تازہ ترین

تفرقہ پروری قرآن اور صاحبِ قر آن ؐ کی نظر میں

اسلام ملی شیرازہ بندی کی تعلیم دیتا ہے

تاریخ    13 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


شہنواز مصطفوی
جسدِملت میں تفرقہ پروری اور فرقہ پرستی کازہر اس حد تک اثر کر چکا ہے کہ نہ صرف اس کے خطرناک اثرات کا کما حقہ احساس و ادراک ہر شخص کے لئے ضروری ہے بلکہ اس کے تدارک اور ازالے کے لئے موثر منصوبہ بندی کی بھی اشد ضرورت ہے۔ ہمارے ارد گرد تیزی سے جو حالات رونماہو رہے ہیں ان کی نزاکت اور سنگینی ہمیں اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم نوشتہ دیوار پڑھ لیں اور اپنے درمیان سے نفرت ،بغض، نفاق،اور انتشار و افتراق کا قلع قمع کرکے یکجہتی اوراتحاد بین المسلمین کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوشش کریں کہ اسی میں ہماری فلاح اور بقاء اور نجات مضمر ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:(ترجمہ )’’ اے ایمان والو !اللہ سے ڈرو، جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو اور سب مل کر اللہ کی رسی کو پکڑ لو اور جدا جدا نہ ہونا ،یاد رکھو اللہ کی وہ نعمت (جو اس نے) تم پر فرمائی، جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے،پس اس نے تمہارے دلوں میں باہمی محبت و الفت پیدا کردی اور تم اللہ کی نعمت سے آپس میں بھائی بھائی بن گئے‘‘۔ آیت کریمہ سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو فرماتے ہیں کہ وہ تقوی اختیار کریں یعنی اللہ تعالی سے اس طرح ڈریں، جس طرح ڈرنے کا حق ہے۔ یہ حکم تمام اہلِ اسلام کے لئے ہے کہ ان کی زندگی کا کوئی لمحہ خوفِ خداوندی سے خالی نہ ہو اور جب زندگی کا سفر تمام ہو جائے اور موت کی گھڑی آپہنچے تو وہ بھی حالتِ اسلام میں ہی آئے۔ اس کے بعد ہمیں اللہ کی رسی یعنی دین محکم کو مضبوطی سے تھام کر باہمی اتحاد واتفاق کی تلقین کی گئی اور تفرقہ و انتشار سے بچنے کی تلقین اور تاکید کی گئی ہے اور اس احسان کا ذکر کیا گیا ہے کہ کس طرح اللہ عزوجل نے ہمیں آگ کے گڈھے کے کنارے یعنی یقینی تباہی سے بچا لیا اور نفرت وکدورت کی جگہ ہمارے دلوں میں باہمی محبت ڈال دی۔ گویا اللہ تعالی تلقین کرتے ہیں کہ باہمی اتفاق اسی کی عطا کردہ نعمت ہے جو معاشرتی کامیابی کی ضمانت ہے ،اس لیے مسلمانوں پر ایک مضبوط اسلامی معاشرے کے قیام کےلئے دو قسم کی ذمہ داری عائدہوتی ہے ۔ایک انفرادی اور دوسری اجتماعی ۔  اسلامی معاشرے کی کا میابی کی شرط اولین یہ بیان کی گئی ہے کہ انفرادی حیثیت سے ہر فرد اپنی اپنی جگہ اپنی ذمہ داری مقدور کے مطابق ادا کرے ۔مسلم معاشرے کے تمام افراد کا اپنے اندر انفرادی ذمہ داری کے احساس کا اُجاگر کر لینا کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے کیونکہ اصلاح احوال کی طرف پہلا قدم ہی تقویٰ کو پوری زندگی میں جاری و ساری کرنا قرار دیا گیا ہے۔ آیت مذکورہ میں (ولا تموتن الا وانتم مسلمون ) کہہ کر انتہائی اہم نکتہ سمجھادیا گیا ہے کہ جینا اور مرنا سب کچھ اللہ کے لئے ہو ،یہ زندگی بھی اسلام کی نظرہو اور موت بھی اسی کی نظرہو ۔