تازہ ترین

عجب ہیں یہ دل کے موسم

خیال اپنا اپنا

تاریخ    11 ستمبر 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر فلک فیروز
؎عجب ہے دل کاموسم تیری ملاقات کے بعد
جیسے جلتا ہوا کوئی جنگل برسات کے بعد
موسم کی کیفیت کومحسوس کرنا ہر فرد کے اختیار میں ہے اس اختیار کو یہ اعتبار بخوبی حاصل ہے کہ موسم کی فضاؤں کو نوید یا بدمزگی کے ساتھ حصول پا سکے ۔ موسم کا ہر حال حسب حال کی سی نوعیت رکھتا ہے جس میں گرمی کی شدت ، ٹھٹھرتی سردی کی اذیت ناک تکلیف، خوشگوار فضاؤں کا حسین احساس، برسات میںراحت کا سانس وغیرہ ۔ طالب علمی کے زمانے میں ہمیں پڑھایا جاتا تھا کہ سال میں چار موسم ہوتے ہیں موسم بہار، موسم گرما، موسم خزاں، موسم سرما، جن کا اپنا اپنا الگ مزاج ہوتا ہے اور ہر موسم اپنے آپ میں الگ الگ خصوصیات کا مالک ہے ۔ موسمی تبدلی کا اثر انسانی تہذیب کی آبادکاری کے لئے انتہائی لازمی ہے جس سے ایک توازن قائم رہتا ہے اس توازن میں انسانی جسم کے اعضاء کی نشو و نما بھی خاصی ہوتی ہے جس کا سب سے بڑا اثر انسانی دل پر پڑتا ہے ۔ ضروری نہیں کہ انسانی دل پر وہی موسم اثر انداز ہو جائے جس کا چلن ظاہری صورت میں زماں و مکاں کے لحاظ سے ہو۔ سخت گرمی کے موسم میں بعض انسانوں کا دل سردی محسوس کرتا ہے ،سرد ہواؤں سے آشنا ہوتا ہے اس طرح سے دل کا موسم اپنی ایک الگ دنیا آباد کرتا ہے جہاں بنجر زمین گھل کھلانے کا بندوبست بھی کرتی ہے اور گلزار ہائے چمن میں رنگین پھول کھلانے کا منصوبہ تیار کیا جاتا ہے ۔ 
’’دل کی ویرانی کا کیامذکور یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا‘‘ کی مانند بھی ہوتا رہتا ہے اس نگر کو لوٹ جاتا ہے چوری کی جاتی ہے، ڈکیتی ڈالی جاتی ہے، آگ لگا دی جاتی ہے، سیلابی صورتحال پیدا کی جاتی ہے، قحط سالی بھی ہو جاتی ہے اور دل خون کے آنسو رونے پر مجبور ہو جاتا ہے ،ظاہری موسم کا حال چاہئے خوشگوار ہی کیوں نہ ہو لیکن دل کا موسم الگ ہی تاپ ماں رکھتا ہے۔ عجیب صورت حال اس وقت نظر آتی ہے جب ظاہری یا دنیاوی سطح پر رقیبوں کے دل جل جاتے ہیں تو عاشقوں کے دل میں برسات کا موسم ہوتا ہے جہاں جھوم جھوم کر ہوائیں نغمہ خواں ہوتیں ہیں اور ستارے خوشی خوشی چاندنی کا طواف کرتے ہیں باغبان چمن کو نئے سرے سے تیار کرنے کی کوششیں کرتا رہتا ہے اور اس طرح سے عاشقوں کے دلوں کا موسم نئی اور نرالی شان پیدا کرتا ہے ۔؎
نہ کوئی غم خزاں کا ہے نہ کوئی خواہش ہے بہاروں کی
ہمارے ساتھ ہے امجد کسی کی یاد کا موسم 
(امجد دیاآبادیؔ )
یہ رم جھم ،یہ بارش ،یہ آوارگی کا موسم 
ہمارے بس میں ہوتا تیرے پاس چلے آتے 
