم نے
اب گزر جائینگے چارپل یادیں بن کر
سب خیالات اُسی کی سوچ میں ڈھالے ہم نے
ساتھ کچھ بھی نہ سوا تیرے عمل کے ہوگا
اس لئے صبر کے بھر بھرکے پیئے پیالے ہم نے
درد دل میں نہ کوئی اور نہ زبان پر شکوہ کوئی
اپنے ہونٹوں پہ چڑھا رکھے سحرؔ تالے ہم نے
 
ثمینہ سحر مرزا
بھڈون، راجوری
 
 
 
 
 
 
 
آنسوچھلک پڑے تیری تصویردیکھ کر
ٹُوٹی ہوئی یہ پیارکی زنجیردیکھ کر
آنکھوں میں جِتنے خواب تھے وہ سب بِکھرگئے 
ہنستاہوں اپنے خوابوں کی تعبیردیکھ کر
اِس زندگی میں جوبھی مِلا آپ کومُقام
آتاہے رشک آپ کی تقدیردیکھ کر
لگتاہے ہُوں گی آپ کی مجبوریاں کئی 
وعدے کوئی نبھانے میں تاخیردیکھ کر
اے کاش میں مِلوں اُسے رانجھے کی شکل میں
کِتنااُچھل گیا میرادِل ہیردیکھ کر
ہراِک سے رہ گُذرکے لئے پوچھتاہے وہ 
حیرت ہوئی ہے کارواں کامیردیکھ کر
یہ سوچتاہوں کِس طرح گُزروں گا اے ہتاشؔ
راہِ وفا میں ہرقدم شہتیر دیکھ کر
 
پیارے ہتاشؔ
دور درشن گیٹ لین جانی پورہ جموں
موبائل نمبر؛8493853607
 
 
 
تمہارے قول کے لہجے میں اجنبی نہ ملا 
ہماری بات جو سمجھے مگر وہی نہ ملا 
ملے ہیں شیخ 'فرشتے ' رئیس اور عابد 
تمہارے شہر میں بس ایک آدمی نہ ملا 
گلوں کی چیز تو خاروں کو سونپنا ہے غلط 
مزاجِ غیر کے لہجے میں شاعری نہ ملا 
مجھے خمار میں رشتوں کی سنسنی نہ ملی 
شرابِ قرب میں اب جام بدظنی نہ ملا 
بہت دنوں سے تھی خاموش میری خاموشی 
صدائے ساز میں اب شورِ خامشی نہ ملا 
ہمیں تو پیاس کی سرحد کو پار کرنا ہے 
ہماری پیاس میں احساسِ تشنگی نہ ملا 
چمک گئے ہیں ستارے نصیب کے عادل ؔ
چراغِ دل کے اجالوں میں تیرگی نہ ملا 
 
اشرف عادلؔؔ
کشمیر یونیورسٹی، حضرت بل
 موبائل نمبر؛7780806455
 
 
موسم یہ ساز گار نکلا آخر
بے رحم اب میرا یار نکلا آخر
 
ہم جس کے انتظار میں تھے اے دل
سرِ رہ وہی شکار نکلا آخر
 
 بوئے یہ بیج تھے محبت کے مگر
قاضی ہی نہ طرف دار نکلا آخر
 
جو نہ جانتا تھا یہ قتل کرنے کا فن
وہ دیکھو بے اعتبار نکلا آخر
 
 سب لائق ِ اعتبار تھے گر ،لیکن 
طلحہؔ تو ہی بے کار نکلا آخر
 
طلحہ جنید رشید راتھر 
آونورہ شوپیان
Talhajunaid688@gmail.com
 
 
قطرہ قطرہ پگھل رہی ہے
زیستِ شب ڈھل رہی ہے
 
گھیرا ڈالے ہیں تاریکیاں
شمع خاموش جل رہی ہے
 
حسین تاروں بھری یہ شب کیا
حسرت تھی اِک نکل رہی ہے
 
ہے متغّیر یہ لمحہ لمحہ
تصویر ہے کہ بدل رہی ہے
 
اک دل، نہ ہے وہ صنم کی صورتؔ
تقدیر ہاتھوںکو مل رہی ہے
 
صورت سنگھ
رام بن، جموں
موبائل نمبر؛9622304549
 
 
لب پے تیرا ہی نام آ یا ہے
زندگی کیا مقام آیا ہے
 
فکرِ ہستی سے ہم ہوے انجان
میکدے سے یہ جام آیا ہے
 
کیسی کروٹ جنون نے بدلی
خلوتِ شب میںکام آیا ہے
 
لمحہ لمحہ صلیب پر گزرا
بن کے تیرا غلام آیا ہے 
 
ہم کو آیا یقین مشکل سے
اس کے در سے پیام آیا ہے
 
ان کے در سے ہی نام میرے بھی
کیا مہکتا کلام آیا ہے
 
یاسمینہ خان
لرگام، شوپیان
 
 
تیرے ہر سوالِ دید کا جواب میں نہیں
یوں نہیں کہ تیری نظروں کا انتخاب میں نہیں
 
یہ تو شاید میں بہتر جانتا ہوں کہ اب
تیری طلبِ جہاں کا وہ خواب میں نہیں
 
بھولا نہیں ہوں وہ دورِ وابستگی کہ اب
تیری تنہائیوں کے سنگِ منزل نایاب میں نہیں
 
یہ قلمِ محبوب ہے، تمہیں حسرت جو لکھے
وگرنہ لبِ یار پر اندیشہءِ عذاب میں نہیں؛
 
کیونکر ذکرِ یار پر شائقؔ وہ تلخ مزاج ہوئے
اب اُسکی چاہتِ نامِ خراب میں نہیں
  
شائق فاروق وانٹ
بونجواہ کشتواڑ
موبائل نمبر؛9682606807
 
 
  دکھوں کی فصل کے بالید ہ تر ہونے کا موسم ہے 
سحر خیزوں سے کہہ د و دن ڈھلے سونے کا موسم ہے
 
رہا اب کے ردائوں کا تصور خوابِ گُم گشتہ
میری عریاں زمین میں چادریں بونے کا موسم ہے
 
متاعِ جان کی طرح لگا رکھا ہے  سینے  سے
جسے تا عمر لوگوں نے، وہی کھونے کا موسم ہے
 
زمینِ گُل کہاں مہکے تیری آنکھوں کی شبنم سے
خشک سالی کی راتوں میں لہو رونے کا موسم ہے
 
بنا دے میرے بچوں کا خضرؑ سے  سامنا  لازم
اندھیروں کے بیابانوں میں گُم ہونے کا موسم ہے
 
یوں خوابوں کے نگر کو درد کی آندھی نہ لے ڈوبے 
حصول رزق میں بارِ گراں ڈھونے کا موسم ہے
 
ہمیں خوش بخت لکھ دینا  اگر یہ راس آجائے
تو دامن پر لگے  داغوں کو یہ دھونے کا موسم ہے 
 
فیروزہ مجید
 ترال، کشمیر
موبائل نمبر؛9906870781
 

تازہ ترین