دوسرے الفاظ میں یہ سمجھیں کہ انفرادی ذمہ داری کا معنی یہ ہے کہ بجائے دوسروں کو تعن و تشیع کا نشانہ بنانے کے ہر انسان اصلاح احوال کا آغاز خود اپنی ذات سے کرے، وہ جہاں کہیں بھی جس حیثیت سے ہو ،سب سے پہلے اپنی اخلاقی ذمہ داری نبھائے ۔دوسروں سے اصلاح کی توقع کرکے نہ بیٹھا رہے ۔اس وقت ہماری خرابی یہ ہے کہ ہم اپنی انفرادی ذمہ داری عملاً نبھانے کے بجائے دوسروں کو مورد الزام اور تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں اور اس طرح یہ تفرقہ پروری اور فرقہ پرستی کا زہر ملت اسلامیہ کو کھوکھلا کرتا جارہا ہے شاید اسی ليـے شاعر رقم کرتا ہے۔ ؎
تو اِدھر اُدھر کی بات نہ کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے
لومڑی اگر جانور کو ریوڈ سے اٹھا کر لے جائے تو لومڑی کو گالیاں دینے کے بجائے اس ریوڈ کے چرواہے اور نگہبان کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلانا چاہئے کیونکہ شکاری کا کام ہے شکار کرنا، یہ تو اس چرواہے کی غفلت کا نتیجہ ہے کہ لومڑی اس جانور کو اٹھا لے جانے میں کا میاب ہوگئی۔
اسلامی معاشرے کو صیح راستے پر منظم کرنے کی ذمہ داری تمام اُمتِ مسلمہ پر ہی ڈالی گئی ہے۔ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ زمانی و مکانی حدود سے ماوراء قیامت تک تمام نسل انسانی کے لئے ہے ۔اس لئے اجتماعیت کا تصور اسلام کی فطرت کا جزولاینفک ہے۔ اجتماعیت اسلام کے رگ وریشے میں اس طرح سمائی ہوئی ہے کہ حقوق اللہ ہو یا حقوق العباد، ہر جگہ اس کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے کیونکہ شجر اسلام کو زمانے کی بلاخیزیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے قرآن کریم کی تعلیمات اور نبی اکرمؐ کی سیرت طیبہ ہی مشعل راہ ہے ۔اس لئے فرقہ پرستی کے بلا خیز طوفانوں سے نبردآزما ہونے کے لئے بھی جس ضابطہ عمل کو اپنانے کی ضرورت ہے، وہ قرآن و سنت کے تصورِ اجتماعیت پر مبنی ہونا چاہئے۔ قران ہمارے ایک ہونے پر واضح ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے (واعتصمو بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقو) اور تم سب مل کر مظبوطی سے اللہ کی رسی کو پکـڑ لو اور جدا جدا نہ ہونا،  یہ آیت ربّ کی طرف سے بندوں کے لئے دواحکام کو واضح کررہی ہے۔ پہلا،تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مظبوطی سے تھام لو اور دوسرا خبردار! تم باہمی تفرقہ اور انتشار کا شکار نہ ہونا ۔اس میں واضح اور غیرمبہم طور پر فرقہ پرستی اور تفرقہ پروری کی مذمت کی گئی ہے بلکہ اس آیت میں اخوت اور اتحاد(Brotherhood and Unity) کی دعوت اور تفرقہ وانتشار(Bifrication) کی مذمت کی گئی ہے۔ یہاں بڑی وضاحت کے ساتھ امت واحدہ کے تصور کو اذہان اور قلوب میں جاگزین کیا گیا ہے کہ ظہوراسلام کا بنیادی مقصد نسل ورنگ ، شعوب و قبائل ،فرقہ بندی جماعت بندی پر مبنی عصبیت و تفاخر کے بتوں کو توڑ کر تمام نسل انسانی کو ایک مرکز پر لانا اور دائمی وحدت کے رشتے میں منسلک کرنا ہے ۔ مسلمانوں کے باہمی محبت اور رحمت و مودت کی مثال ایسی ہے جیسےایک ہی جسم ہو ،جس میں ایک عضو کو تکلیف پہنچے تو سارا جسم بے خواب و بے آرام ہو جاتا ہے جس طرح ایک جسم کے مختلف اعضاء اپنی جدا گانہ حیثیت اور انفرادیت کو برقرار رکھتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو تکلیف نہیں پہنچاتے بلکہ پورے جسم کو تقویت پہنچاتے ہیں ،اُسی طرح حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق تمام اُمت ِ مسلمہ ایک جسم کی طرح ہے اور اس کے افراد اعضاے جسم کی طرح ہے ۔ اگر جسم کا ایک عضو بھی تکلیف اور درد میں مبتلا ہو تو باقی سارے اعضائے جسم چین و آرام سے نہیں رہ سکتے، درد بے شک جسم کے کسی ایک حصے میں ہو ،اس کے لئے آنکھ اشکبارہوتی ہے، یہی رشتہ ایک مسلمان فرد کا ملت اسلامیہ سے ہونا چاہئے جو آنکھ کا پورے جسم سےہوتا ہے۔ اس درد کو شاعر نے بڑے خوبصورتی انداز میں بیان کرتے ہوئے لکھا ہے۔  ؎
مبتلائے درد کوئی عضوہو روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
دیکھا جائے تو یہی اجتماعی درد کا وہ لازوال رشتہ ہے جو ملت اسلامیہ کے افراد کی کثرت کو ایک ہی وحدت میں بدل دیتا ہے، جیسے جسم کا ایک حصہ دوسرے سےبرسر پیکار نہیں ہو سکتا بلکہ تمام اعضائے جسم کو بیرونی خطرات سے بچانے کے لئے ہر وقت متحد اور مستعد رہتے ہیں بلکہ ہر ایک کی حفاظت کی ضمانت دوسرے عضو کی حفاظت میں مضمر ہوتی ہے، ویسے ہی مسلمانوں کے مختلف فرقے اور طبقے جو جسم ملت کے مختلف اعضاء ہیں ایک دوسرے سے بر سر پیکارہو کر نہ صرف ملت کی اجتماعی سلامتی اور تحفظ کو خطرے میں ڈال رہے ہیں بلکہ اپنے انفرادی تحفظات کو بھی تباہ و برباد کر رہے ہیں ۔ 
اجتماعیت کو چھوڑ کر جدا جدا اکائیوں میں تقسیم ہوجانا اور اپنے اپنے تشخصات میں گم ہوجانا انتشار کو جنم دیتا ہے، جس سے ملت اسلامیہ کی اجتماعی قوت پارہ پارہ ہوجاتی ہے۔یہاں جس کو مرضی ہوجائے، اپنے نام کی پہچان بنانے کے لئے اسلام اور دین کے نام پر تنظیم بنالیتا ہے حالانکہ اسی نظرئے اور عقیدے سے وابستہ پہلے ہی کئی تنظیمیں موجودہوتی ہیں اس کے بعد یونٹوں کی تشکیل کا عمل شروع ہوجاتا ہے ۔جس کے سنگین نتائج ہمارے سامنے ہیں کہ ایک ہی مسلک اور عقیدے کے لوگ ایک دوسرے کے گریبانوں کو پکڑ لیتے ہے اور یہ سب کچھ دینِ اسلام کے عقائد کے نام پرہو رہا ہے ۔بالآخر فرقہ بندی اور تفرقہ پروری کی یہی زندگی ایسی موت کی طرف لے جاتی ہے جو قرآن کی اصطلاح میں کفر کی موت ہے، اسی فلسفے کی وضاحت حضور علیہ صلوات وسلام نے یوں فرمائی:
یداللہ علی الجماعة ومن شذّ شذّ الی النار (ترمذی)
’’اجتماعی وحدت کو اللہ تعالی کی تائید حاصل ہوتی ہے جو کوئی اس سے جدا ہوگا دوزخ میں جا گرے گا‘‘۔
آج ہماری حالت یہ ہوگئی ہے کہ ملت اسلامیہ مختلف طبقوں اور فرقوں میں تقسیم ہوکر اپنے اپنے مسلک کے تحفظ کو اسلام کی سلامتی اور استحکام کا ضامن گردان رہی ہے ۔المیہ یہ ہے کہ عشق رسولؐ کے دعویدار بھی کئی جماعتوں اور اکائیوں میں عوام کو بانٹ کر اسلام کی خدمت کے کھوکھلے دعوے کررہے ہیں اور توحید کے دعویدار بھی کئی جماعتوں اور اکائیوں میں عوام کو بانٹ کر دینی خدمت کے کھوکھلے دعویدار بنے بیٹھے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملت اسلامیہ سے وابستہ عوام ہی نہیں بلکہ غیر بھی تذبذب کا شکارہو کر اسلام سے دورہو رہے ہیں، اس کے ذمے دار کون ہیں، کیا کل قیامت کے دن ہم سے اس کے بارے میں سوال نہیں ہوگا؟