دل انسانی زندگی کا وہ محور و مرکز ہے جس سے انسان زندہ رہتا ہے اور دنیا کی رعنائیاں حاصل کر کے ان سے لطف اندوز ہو جاتا ہےاگر آدمی کا دل کبھی پریشان ہو جاتا ہے تو زندگی بھاری بوجھ معلوم ہوتی ہے جس سے کسی بھی صورت میں چاہتے ہوئے بھی جینا ہی پڑتا ہے اور اس جینے کے چکر میں ہزار نئے زخموں سے آشنائی ہو جاتی ہے جنھیں بھرتے بھرتے انسان عمر پیری کا رخ کرتا ہے اور اس عالم میں دل کا حال بے حال سا نظر آتا ہے جہاں وہ دوسروں کے دل کی خوشی کا محتاج بن کر رہ جاتا ہے حالانکہ اس نوعیت کے معاملات زندگی بھر رہتے ہیں کہ دوسروں کی خوشی کے لئیے کسی ایک کو اپنی خوشیاں قربان کرنی پڑتی ہے بعض اوقات تو اس کشمکش میں دل سے بھی ہاتھ دھوناپڑھتا ہے اور پھر اکیلے پن یا تنہائی سے ہی دوستی کرنی پڑتی ہے یہ دوستی مظبوط اور جاندار نظر آتی ہے ۔ 
دل کے موسم کو مختلف اردو شعراء نے اپنی شاعری میں استعمال کیا ہے میر تقی میرؔ کے یہاں دل کی دنیا ویران بھی نظر آتی ہے اور آباد بھی ان کی شاعری میں دل کی دنیا ستم زدہ بھی ہے اور مفلس کے چراغ کی مانند بھی۔ میر کی شاعری میں جو دل نظر آتا ہے وہ شہر دلی کی طرح خستہ بھی دکھتاہے ۔ یہاں تک کہ فوجی چھاونی کے ہتھیار بند فورس بھی اس میں موجود نظر آتے ہیں۔ غالب کے یہاں جس دل کا ذکر ہوا ہے وہ دل تیر نیم کش کی لذت سے آشنا ہے اور ایک معصوم بچے کی طرح نادان بھی مگر اس میں دکھوں کا انبار بھی موجود ہے انہیں یہ بھی شکایت ہے کہ اگر قدرت نے غم اتنے دیے ہیں تو دل بھی دو دئیے ہوتے گویا غالبؔ کے یہاں دل ایسی جگہ ہے جہاں پر غموں کو آباد رکھا جاتا ہے ۔ اقبال کی تخلیقات میں جس دل کا ذکر ہوا ہے وہ دل اکثر ہمت جذبہ اور شوق سے لبریز نظر آتا ہے جہاں پر مایوسی کفر سے کم نہیں بلکہ موت کے مترادف ہے ۔ وہ اکثر دل کو شاد رکھنے کا مشورہ صادر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دل کا پاکیزہ ہونا زندہ دلی کی علامت ہے ۔جنگ عظیم اول اور دوم کے نتائج کے بعد کلہم انسانی آبادی کو جس صورت حال سے گزرنا پڑا اس میں دکھ ،تنہائی اور افسردگی اپنا اثر نمایاں رکھتی ہیں ۔انہی حالات کا ذکر دل کی دنیا کو لے کر کے جدید ادب میں ملتا ہے ۔ بقول حکیم منظور : 
اب کہ میرا کعبہ دل دشمنوں کی زد میں ہے 
پھر مدد کرنا ابابیلوں کے لشکر بھیجنا 
ہونے اور نہ ہونے کے درمیان دل خون کے آنسوں رونے پر بھی مجبور ہوکر رہ جاتا ہے جس مجبوری کا یہ قرینہ اصل معلوم ہوتا ہے وہ بھی نرالی کائنات کی مالک ہوتی ہے مجبوریاںایسی جن کاکوئی واضح حلیہ نہیں جس کا کوئی مقام نہیں ،جس کا کوئی نام نہیں ہے، یہ بے نام مجبوری آدمی کو بدنامی کا داغ دینے سے بھی کتراتی نہیں ہے بلکہ ہر اصول اور سچائی کو مار ڈال کر ہی آدمی کی جان لیتی ہے ،جس آدمی کی جان جاتی ہے اس کادل حسرتوں کے بوجھ سے پُر ہو کر خالق حقیقی سے جا ملتا ہے اور اپنے پیچھے بے نام کہانیاں لکھ چھوڑتا ہے جو کہ عوام الناس کے لئے نئے موضوعات کو جنم دیکر گفتگو کا مرکز بن جاتے ہیں۔ اس عمل میں نئی ہزار داستانیں وجود میں آجاتیں ہیں جو نئی دل کی کہانیاں رقم کرتی ہے اور یقینا ہر نئی کہانی کا موضوع دل کی ویرانی یا دل کی بربادی سے ہی شروع ہو جاتا ہے ۔ دل کی دنیااس عجب کائنات کی مالک ہوتی ہے جہاں کسی کی بادشاہت کا سکہ بھی نہیں چلتا صرف اگر چلتی ہے تو بس اک دل کی حکمرانی ، حکمرانی بھی ایسی کہ نہ کسی بادشاہ کا تخت ہوتا ہے نہ کوئی رعایا ہوتی ہے نہ بادشاہی فوج کی کوئی کمک، نہ نوکر چاکروں کا کوئی چکر اور نہ ہی ہوائی جہازوں کی اڑان، نہ ریل گاڑی کا سفر، نہ بس کرایہ کا جھنجھٹ وہاں اپنی خود کی گاڑی چلتی ہے جس کے ٹائر زمین پر نہیں تخیل میں چلتے ہیں ۔
حضرت آدم کی حوصلہ افزائیاں اس بات میں پوشیدہ ہیں کہ کس قدر دل کی دنیا وسیع و عریض وسعتوں کی مالک ہیں جہاں دنیاداری ،دینداری دونو ںسما سکتی ہیں جن کا جمالیاتی حسن اپنا الگ الگ انفراد رکھتی ہیں ایک طرف روحانی فیض یابی اور دوسری طرف مادی خواہشات کا کارِ انبار دونوں صورت کی اندرونی کشمکش میں آدمی بیچارہ ہوا میں معلق لٹکتی تلوار کی تیز دھار پر نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم کی سی خلش سے جو جھتا رہتا ہے۔
ایک دل بیچارہ کس طرح ان تمام صدموں کو برداشت کر سکتا ہے، کن کن طعنوں کو سہہ سکتا ہے، کن کے اصول کا پابند رہ سکتا ہے قناعت بھی کار رستم والا معاملہ ہے جس کا اطلاق ہر جگہ ممکن نہیںہے ۔ دل ہی انسانی جسم کا ایک ایسا عضو ہے جس پر بربادی اور شادمانی کے اثرات کم یا زیادہ مرتب ہوتے رہتے ہیں انہی حالات کے پیش نظر دل کے ساتھ نئے مختلف نام جوڑے جاتے ہیں جیسے دلِ ناشاد، دلبر،دلِ فگار، دل جلا ، دل سوز، دل نشین، دلِ ناصور، دل بے درد، دل پھینک، دل لگی، دلِ مضطر، دل اجاڑ، دل باختہ، دل باز، دل بجھا، دل جگر، دل  وجان ، دل خراش، دل زدہ، دلِ زار، دل ساز، دل سنگ، دل شگاف، دل فروش، دل ا فسردہ، دل فزا، وغیرہ۔
دل کی مرکزی حیثیت کو سامنے رکھکر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دل ہی ایسی  شئے ہے جس میں تمام دنیا کی وسعتیں سمائی جاتی ہیں ۔کسی سے محبت کے ہےنقوش دل میں ہی مثبت ہوتے ہیں کسی سے نفرت کا غبارہ انسانی دل سے ہی اٹھتا جس کسی کی بھی عزت لازم ہوتی ہے اس کا دل سے آنا ضروری تصور کیا جاتا ہے کچھ لوگ صرف زبان سے دعویٰ کرتے ہیں اور دل منکر ہوتے ہیں لیکن بہت سارے لوگ دل سے دعویٰ پیش کرنے کے باوجود بھی زبان بند رکھتے ہیں ۔ دل کی آبادی ، اس کی ویرانی، اس کی شادمانی,اس کی تباہ کاری اور بربادی سے جڑی مختلف صفتوں کا استعمال اہل زبان روز مرہ گفتگو میں کرتے ہیں ۔ 
’’دل کا پردہ ‘‘سے عام لغوی معنیٰ میں مراد ہے ’’ دل کا حجاب یا شرم و حیا‘‘ جس کا استعمال معنوی سطحوں پر یا اصطلاحی سطح پر متعدد مقامات پر کیا جاتا ہے اس اسم کیفیت میں شرم وحیا یا دل کے حجاب کا اُٹھ جانا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دل کا پردہ نہایت مائل اور معین مانا جاتا ہے جو اگر پھٹ گیا تو انسان کو زندگی سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ ہر انسان اپنی خوشی کے مطابق دل بہلاوئے کا