تازہ ترین

وجود

افسانہ

تاریخ    19 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


ناہیدہ نسیم
 آج پورا گاوں  وحشت سے لرز اٹھا تھا۔ لرزتا بھی کیوں نہیں واقعہ ہی ایسا پیش آیا تھا ۔حالانکہ ایسے واقعات تو بہت ہی سُنے تھے، بڑے بڑے شہروں میں۔ مگر ہمارے یہاں تو ایسا پہلی بار ہوا تھا۔ سب لوگ دوکانوں پر،کھیتوں میں، دفاتر میں، گھروں میں،غرض  ہر جگہ اسی بات کا چرچا كر رہے تھے۔ پڑوس کی دادی کو میں نے یہ کہتے سنا "يا اِلٰہی رحم! کیا اب ہمارے گائوں میں یہی ہونا باقی تھا؟"۔ہر جگہ کانا پھوسی، لوگ کسی گمنام عورت کو گالیاں دے رہے تھے۔ "خدا لعنت بھیجےایسے لوگوں پر۔ وہ برباد ہو جائے۔ روز محشر میں کیا منہ لّے کر جائینگے۔ ان ہی حرکتوں سے ہماری یہ حالت ہے ۔ بجلیاں نہ گریں، سیلاب نہ آئے تو اور کیا ہو گا؟" بھیڑ میں سے ایک ادھیڑ عمر کے مرد نے کرخت لہجے میں کہا۔
آخر واقعہ بھی تو اتنا بڑا تھا۔ سنسان کھیتوں میں کسی نوزائید بچے کوایک  ڈبے میں رکھ کر کوئی چلا گیا تھا، کتوں اور دیگر جانوروں کے کھانے کے لئے۔  شاید کئی گھنٹوں سے وہ وہاں روتا، بلکتا رہا ہو گا۔ اُس کی قسمت اچھی تھی یا پھر کہیے بری کہ وہاں گھاس کاٹنے گئے ایک شخص نے اسکے رونے کی آواز سنی ۔ جھاڑیوں میں کھوجنے پر جب اس نے ڈبہ اپنی اور کھینچا تو اس کے منه سے زور دار چیخ نکلی۔ ڈبہ وہی رکھ کر پیچھے چلا گیا۔ اسکی چیخ سن کر اور لوگ وہاں جمع ہوئے۔ چند لمحوں میں سارے علاقے میںیہ خبر جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی۔ پولیس کواطلاع دی گئی۔ جب تک پولیس وہاں پہنچی لوگوں کاایک بڑا ہجوم  جمع ہو چکا تھا۔
پولیس کو وہاں پہنچتے پہنچتے دو تین گھنٹے تک کہ وقت لگا۔ لیکن تب تک کسی نے اس بچے کو اس ڈبے سے باہر  نہیں نکالا تھا۔ وہ روتا رہا ۔اس کی نال تک کسی نے نہیں   باندھی تھی۔ وہ  الف ننگا تھا۔ ہلکی ہلکی سردی کا موسم تھا اور اُس کے ننھے سے جسم پر چھوٹے چھوٹے بال سردی سے کھڑے ہوگئے تھے۔ ڈبہ اتنا چھوٹا کہ وہ اپنے ہاتھ پیر بھی پوری طرح نہیں ہلا پا رہا تھا۔ اُس کے معصوم جِسم پر کئی ساری خارشیں آئی تھیں ،جو اس کے خون آلودہ جِسم پر صاف نظر آ رہی تھیں۔
سب لوگ اس کی حالات کو دیکھ کر اُف اُف کر رہے تھے۔ زمانے کو کوس رہے تھے۔ پر کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اس کو گود میں لے کر اس کے جِسم کو گرمی فراہم کرتایا اُس کی نال باندھتا یا اس کا خون سے لت پت جِسم صاف کرتا۔ نا ہی کسی میں یہ غیرت تھی کہ ایک معصوم، بےگناہ جان پر خوفِ خدا سے ہی سہی اس کے اوپر ایک کپڑاڈالتا۔ خیر وہ کرتے بھی کیوں؟۔ جب اس کے پیدا کرنے والوں نے اس کو وہاں مرنے کے لئے چھوڑا تھا۔ کتوں کی غذا بننے کے لیے چھوڑا تھا تو وہ مہذب اور پاک لوگ کیوں کر اس کو  ہاتھوں میں لیتے۔۔ شاید وہ بھی ناپاک ہو جاتے۔ 