ہر مسلک اور فرقے کے پیرو اس حقیقت سے کلی طور پر لاپرواہی برت رہے ہیں کہ اگر خدانخواستہ دشمن کے ہاتھ اسلام کے دامن تک پہنچ گئے اور خاکم بدہن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت کو اجتماعی طور پر کوئی نقصان پہنچ گیا تو ہمارے مسلکوں ،فرقوں اور ان جماعتوں کو کون سلامتی کی زمانت دے گا ؟
قرآن حکیم کی تعلیمات اور فلسفہ اعتصام (Unity) ہمیں جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر اس حکم کی طرف متوجہ کررہا ہے کہ آپسی اختلاف ،انتشارو تفرقہ سے احتراز کرکے از سر نو ملت اسلامیہ کی شیرازہ بندی کی تدبیریں کریں کہ اسی میں ہماری سلامتی اور امت مسلمہ کی بقاء ہے ۔قرآن نے باہمی جدل وپیکار کو یہودیت کا تصورِحیات قرار دیا ہے ۔تاریخ سےیہ پتہ چلتا ہے کہ جن اسباب کی بنا پر یہودیوں پر عالمگیر تباہی کے سایے مسلط کئے گئے تھے ،آج امت مسلمہ میں اگر وہی اسباب مجتمع ہو گئے تو پھر یہ بات یقینی سمجھ لیجئے کہ ویسی ہی بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر تباہی ملت اسلامیہ مقدر بن سکتی ہے۔ یہ کوئی زبانی بات یا نظریہ نہیں بلکہ قرآنی اعلان اور تاریخی مشابدے کی بات ہے کہ آپسی اختلافات ونزع اور تفرقہ پروری کے نتیجے میں قوموں کا وقار مجروح اور ان کا رعب ودبدبہ ختم ہو جاتا ہے اور دشمنوں کی نظر میں ان کی حیثیت بالکل گرجاتی ہے ،اختلاف میں نہ پڑنے کی تلقین قران میں واضح اور اعلانیہ طور پر موجود ہے جیسا کہ سورہ انفعال اور انعام کی آیات میں ارشادِ ربانی ہے:
فلا تنازعو افتفشلوا وتذھب ریحکم (الانفال)
’’پس آپس میں اختلاف میں نہ پڑو اس طرح تم بزدل بن جاوگے اور تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی۔‘‘یعنی تمہارا دبدبہ ختم ہو جائے گا۔
ان الذین فرقوا دینھم و کانوا شیعا لست منھم فی شیء (الانعام)
’’بے شک وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور کئی گروہ ہو گئے (ائے محبوبؐ) آپ کا اُن سے کوئی علاقہ (تعلق ) نہیں‘‘۔
یہ آیات ہماری آنکھیں کھو لنے کے لئے کافی ہے۔ وہ لوگ جنہوں نےعشق رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر یا توحید الٰہی کے نام پراپنی الگ الگ ڈیڑھ انچ کی مسجدیں بنارکھی ہیں، کیا یہ الگ الگ اپنی تنظیمیں بنا کر وہ لوگ اس قابل ہے کہ وہ دعویٰ کرے کہ ان کا اس شفیق پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی رشتہ ہے، جسے اس کا ربّ فرما رہا ہے کہ ائے پیارے حبیب ؐ ! آپ یہ اعلان فرمادیں کہ آپ کا  اِن تفرقہ بازوں سے کوئی رشتہ نہیں، جنہوں نے اس ملت اسلامیہ اور آپؐ کی اُمت کو فرقوں اور چھوٹی چھوٹی جماعتوں اور تنظیموں میں بانٹ کر اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اپنی جمعیت کا شیرازہ منتشر کرڈالا ۔اس سے بڑھ کر فرقہ پرستی کی مذمت اور کیا ہو سکتی ہے ۔