سامان فراہم بھی کرتا ہے اور خریدنے کا متمنی بھی ہوتا ہے لیکن کچھ اوقات میں اس خرید و فروخت کی قیمت ادا کرنا مشکل بن جاتا ہے یہاں دل کا سوداہوتے ہوتے ہی رہ جاتا ہے جس میں دل کا تنگ ہونا ،دل کا حوصلہ کم ہونا استلزامی امر ہے نتیجتاً دل کا بخار شروع ہو جاتا ہے اور دل کا بہلاوا محض علامت بن کر رہ جاتا ہے اس کیفیت کو مختلف شعراء اپنے کلام کے ذریعئے سے سمجھا سکتے ہیں بقول غالبؔ 
؎دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ  یہ خیال اچھا ہے 
 اب قاری پر منحصر ہے کہ ان کے دل کو بہلانے کے لئے کون سا خیال اچھا ہے ۔ آپ اور ہم بھی اپنے اپنے خیالوں کی دنیا میں کھو کر یہ طے کریں کہ کون کون سا خیال ہمارے دل کے بہلاوے کے لئیے صحت مند اور صحت بخش ہے ۔ مقدس اور مذہبی کتابوں میں دل کی اہمیت کو قدرے مقدس لکھا گیا ہے جہاں سے تمام اعمال کا ازل ہونا شروع ہو جاتا ہے کیونکہ دل ہی ایک ایسی واحد شئے ہے جس کی تمام ترخبریں صرف قدرت کے علم میں ہے اور انہی اصلی خبروں کی بنیادی نیت پر ہی انسانی آبادی کی ترقی یا بربادی طّے ہیں جس سے ہم سب واقف ہیں ۔
دل کا موسم ان حالات سے قدرے واقف ہیں جن حالات سے عوام الناس کو سیدھا راستہ اختیارکرنا ہوتا ہے یا کہ غضبی راستہ دکھا یا جاتا ہے اور اختیار کرنے کا حوصلہ فراہم کیا جاتا ہے ۔ آدمی ہر حالت میں دل کے موسم کا محتاج ہے نیز محتاجی کے عالم میں نئے نرالے سوال ،جواب وجود میں آجاتے ہیں جہاں سے نئی سبق آموز کہانیاں جنم لیتی ہیں جیسے ’’دل کا کیا قصور‘‘، ’’دل ہے کہ مانتا نہیں ‘‘، ’’دل والے دلھنیاں لے جائنگے‘‘، ’’دل جلے ‘‘ ’’دل تیرا دیوانہ ‘‘، ’’دل رازی ہے ‘‘، ’’دل والے ‘‘، ’’دل کی دھڑکن‘‘، ’’دل گواہ ہے ‘‘، ’’دل کا رشتہ ‘‘، ’’دل کی دھڑکن‘‘، ’’ دل کا گاہک ‘‘، ’’دل کا غبار‘‘قابل ذکر ہیں ۔ 
ہر کسی کے دل کا غبار ہمیشہ کے لئے کبھی نہیں نکلتا ہے ہاں ہوا میں ضرور واں ہو جاتا ہے یا کہ پھٹ جاتا ہے جس کی چھینٹیں چار سو پھیل جاتی ہیں اور اس پھیل جانے کے عمل میں نئے ہنگامے جنم لیتے ہیںجن کی آخری منزل شدت کی بنیاد پر یا تو جیل کی سلاخیں ثابت ہوتیں ہیں یا پھر قبریں منتظر :
دہن واکردہ قبریں منظر ہیں 
یہ جشن زندگانی شام تک ہیں
(حامدی کاشمیری ؔ)
نازکی ان کے دل کی کیاکہیے جو معمولی سی باتوں سے بھی ٹوٹ جاتے ہیں جنھیں دنیا کی کوئی دواء جوڑنے سے قاصر ہیں یہاں تک کہ ماہر سے ماہر طبیب اور سرجن اگرچہ دل کا ااپریشن کرتے ہیں پیس میکر ڈال لیتے ہیں جو کہ سائنس کی سب سے بڑی دین بھی اور ترقی بھی ہے لیکن کیا کیجئے توٹے دل کو جوڑنے کا کام کسی کے بس کی بات نہیں ہے ۔ یوں کہئے کہ یہ چیزیں بس میں ہیں صرف وقت کی جو ہر زخم کو سی لیتا ہے ہر مرض کا مداوا ہے اور ٹوٹے دل کو جوڈنے والا، جی ایسا جوڑ دینے والا کہ کوئی یقین نہیں کر سکتاہے۔
دل نادا ں تجھے ہوا کیا ہے 
آخر اس درد کی دوا کیا ہے 
(غالب ؔ)
������

تازہ ترین