آخر جب پولیس وہاں پہنچی انھوں نے بھیڑ کو ہٹا کر ڈبا اُٹھا لیا۔ اس میں سے ایک گلابی رنگ کے بچے کو نکالا اور گاڑی میں پڑے کپڑے سے اس کا جسم صاف کیا اور اِسی کپڑے میں اس کو لپیٹا۔ کچھ پوچھ تاچھ کر کے پولیس کی گاڑی اس معصوم  بچے کو ساتھ لے کر چلی گئی۔
اب گاؤں کی ہر گلی ، کوچے اور نکڑپر یہی چرچہ ہو رہا تھا کہ آخر وہ بچہ كس کا تھا اور اس کو وہاں چھوڑنے والا کون تھا؟ ہر گھر میں خوف چھا گیا۔ مائیں اپنی بیٹیوں کو نصیحتیں کرنے لگیں کہ شرم و حيا کا زیور پہن کر چلیں۔ زینت کی اماں بھی اس کو نصیحت کرنے لگی " بیٹی کبھی ہمیں شرمندہ نہیں کرنا"۔
زینت رات بھر اس واقعے کے  بارے میں سوچتی رہی۔ اُس کے دماغ میں کئی سوالات اٹھے۔ کیا یہ پہلا ایسا گناہ ہے جو اس گائوں میںرونما ہوا؟ کیا پہلی بار کوئی لڑکی کنواری ماں بنی تھی؟ ان سوالات کے  جواب بھی  وہ خود ہی ڈھونڈنے لگی۔ "ایسے تو ہزاروں واقعات ہر شہر میں ہوتے ہیں اور يہ نا جائز پھول اکثر اندھیری راتوں میں، ندی نالوں میں،کچرے کے ڈھیر وں میں اور گمنام قبروں میں دم توڑتے ہیں۔"
زینت رات دیر تک یہی سوچتی رہی "کیا ہمارا سماج اِس گناہ کا ذمہ دار نہیں؟ کیا ماں باپ شریکِ گناہ نہیں؟ شریک گناہ تو سماج اور ماں باپ بھی  ہیں۔ پر کوئی اِنہیں شریک گناہ نہیں ٹھہراتا۔ ہمارے سماج کے عزت دار لوگ اور شرفا ء گھروں میں نوکر چاکر رکھ سکتے ہیں، شادیاں بڑی دھوم دھام سے کر سکتے ہیں، بڑے بڑے بنگلے بنا سکتے ہیں، ہر طرح کی فضول خرچی کر سکتے ہیں پر وقت پر اپنے بچوں کی  شادیاں نہیں کر سکتے۔ آخر ان کے پاس ایک بہت بڑی وجہ جو ہوتی ہے۔"میرا بیٹا ابھی کماتانہیں ۔ یا یوں کہیے کہ سرکاری ملازمت نہیں ہے"۔ المیہ تو یہ ہے  کہ جديدیت کے اس دور میں بھی ہمارے یہاں بائیس پچیس سال کی عورت کو بچی ہی کہا جاتا ہے اور اسی عمر کے مرد کو بچّہ۔ یہی بچیاں اور پھر بچے ایسے گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں جو ہمارے سماج کے لئے ایک شرمسار داغ  بن جاتا ہے ۔" ان ہی خیالات میں گم جانے کب زینت کی آنکھ لگ گئی۔
اگلے دن بھی یہ واقعہ گائون بھر میں تر و تازہ تھا۔ دوپہر ہونے تک سارے گاؤں میں خبر پھیل گئی کی نوزائید ہ بچے کو سالوں سے بچے کے لئے ترستے کسی جوڑے نے گود لیا اور اُس کو اپنا نام دیا۔