قرآن کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اکثر ایسا ہوا ہے کہ پہلی اُمتوں کے لوگوں نے اپنی بداعمالیوں کی بنا پر خود اپنے نبی سے اپنا تعلق منقطع کرکیا اور وہ فسق و فجور اور کفروطغیان کے اندھیروں میں بھٹک گئے ۔لیکن کیا یہ بد بختی کی انتہا نہیں ہے کہ اُمت کے لوگ اخلاقی بے راہروی میں اس حد تک ملوث ہو جائیں اور دین کی اصل تعلیم سے اس طرح ہٹ جائیں کہ ان کا نبی حکم خداوندی سے خود اِن اُمتیوں سے قطع تعلق کرلے، یہ اتنی بڑی بد نصیبی ہے کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
ذرا غور کیجئے کہ یہ فرقہ پرستی کتنی بڑی لعنت ہے کہ اس کو قرآن نے کیسی بش بختی سے تعبیر کیا ہے ۔دینی وحدت کو پارہ پارہ کر ے اپنی اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجدیں الگ بنانا اور باہمی نفرت و انتشار کو ہوا دینا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی پاداش میں نبی رحمتؐ خود ایسے اُمتیوں سے قطع تعلق کر لیتے ہیں گویا اُمت کا تعلق اور رشتہ محبت ،رشتہ عقیدت ،رشتہ ایمان اپنے نبی پا ک کے دامن سے اسی وقت برقرار رہ سکتا ہے جب تک اُمتی اپنے آپ کو ایک وحدت کی لڑی میں منسلک نہ رکھیں۔
ملت اسلامیہ کے شیرازے کو تفرقہ و انتشار کے ذریعے تباہ کرنے والوں کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی سخت احکامات صادر فرمائے ہیں۔ حضور نبی رحمت شفیع امتؐ کا فرمان عبرت نشان ہے۔
’’من اتاکم وامرکم جمیع یرید ان یفرق جما عتکم فاقتلوه‘‘
(جو شخص بھی تمہاری جماعت کی وحدت اور شیرازہ بندی کو منتشر کرنے کے لئے قدم اٹھائے اس کا سر قلم کر دو۔ (ابن حجر عسقلانی بلوغ لمرام)
اسلام ملی شیرازہ بندی کی تعلیم دیتا ہے
 ’’اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے تھے اور اختلاف کرنے لگے تھے اس کے بعد بھی کہ جب ان کے پاس روشن نشانیاں آچکی تھیں‘‘  (آل عمران)
قرآن بھی ہمیں بار بار ملی وحدت اورملت اسلامیہ کی شیرازہ بندی کی تعلیم دے رہا ہے اور مسلمانوں کو تفرقہ وانتشار سے اجتناب کرنے اور اتحاد ویک جہتی کوفروغ دینے کی تاکید کی گئی ہے ۔اب غور طلب سوال یہ ہے کہ جب قرآن کی نظر میں اور رسول اللہؐ کی نظرمیں فرقہ پرستی اتنی قابل مذمت اور انتشار وافتراق کا راستہ ہے اور جب ہم سب اسے متنفر ہے تو یہ لعنت کیوں ہمارے ملی وجود اور ہماری جمیعت کو دیمک کی طرح کھو کھلا کر رہی ہے ۔اب ہمیں وقت کی پکار پر لبیک کرتے ہوئے فرقہ پرستی کی زبانی مذمت کرنے کے بجائے اس کے خاتمے کے لئے کوشش کرنی چاہئے ۔ہمیں ہر اس شخص اور تنظیم سے برأت کا اعلان کرنا چاہئے جو امت مسلمہ کی وحدت اور اخوت کے لئے خطرہ ہو ۔ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ جماعتوں اور تنظیموں کے نام پر ہمیں یونٹوں اور اکائیوں میں بانٹنے والے نہ اسلام کے خیر خواہ ہے اور نہ ہی یہ لوگ ہمارے خیرخواہ ہے ۔جو لوگ عشق رسولؐ ،عقیدہ توحید،یا اولیائے کرام سے عقیدت ومحبت کے دعویدار ہو کر اُمت کو ٹکڑوں میں بانٹ کر تفرقہ پروری اور ملت اسلامیہ میں انتشار کا باعث بنے، ہمیں ان سے یہ سوال ضرور کرنا چاہئے کہ آپ کو یہ حق کس نے دیا کہ آپ اسلام کے نام پر یہ ساری دکانیں چلائیں۔
 

تازہ ترین