ایک ہفتے کی کھوج اور کوشش کے نتیجے میں پولیس آخر کار گنہگاروں تک پہنچی۔ یہ گھناونا کام بوڑھی دادی کے بائیس سالہ  پوتے  عثمان اور پاس ہی کے گاؤں کی اکیس سال کی لڑکی رابعہ نے کیا تھا ۔ اس گناہ میں شریک نرس، دواساز اور ساتھ دینے والے کئی اور لوگوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ہر جگہ رابعہ اور عثمان پر تھو تھو ہو رہی تھی  ۔ کئی روز  تک دونوں کو حوالات کی ہوا کھانی پڑی ۔ زینت نے تو اپنی سہیلیوں سے عثمان  کے جِسم پر پڑے زخموں کے  نشانات کے بارے میں بھی سنا تھا۔ کسی نہ کسی طریقے سے عثمان اور رابعہ کے ماں باپ نے اُنہیں حوالات سے چھڑایا۔ کئی ہفتوں تک گاؤں والوں نے عثمان کی شکل تک نہیں  دیکھی۔
حوالات سے تو رہائی ملی پر سماج، پڑوسی، گھروالے اور ان کا ضمیر اِنہیں کبھی معاف کرے گاکیا؟ اتنی بدنامی کے عوض  کوئی اِنہیں قبول کر پاتا؟ ایک دو مہینوں تک لوگ اس مسئلے کا ہل ڈھونڈنے کی کوشش کرتے رہے۔اب گاؤں کے مولوی ، عزت دار اور رہنما لوگوں  نے یہ فیصلہ لیا کہ دونوں کا  نکاح پڑھایا  جائے۔ خاموشی سے مولوی صاحب نے اِن کا نکاح پڑھا۔عثمان  رابعہ کو دلہن بنا کر گھر لے گیا ۔ 
اب سوال تھا کی بچے کا کیا کیا جائے؟۔ جن لوگوں  نے نکاح کرانے کا فیصلہ کیا اُنھوں نے ہی یہ فیصلہ بھی کیا کی بچے کی اچھائی اور بہتری اسی میں ہے کہ اُس کو گود لئے جوڑے کو ہی سونپ دیا جائے۔
مہینے بھر کے بعد یہ مسئلہ ٹھنڈا ہونے لگا۔ کچھ ماہ کے بعد گاؤں کی خسر پُھسر ختم ہونے لگی اور لوگ اس بات کو ایسے بھول گئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ سب نے عثمان اور رابعہ کو کسی عام جوڈے کی طرح اپنایا۔
لکین زینت ہر وقت کچھ اور ہی سوچتی  رہتی۔ اُس  کے دِماغ میں ہر وقت خلشِ پیدا کرنے والے سوالات اُٹھتے۔
کیا اس واقعہ کی حقیقت اُس جوڑے ، جس نے اس بچے کو اپنایا تھا، کے دلوں میں خلشِ پیدا نہیں کرے گی؟۔
کبھی اُسکی شرارات کرنے پر یا کوئی غلطی کرنے پر اُن کے دلوں میں اُس کے وجودِ ذات پر سوالات نہیں اٹھیں گئیں؟۔ یا اُنکی محبت میں کمی نہیں آئیگی؟۔
کیا اُس کو کبھی اپنے  حیاتیاتی  والدین کے بارے میں پتہ نہیں چلے گا؟ اگر پتہ چلا تو اس کا رویہ کیسا ہوگا؟ اور اگر کبھی ان کے درمیان مُلاقات ہوئی تو عثمان اور رابعہ کس  وجود سے اس کا سامنا کریں گئیں اور وہ اُن سے کیا پوچھے گا؟
���
اسسٹنٹ پروفیسر 
گورنمنٹ ڈگری کالج حاجن، بانڈی پورہ 
nahidanaseem1985@gmail.com

تازہ ترین